مینڈھر //خطہ پیر پنچال کو وادی کیساتھ جوڑنے والی مغل شاہراہ پر چل رہی نجی گاڑیوں میں مسافروں کو لے جانے کا عمل شروع ہو گیا ہے جبکہ اس عوض میں مجبور مسافروں سے بھاری رقم وصولی جارہی ہے ۔مکینوں و مسافرو ں نے بتایا کہ کئی نجی گاڑیوں کے مالکان نے انتظامیہ کے متعلقہ آفیسران کیساتھ مل کر شاہراہ پر آنے جانے کیلئے اجازت نامے بنوائے ہو ئے ہیں جبکہ اس دوران وہ وادی جانے اور وادی سے راجوری پونچھ آتے وقت مسافروں کو بھاری کرایہ کے عوض میں لاتے اور لے جاتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ اس عمل میں کئی نجی گاڑیوں کے مالکان 3ہزار روپے تک کا کرایہ بھی وصول کررہے ہیں تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس نئے کاروبار کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی جارہی ہے ۔غور طلب ہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ کی جانب سے مغل شاہراہ پر گو جر بکروال طبقہ کیساتھ ساتھ ضروری سہولیات کے سلسلہ میں قاعدہ کے تحت گاڑیوں کے چلنے کی اجازت دی تھی تاہم عام مسافر گاڑیوں کے چلنے پر مسلسل بندشیں عائد ہیں تاہم اس دوران کئی نجی گاڑیاں اجازت ناموں کیساتھ شاہراہ پر چل رہی ہیں ۔عام لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ نجی گاڑیوں کے مالکان کی جانب سے ایک نیا کارو بار شروع کر دیا گیا ہے جبکہ مسافروں کو منتقل کرنے کیلئے بھاری رقم وصول کی جارہی ہے ۔انہوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ بالخصوص ڈی سی پونچھ او ر ایس ایس پی پونچھ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ شاہراہ پر سفر کرنے کے سلسلہ میں کرایہ کا تعین کیا جائے جبکہ نجی گاڑیوں کے مالکان کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔