عظمیٰ نیوز سروس
جموں// جموں و کشمیر حکومت نے واضح کیا ہے کہ مغل روڈ ٹنل (پیر کی گلی ٹنل) کے لیے ٹینڈر جاری کرنے کا عمل فی الحال ممکن نہیں، کیونکہ منصوبہ ابھی ابتدائی منظوریوں کے مراحل میں ہے۔محکمہ تعمیرات عامہ کے مطابق، ٹنل کے لیے مجوزہ الائنمنٹ ڈی پی آر کنسلٹنٹ ایم/ایس ایس ایم ای سی (انڈیا) پرائیویٹ لمیٹڈ نے تیار کر کے وزارتِ سڑک و ٹرانسپورٹ کو پیش کیا تھا، جس پر 21 جنوری 2026 کو تفصیلی بحث ہوئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک الائنمنٹ کو وزارت کی طرف سے باضابطہ منظوری نہیں ملتی، ڈی پی آر کی تیاری شروع نہیں کی جا سکتی۔جواب میں مزید کہا گیا کہ ٹنل کی تعمیر کے لیے ٹینڈر اسی وقت جاری کیے جائیں گے جب وزارتِ سڑک و ٹرانسپورٹ کی جانب سے ڈی پی آرمنظور کیا جائے گا اور اس کے بعد جنگلات، وائلڈ لائف اور اراضی حصول سمیت تمام قانونی کلیئرنسز حاصل کی جائیں گی۔حکومت نے اس مرحلے پر ٹینڈر جاری کرنے کے کسی مخصوص وقت یا تاریخ کے بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی، تاہم یہ ضرور کہا کہ تمام ضابطوں کی تکمیل کے بعد ہی اگلے اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومت نے ایوان کو یہ بھی مطلع کیا کہ سرینگر میں کانوینٹ سکول اور جنرل پوسٹ آفس (جی پی او)کے قریب ایک نئے پل کی تعمیر کی تجویز فی الحال محکمہ تعمیرات عامہ(آر اینڈ بی) کے پاس زیر غور ہے۔ حکومت نے کہا، کانونٹ روڈ (جاگرز پارک) سے ایم اے لنک روڈ بذریعہ شیروانی روڈ دریائے جہلم کے اوپر وی او پی/پل/فلائی اوور کی تعمیر کے لیے ایک تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) اور تکنیکی سروے کے بعد دوبارہ سروے کرنے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔پروجیکٹ کی تخمینہ لاگت 143.89 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ ڈی پی آر منظوری کے لیے محکمہ خزانہ کو پیش کر دیا گیا ہے۔حکومت نے کہا کہ اس منصوبے میں مزید اقدامات ضروری منظوریوں کے بعد کیے جائیں گے۔