بانہال/محمد تسکین/ معروف سرجن ڈاکٹر سید خورشید اقبال ساکن صنعت نگرپیر کو مختصر علالت کے بعد نارائن ہسپتال جموں میں انتقال کرگئے۔ موصوف 65 برس کے تھے۔ضلع رام بن کے علاقہ درشی پورہ بانہال میں پیدا ہوئے ڈاکٹر خورشید ایک شریف النفس انسان تھے۔ وہ ایک ہمدرد ڈاکٹرتھے جس کی وجہ سے وہ مریضوں میں بہت مقبول تھے۔ اُن کی انسان دوستی کی وجہ سے طبی حلقوں میں ہی نہیں بلکہ اُن کے مریضوں اور عام لوگوں نے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔بانہال سے کئی برس قبل کشمیر منتقل ہونے کے باوجود موصوف آج بھی آبائی علاقے کے مریضوں اور عام لوگوں کی بہت قدر کرتے تھے جس کے نتیجے میں انہیں اشکبار آنکھوں سے یاد کیا جارہا ہے۔موصوف زنانہ امراض کے معروف معالج ڈاکٹر سید نصیر کے برادر ِاکبر اورسابق کے اے ایس افسر تصدق جیلانی کے چچیرے بھائی تھے۔ادھر اُن کے انتقال پر طبی و نیم طبی حلقوں سمیت سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد نے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر (ڈاک) نے اُن کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیاہے۔ڈاک صدرڈاکٹر نثار الحسن نے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعاکی۔ڈاک صدر نے مرحوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اقبال کی موت طبی برادری کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے ۔انہوں نے کہا’’ہم ایک جوہر کھو چکے ہیں‘‘۔ڈاکٹر خورشید نے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں سے ایم بی بی ایس کیا تھااور پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد میڈیکل کالج سرینگر کے محکمہ سرجری میں رجسٹرار کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے بیرون ملک کافی مہارت حاصل کرنے کے بعد کشمیر میں صحت کی خدمات کو انجام دینے کی شروعات کی۔ڈاکٹر اقبال فی الوقت ڈبلیو ایچ او اور آئی سی آر سی کے ساتھ بحیثیت مشیر کام کر رہے تھے۔ نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے گہرے صدمے کا اظہارکرتے ہوئے مرحوم کے جملہ سوگواران اور پارٹی لیڈر و صدرِ ضلع رام بن سجاد شاہین کے ساتھ بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے حق میں مغفرت کی دعا کی۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر ، صوبائی صدر دیوندر سنگھ رانا، سینئر لیڈران سجاد کچلو، خالد نجیب سہروردی اور اعجاز جان نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔