ہرآلائش و آلودگی سے تطہیر و پاکیزگی حاصل کرنا فطرتِ انسانی کا جزلاینفک ہے، صرفِ نظر اس کے کہ یہ جذبہ کسی میں کم اور کسی میں زیادہ پایا جاتا ہے لیکن کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جو ناپاکی کو پسند کرتا ہو۔ظاہر ہے کہ جب انسان کا دل و باطن پاک و صاف ہوجاتا ہے تو کئی مسائل از خود حل ہوجاتے ہیں اور جب انسان تصفیۂ قلب و باطن کی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے تو ظاہری نفاست بھی اس کے حق میں بے سود ثابت ہوتی ہے،گویا انسانیت کی فلاح و کامیابی کا دارومدار ظاہری زیب و زینت سے کہیں زیادہ تصفیۂ قلب و باطن پر منحصر ہے۔
اصلاحِ معاشرہ کی کوئی بھی تحریک ،کوشش اور سعی اْس وقت تک بار آور ثابت ہو ہی نہیں سکتی جب تک انسان تطہیر ظاہر کے ساتھ تصفیۂ باطن کا اہتمام نہ کرے۔جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ،سچی بات کرتے ہیں ،سیدھے راستے پر چلتے ہیں ،راستی ،کھلا پَن اور معاملات کو سیدھی طرح چلانے کے پابند ہوتے ہیں اور الفاظ کے جال میں ایک دوسرے کو پھنساکر وقت ضائع نہیں کرتے ہیں ،اْن کے تمام کام سنور جاتے ہیں ،اْن کی تمام خطائیں مِٹ جاتی ہیں،غفلتیں دور ہوجاتی ہیں ،مسائل حل ہوجاتے ہیں اور وہ کامران و کامیاب کہلاتے ہیں۔
اس اعتبار سے جب ہم بھارت کے کسی بھی معاشرے پر نظر ڈالتے ہیںتو یہ چیزیں کافی حد تک ناپید دکھائی دیتی ہیںاور جن کے بْرے نتائج تواتر کے ساتھ آج بھی ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ہم یہاںمحض اپنے کشمیری معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو اس میں بھی یہ چیزیں عنقا ہوچکی ہیں۔بلا شبہ کشمیر ی معاشرے کی یہ بدنصیبی ہے کہ اْن کی ملی یا معاشرتی زندگی میں ایسا کوئی اصول کارفرما نہیں رہا جس کی بنیاد پر اْنہیں کوئی اچھی قیادت میسر ہوسکے اور افسوس ناک امر یہ بھی رہا ہے کہ کشمیر ی معاشرے میں جو بھی کوئی حکمران بنا،وہ محض اپنی انّا کو تسکین دیتا رہا اور اپنی مرعوبیت کے لئے دوسروں کو دھتکارتا رہا ،اپنی اہمیت جتانے کے لئے بڑے بڑے دعوے ،لمبے لمبے قصے اور خوش کْن دلیلیں پیش کرتا رہا ،جس سے اْن کے اور اْن کے اہالیوںاور موالیوں کی تو عیش ہوگئی لیکن نہ تو کشمیر کو کچھ ملا اور نہ ہی نظام میں کوئی تبدیلی آئی۔ معاملات اگر اسی حد تک ہوتے تو شاید صرفِ نظر کرلیا جاتا مگر اْن کے اس طرز عمل سے معاشرے کی نوجوان نسل تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔
آج کل اخبارات میں روزانہ ایسے بہت سارے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں یاسوشل میڈیا پر آرہے ہیںجن میں اصلاح ِ معاشرہ ،نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت ،والدین کی ذمہ داریاں،انسانیت کی بقا ، فلاح و بھلائی کے احکام اور دیگر سماجی مسائل کے متعلق دینی اور دنیاوی دلائل کے ساتھ پڑھنے اور سْننے کو توملتے رہتے ہیںلیکن زمینی سطح پر ان کا ذرہ بھرکوئی اثر دکھائی نہیں دیتا ہے۔خاص طور پر معاشرے کی نوجوان نسل کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر بعض عوامی حلقے زبردست تشویش میںمبتلا ہوکر یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیںکہ معاشرے میں پھیلی ہوئی خرابیاں ،بْرائیاں،بے راہ روی اور بے حیائی ہم کو زوال کے غار کی طرف دھکیل رہی ہے۔جدیدیت ،نام نہاد ترقی پسندی،سیکولرازم اور مغرب کی اندھی تقلید نے قدم قدم پر ہمارے نوجوان کو متاثر کیا ہے۔ان کا لباس ،ان کی چال ڈھال اور اندازِ گفتگو سب کچھ بدل گیا ہے۔وقت کے ساتھ بدلتے فیشن کو اپناناہر نوجوان اپنا حق سمجھتا ہے۔ایک طرف جہاں ہمارے نوجوانوں کا ایک طبقہ بے ڈھنگ اور بے ترتیب بالوں کے اسٹایل کا دلدادہ بن گیا ہے ساتھ ہی وہ کانوں میں بالی،گلے میںلاکٹ،کھلے گریبان، کلائیوں میں کڑا اور ہاتھوں میںموبائیل اور سگریٹ لئے نظر آتا ہے تو دوسری طرف نوجوان لڑکیوں کی بھی ایک خاصی تعدادبھوندے سینڈل، چھوٹے بال اور مردانہ لباس زیب تَن کئے ہوئے فخر سے گھومتی رہتی پھرتی ہیں۔ان لڑکوںاور لڑکیوں کو دیکھ کر بعض اوقات یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ نَر ہے یا ناری۔ہماری یہ نوجوان نسل اپنا حْلیہ کیوں بگاڑ رہا ہے شاید اْن کے بڑے بزرگ اور والدین بھی یہ سمجھ نہیں پاتے اور نہ ہی ان پر کنٹرول کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ایک طرف وہ نوجوان جو آسودہ گھرانوں کے چشم و چراغ ہیں،جنہیں گھر والوں کی طرف سے جسم کی زیبائش و آلائش کے لئے تمام تر سہولیات میسر ہیں،اپنا حلیہ بگاڑتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیںتو دوسری طرف وہ نوجوان طبقہ جو متوسط یا غریب گھرانوں سے تعلق رکھتا ہے، بھی دیکھا دیکھی کے عالم میں احساس ِ کمتری کا شکار ہوکراپنے خواہشات کی تکمیل کے لئے عجیب و غریب وضع قطع اپناتا رہتا ہے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے محلات اور اشیائے تعیش کو دیکھ کر درمیانہ طبقے کی نوجوان نسل یہ سب کچھ کرنے کے لئے اور بعض اوقات عشق و محبت پر مبنی کہانیوں کو حقیقت کا رنگ بھرنے کی کوشش میںکوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیںاور اس طرح ہماری نوجوان نسل اپنی تمام اقدار اور روایات کو چھوڑ کر غیروں کی تہذیب و تمدن کے غلام بن کر رہ گئی ہے۔اگرچہ شرم و حیا سے عاری معاشرہ کبھی بھی ہمارا کلچر نہیںرہا مگر اب معاشرے میں بے حسی و بے شرمی تیزی کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔
حق تو یہ بھی ہے کہ جس قوم یا معاشرہ میں دیانت داری ،حق پرستی ،انصاف اور احساس ذمہ داری کا جذبہ باقی نہیں رہتا، وہ معاشرہ ہر معاملے میں زوال پذیر ہوجاتا ہے۔مایوسی ،مشکلات اور غلامی اْس کا مقدر بن جاتی ہے۔چونکہ کشمیری معاشرے میں مختلف معاملات کی اہمیت اور افادیت کافی حد تک گھٹ گئی ہے اس لئے معاشرتی بْرائیوں میں بھی لا متناہی اضافہ ہوچکا ہے۔جس سے نہ صرف کشمیریوں کی ذاتی زندگی اجیرن ہوگئی ہے بلکہ اجتماعی زندگی بھی کافی بْرا اثر پڑ چکا ہے۔بغور جائزہ لیا جائے تو بْرائیوں نے ہمیں نہیں گھیرا بلکہ ہم نے خود بْرائیوں اور خرابیوں کو اپنایا ہے۔ہم نے اپنی خود غرضی ،بے ایمانی،کوتاہی ،سْستی اور دین سے بے زاری کی وجہ سے زیادہ تر بْرائیوں اور خرابیوں کو خود جنم دیا ہے۔ہم نے دوسروں کی نقالی کے جنون میں اپنے آپ کو بھْلاکر اپنی خوبیوں اور اپنے اقدار کو خیر باد کہہ دیا ہے۔معاشرتی تقاضوں کا شعور ہر کوئی بھول چکا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہر معاملے میں ہم دن بہ دن پست ہورہے ہیں ،ہر میدان میں ہمارا نقصان ہورہا ہے یہاں تک کہ ہمارا تہذیب و تمدن،ہمارے اقدار اور ہماری اسلامی روایات کی عکاسی تک معدوم ہوتی جارہی ہے۔نوجوان نسل کی بے راہ روی ،بے حیائی ،خود سری ،ہْلڑ بازی اورغیر مسلموں کی نقالی کا عمل بھی ہمارے اِنہی کرموں کی ایک کڑی ہے۔
آج ہمارے پاس ظاہری پاکیزگی تو ہے لیکن دِل کی دنیا ویران اور اندھیرو ں میں ڈوبی ہوئی ہے ،ہماری زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں انسانیت دم نہ توڑ رہی ہو۔بْرائیوں اور خامیوں کو دور کرنے میں ہمیں بحیثیت مسلمان پہل کرنے کی ممکنہ کوشش کرنی چاہئے۔ہماری نوجوان نسل جس راستے پر چل پڑی ہے وہ کسی صورت میں معاشرتی اقدار کے حق میں نہیں جاتا بلکہ معاشرے کو مزید زوال پذیر بنانے میںانتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔