عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نےکہا کہ دنیا کا بھارت پر اعتماد ہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے، اور اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بھارتی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز اخلاقی، غیر جانبدار، شفاف اور ڈیٹا پرائیویسی کے اصولوں پر مبنی ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی اسٹارٹ اپس کو اسی ملک سے عالمی قیادت کی سمت کام کرنا چاہیے۔انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 سے قبل بھارتی اے آئی اسٹارٹ اپس کے ساتھ ایک گول میز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت دنیا کو ایک ایسا منفرد اے آئی ماڈل پیش کر سکتا ہے جو سستا، جامع اور اختراعی ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اے آئی ماڈلز کو مقامی اور دیسی مواد، علاقائی زبانوں اور ’’میڈ اِن انڈیا، میڈ فار دی ورلڈ‘‘ کے وژن کی عکاسی کرنی چاہیے۔اجلاس میں 12 ایسے بھارتی اے آئی اسٹارٹ اپس نے شرکت کی جو اگلے ماہ ہونے والے ’’اے آئی فار آل: گلوبل امپیکٹ چیلنج‘‘ کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسٹارٹ اپس اور اے آئی انٹرپرینیورز بھارت کے مستقبل کے شریک معمار ہیں اور ملک میں اختراع اور بڑے پیمانے پر نفاذ کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔مودی نے مصنوعی ذہانت کو سماجی تبدیلی کا ایک طاقتور ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اگلے ماہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کی میزبانی کرے گا، جس کے ذریعے عالمی ٹیکنالوجی شعبے میں ملک کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اے آئی کے ذریعے تبدیلی لانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔یہ اسٹارٹ اپس مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جن میں بھارتی زبانوں پر مبنی فاؤنڈیشن ماڈلز، ملٹی لنگول لارج لینگویج ماڈلز، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ، ٹیکسٹ ٹو آڈیو اور ٹیکسٹ ٹو ویڈیو ٹیکنالوجی، ای کامرس اور مارکیٹنگ کے لیے جنریٹو اے آئی، انجینئرنگ سیمولیشنز، مٹیریل ریسرچ، ڈیٹا اینالیٹکس، اور صحت کے شعبے میں تشخیص و طبی تحقیق شامل ہیں۔اس اجلاس میں اوتار، بھارت جین، فریکٹل، گین، جین لوپ، گنانی، انٹیلی ہیلتھ، سروَم، شودھ اے آئی، سوکیٹ اے آئی، ٹیک مہندرا اور زینٹیک سمیت کئی معروف اسٹارٹ اپس کے سی ای اوز اور نمائندے شریک ہوئے۔ مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و آئی ٹی اشونی ویشنو اور وزیر مملکت جیتن پرسادا بھی اجلاس میں موجود تھے۔