قاہرہ// مصر کے صوبے شمالی سیناء کے شہر العریش میں جمعے کے روز ایک مسجد کے احاطے میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں آخری اطلاعات آنے تک 230 افراد جاں بحق اور 130 سے زیادہ زخمی ہو گئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ مصر کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔مصری میڈیا کے مطابق دہشت گردوں نے دھماکا خیز مواد مسجد کے نزدیک نصب کیا تھا جو جمعے کی نماز کے دوران پھٹ گیا۔ دھماکے کے بعد 50 کے قریب ایمبولینس کی گاڑیاں جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دی گئیں۔عینی شاہدین کے مطابق زخمیوں کو منتقل کرنے کی کارروائی کے دوران نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے ایمبولینس کی گاڑیوں پر فائرنگ بھی کی۔جمعے کی سہ پہر مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے زیر صدارت سکیورٹی کمیٹی کے ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا جا رہا ہے جس میں العریش میں مسجد میں ہونے والے دھماکے کے بعد امن و امان کی صورت حال اور آئندہ لائحہ عمل پر بات چیت ہو گی۔مصری حکام نے غزہ کو بیرونی دنیا سے ملانے والی رفح کی سرحدی کراسنگ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پہلے ہی بند کر دی تھی۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اس الم ناک واقعے پر ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔قاہرہ سے العربیہ کی نامہ راندہ ابو العزم نے بتایا ہے کہ مصری فوج کے سربراہ خود سیناءمیں بم دھماکے کے ملزموں کے خلاف سرچ آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ چار مسلح افراد نے نمازیوں پر گولیاں چلانا شروع کر دیں۔سنہ 2013 کے بعد سے مصر میں حکومت کی سخت اسلامی نظریات کے حامل باغیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت آئی ہے۔ ایک خبر کے مطابق حملے میں بظاہر سکیورٹی فورسز کے حامی لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو اس وقت مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔جمعے کے نماز کے وقت ہونے والا یہ حملہ کس نے کیا یہ تاحال معلوم نہیں ہو سکا۔ سنہ 2013 میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے بغاوت میں شدت آئی اور حملوں کا آغاز ہوا۔ تب سے سینکڑوں پولیس اہلکار، فوجی اور عام شہری حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔