بیجنگ//بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ کے پیانگیانگ جھیل علاقے میں جاری تنائو اور کشیدگی کے بیچ چین نے بدھ کو کہا کہ بھارت کوایسی کارروائیوں سے گریز کرناچاہیے جن سے یہ مسئلہ ’’پیچیدہ‘‘ بن جائے اورکہا کہ چین کے فوجی حقیقی کنٹرول لائن کے اُس پار’’ معمول کاگشت‘‘ کررہے ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا سرحد پر مسلسل تنائواورچینی فوج کی کارروائی کا کسی طور بھارت کے اُن منصوبوں سے نااتفاقی کا کوئی تعلق ہے جن کا مقصد تجارت کو چین سے باہر لیجانا ہے ،تو چینی ترجمان نے کہا کہ فوجوں کے آمنا سامنا ہونے پر دونوں ممالک سفارتی سطح پررابطے میں ہیں ۔چینی ترجمان زوہائو لیجن نے کہا کہ چین کا سرحدکے مسئلہ پر موقف صاف اور واضح ہے ۔چینی کے سرحدی فورسزسرحد پر امن اور طمانیت بنائے رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چین ،حقیقی کنٹرول لائن کے اپنے طرف سے سرحد پر معمول کی گشت کررہا ہے۔ہم بھارت پرزوردیتے ہیں کہ وہ کوئی پیچیدہ قدم اُٹھانے سے گریز کرے اورتاہم باہمی تعلقات کو بہتر بنانے اورخطے میں امن وامان اوراستحکام قائم کرنے کیلئے سازگارماحول بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف سرحدی معاملات پر رابطے میں رہتے ہیں ۔ 5اور6مئی کو پیانگیانگ جھیل لداخ میں دونوں ممالک کے درمیان تنائو پیدا ہونے کے بعد سے چین نے خاموشی اختیار کی تھی اور اس کے سرکاری ذرائع ابلاغ اداروں نے بھی اس کی ابھی تک اطلاع نہیں دی۔سوموار کو اس بارے میں پوچھے جانے پر زہائو نے اس کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ چینی فورسزوہاں امن اوراستحکام کو بنائے رکھنے کیلئے پرعزم ہیں.۔انہوں نے کہا کہ کووِڈ- 19کی وباء اس وقت پورے عالم میںاہم نوعیت کا مسئلہ ہے اور ہمیں اس مسئلہ کوسیاست زدہ نہیں کرناچاہیے ۔