سپلائی خدشات پر عوام پریشان، سلنڈر نہ ملنے کی شکایات
سرینگر//مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب کشمیر میں بھی محسوس کیے جانے لگے ہیں، جہاں ممکنہ سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر لوگوں میں ایل پی جی سلنڈروں کی خریداری کے لیے بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ وادی کے مختلف علاقوں میں گیس ایجنسیوں اور تقسیم مراکز کے باہر طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں جہاں صارفین کئی کئی گھنٹے انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔
ذرائع کے مطابق سری نگر سمیت وادی کے کئی اضلاع میں بڑی تعداد میں لوگ اپنے گیس سلنڈروں کی ریفل حاصل کرنے کے لیے صبح سے ہی ایجنسیوں کے باہر جمع ہو رہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے باقاعدہ طور پر گیس بک کرائی اور تصدیقی پیغام بھی موصول ہوا، لیکن اس کے باوجود سلنڈر گھروں تک نہیں پہنچ پا رہے جس کی وجہ سے انہیں خود تقسیم مراکز کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران گھریلو ضروریات میں اضافے کے باعث گیس کی کھپت پہلے ہی بڑھ جاتی ہے۔
ایسے میں سپلائی میں تاخیر اور عالمی حالات کی خبروں نے لوگوں کو مزید فکرمند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد خاندان اضافی سلنڈر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کئی علاقوں سے یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ گیس بکنگ کے نظام میں تاخیر ہو رہی ہے اور بعض صارفین کو او ٹی پی پیغامات وقت پر موصول نہیں ہو رہے، جس سے انہیں طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔دوسری جانب گیس ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ وادی میں فی الحال ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں ہے اور سپلائی کا نظام معمول کے مطابق جاری ہے۔ تاہم ان کے مطابق موجودہ رش کی بڑی وجہ لوگوں کی جانب سے احتیاطاً اضافی سلنڈر حاصل کرنے کی کوشش ہے جس سے عارضی طور پر دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔ڈسٹری بیوٹرز کے مطابق عام حالات میں ایک مخصوص علاقے میں چند گھروں کو سلنڈر فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن اس وقت جب ڈیلیوری گاڑیاں پہنچتی ہیں تو کئی لوگ فوری سلنڈر حاصل کرنے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں۔ اس دباؤ کے باعث بعض اوقات بغیر بکنگ کے بھی سلنڈر دینا پڑتے ہیں جس سے پہلے سے بکنگ کرانے والوں کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔