بالآخر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایرانی قوم اور اُن کے رہنمائوں کی حب الوطنی،دلیری اور جذبۂ قربانی کے آگے اپنی ہیکڈی چھوڑنی پڑی اور ایران کے دس نکاتی مسودے پرقبولیت کے بعد دو ہفتوں تک جنگ بندی کا اعلان کرنا پڑا،جس پر ایران بھی راضی ہوا۔ اس جنگ بندی کی نہ صرف عالمی سطح پر پزیرائی ہوئی ہےبلکہ بغیر اسرائیل کےدنیا بھرکے تمام ممالک نے خوشی و اطمینان کا اظہارکیا ہے۔کیونکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو’ پتھر کے زمانے میں پہنچانے ‘کی ڈیڈ لائن بھی مقرر کردی تھی اورکہاتھا کہ اگر ایران نے امریکی شرائط قبول نہ کئے اور آبنائے ہرمز کو بحال نہیں کیا تو اُ س کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی ۔جس کے نتیجے میں نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک نازک اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی تھی بلکہ عالمی سطح پر بھی انتہائی تشویش ناک صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔ظاہر ہے کہ قریباً ڈیڑھ ماہ کےایران ۔امریکہ جنگ کے دوران جہاں ایک طرف جنگی کاروائیاں شدت اختیار کرتی جارہی تھیں وہیں دوسری طرف عالمی سطح پر جنگ بندی کے لئے سفارتی کوششیں بھی جاری تھیں۔
مگر ڈونالڈ ٹرمپ کی بے جا اور نازیبا بیان بازیوں سے اُن کوششوں میں پیش رفت نہیں ہوپارہی تھی۔یہاں تک کہ خود ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی اَنّا اور ضد نہیں چھوڑی،اُنہوں نے اپنی دھمکی کی ڈیڈلائین کے فوراً بعدایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرکےگویا بات چیت سے قبل ہی اپنی ہار تسلیم کی اور دس نکاتی ایرانی مسودے کو قبول کرکے اس پر گفت و شنید کرنے کی حامی بھرلی ۔ قابل ذکر بات ہے کہ ایران پر ٹھونسی گئی امریکہ کی اس جنگ کے آغاز پر ہی ایران نے واضح کیا تھاکہ یہ جنگ امریکہ نے شروع کی ہے لیکن اس جنگ کا اختتام ایران ہی کرے گا۔چنانچہ موجودہ صورت حال کو دیکھ کر ایران کی یہ بات صحیح ثابت ہو رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے پاس ہی رہے گا اورایران پر عرصۂ دراز سے جاری پابندیوں کو بھی ہٹایا جائے گا ۔حقیقت میں واقعی ایسا ہوگا اور اس پر عمل درآمد کب ہوگا ،اس پر قبل از وقت کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔حالانکہ رواں سال کے ماہِ فروری کی28 تاریخ کو ہی اومان ؔمیں بات چیت کے دوران ایران و امریکہ کے مابین مسائل کا حل نکل آیا تھا ،لیکن ڈونالڈ ٹرمپ کی عہد شکنی اور بلا جواز ٹھونسی گئی جنگ نے ہی ’’آبنائے ہرمز‘‘ کا مسئلہ کھڑا کردیا ،جسے آج ایران کو بطور تحفہ دے دیا گیا ہے۔ ماہرین کے نزدیک آبنائے ہرمز کی بندش یا عدم استحکام نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لئے شدید دھچکا ثابت ہوا ہے کیونکہ یہ براہ ِراست عالمی تیل کی ترسیل کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بے شک امریکہ ایران کی اس جنگ کے دوران عالمی طاقتوں کی جانب سے جہاں مذاکرات کی باتیں کی جاتی رہیں،وہیں دوسری طرف ممکنہ فوجی کاروائیوں کے اشارے بھی ملتے رہے ،اسی تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے جنگ بندی کے حوالے سے تحفظات بھی سامنے آتے رہے۔کیونکہ اس جنگ کے اثرات مشرق وسطیٰ سے باہر نکل کر عالمی سطح پر محسوس کئے جانے لگے۔توانائی کی قیمتوں میں اُتارو چڑھائو ،عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور سفارتی کشیدگی میںاضافہ اس بات کے علامات ہیں کہ یہ بحران محض علاقائی نہیں رہا بلکہ عالمی مسئلہ بنتا گیا۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ جلد از جلد ختم نہیں ہوتی تو اس کے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں۔مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار ہے اور ایک بڑی جنگ نہ صرف وہاں کے ممالک کی معیشت ،بنیادی ڈھانچے اور سماجی تانے بانے کو تباہ کرسکتی ہے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا تک پھیل سکتے ہیں۔عالمی سطح پر تیل کی قلت ،مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ،خوراک کی فراہمی میں رکاوٹیں اور بین الاقوامی تجارت کا متاثر ہونا ایسے نتائج ہوں گے جن سے عالمی نظام بُری طرح ہل سکتا ہے۔اب جبکہ دونوں ملکوں کے ذمہ دار رہنمائوں کے مابین کل یعنی جمعہ کے روز پاکستان میں گفت و شنید ہورہی ہے،جس میں ایرانی مسودے پر غور وخوض تو امید کی جاسکتی ہے کہ دونوں ملک کسی نہ کسی لائحہ عمل پر متفق ہوجائیں اور امن و امان کی صورت حال بحال ہوسکے۔امن ہی وہ واحد راستہ ہے جو خطے اور دنیا کو ایک بڑے انسانی اور معاشی بحران سے بچا سکتا ہے۔ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ عسکری مداخلت اکثر مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، جبکہ سفارت کاری ہی ایک پائیدار اور مؤثر حل فراہم کر سکتی ہے۔