ڈاکٹر موریس بکائلے نے بائبل ، قرآن اور سائنس کے نام سے ایک شہرہ آفاق کتاب تصنیف کی جس نے پوری دنیا کے علمی و تحقیقی حلقوں میں ایک تہلکہ مچا دیا۔یہ کتاب شائع ہوتے ہی لاکھوں کی تعداد میں خریدی گئی اور بہت زیادہ پسند کی گئی۔اس کتاب کا ترجمہ انگلش، اردو، عربی، ترکش، انڈونیشین، فارسی اور جرمن زبانوں میں کیا گیا۔اس کتاب میں موصوف نے قرآن مجید اور بائبل کی ان آیات کا (جو سائنسی حقائق کے متعلق اشارہ فراہم کرتی ہیں )موازنہ جدید سائنسی تحقیق و حقائق سے کیا۔تقابلی مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ "بائبل اور قرآن مجید کی مشترک سائنسی موضوعات پر آیات کا سائنسی حقائق کے ساتھ موازنہ ایک بنیادی فرق کو واضح کرتا ہے۔وہ یہ کہ قرآن میں کوئی ایسا بیان نہیں ملے گا جو جدید سائنسی علوم کے منافی ہو۔ جبکہ بائیبل میں متعدد ایسے بیانات ہیں جو جدید تحقیق کے متصادم ہیں".قرآن مجید اور سائنس کے متعلق ان کا یہ دو ٹوک (Categorical)بیان تھا۔لیکن احادیث اور سائنس کا تقابلی جائزہ لینے کے بعد انہوں نے کئی اعتراضات علماء کرام کے سامنے درج کئے۔احادیث کے معاملے میں وہ سائنسی تعبیر کے حوالے سے اتنا اطمینان نہیں رکھتے جتنا کہ قرآن مجید کے ضمن میں رکھتے تھے۔اگرچہ یہ بات درست ہے کہ احادیث کی کتب میں بے شمار ایسی احادیث روایت کی گئی ہیں جن پر علمائے حدیث نے کلام کیا ہے۔لیکن مورس بکائلے نے چند ایسی احادیث پر بھی اعتراض کیا تھا جو سند کے اعتبار سے عالی مقام رکھتی ہیں۔جیسے بخار کی وجہ، مکھی کا دودھ میں گرنا، انسان کی تخلیق، اونٹ کا پیشاب وغیرہ۔ہمارا ایمان ہے کہ احادیث بھی وحی کی ایک شکل ہے۔قرآن مجید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اعلان کیا " لوگو! تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے اور وہ خواہش نفس کے مطابق نہیں بولتا بلکہ وہ جو کچھ بولتا ہے وہ سوائے وحی کے کچھ نہیں ہوتا جو اس کی طرف کی جاتی ہے۔"زبان رسالت سے نکلا ہوا ہر مبارک لفظ وحی کیا گیا ہے ماسوائے ان کے جن کے متعلق خود نطقِ رسالت سے ممانعت فرمائی گئی۔وحی کا یہ مقام ہے کہ جو علم وحی کے ذریعے انسان کو حاصل ہوا ہے اس سے زیادہ مستند، معتبر، صادق اور حقیقی کسی اور علم کی شکل قطعاً نہیں۔اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ صداقت و حقیقت کے اس مقام پر فائز ہے جہاں پر ظن و گمان کے وجود کو بھی شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔احادیث اور سائنس کے حوالے سے بڑے اعتراضات کئے جاتے ہیں جس کا شکار بڑے بڑے ذہین لوگ بھی ہوئے ہیں۔ان حضرات نے باوجود اس کے کہ احادیث کو وحی کی ایک قسم تسلیم کرتے بلکہ دبے ہوئے الفاظ میں اس کا کلی انکار کر دیا ہے۔ انکار حدیث کی شکل میں برآمد شدہ یہ فتنہ اپنے نفس میں اس اعتراض کو نمایاں مقام دیتا ہے جو حدیث اور سائنس کے حوالے سے علمی حلقوں میں اپنی شکل ظاہر کر چکا ہے۔انکار حدیث کے فتنے کی محرکات زیر بحث موضوع کی غلط فہمی کے علاوہ اور بھی بہت سارے ہیں جن پر بات کرنا ابھی مقصود نہیں۔ان اعتراضات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے راسخ العقیدہ مسلم سائنسدانوں کو سامنے آنا چاہیے جو نہایت ہی احتیاط اور اعتدال کے ساتھ ان احادیث پر تحقیق کریں جو سائنسی حقائق کے متعلق اشارہ فراہم کرتی ہیں۔ایسی بات بھی نہیں ہے کہ مسلم دنیا میں اس حوالے سے سرے سے کوئی تحقیقی پیش رفت نہیں کی جارہی ہے۔الحمدللہ بہت سارے ایسے مسلم محقیقین کی تحقیقات سامنے آرہی ہیں جو معترض حضرات کے اعتراضات کو دور کرنے کی اہل ہیں۔احادیث میں جو سائنسی اشارات پائے جاتے ہیں اگر وہ دستیاب شدہ سائنسی ذخیرہ علم سے مطابقت نہیں رکھتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان احادیث کا انکار کیا جائے اگرچہ وہ احادیث علم حدیث کے اعلیٰ شرائط پر پوری اترتی ہوں۔اس قسم کا رویہ غیر علمی ہے۔کیونکہ ابھی سائنس اس مقام پر نہیں پہنچ چکی ہے کہ وہ وحی کے ذریعے سے حاصل شدہ علم کا احاطہ کر سکے اور نہ ہی سائنس کے لئے یہ ممکن ہے۔جو سائنسی حقائق احادیث میں بیان ہوئے ہیں آج سائنس تحقیق و تدقیق کرکے ان کی تصدیق کر رہی ہے اور سائنس کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں کیونکہ سائنس خود وحی کی محتاج ہے۔
مکھی کے حوالے سے جو حدیث وارد ہوئی ہے اس کے الفاط یہ ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب مکھی کسی کے پینے ( یا کھانے کی چیز ) میں پڑ جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور اس کے دوسرے ( پر ) میں شفاء ہوتی ہے۔‘‘ موریس بکائلے صاحب نے اس حدیث پر بھی اعتراض کیا تھا کیونکہ اس وقت اس موضوع پر کوئی سائنسی تحقیق نہیں ہوئی تھی اور یہی اعتراض لے کر وہ ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کے پاس گئے تھے۔ اس اعتراض کے جواب میں جو شاندار جواب ڈاکٹر حمید اللہ نے دیا تھا وہ بھی ملاحضہ فرمائیں:"ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں نے میٹرک میں سائنس کی ایک دوکتابیں پڑھی تھیں۔ اس وقت مجھے کسی نے بتایا تھا کہ سائنس دان جب تجربات کرتے ہیں، تو اگر ایک تجربہ دومرتبہ صحیح ثابت ہوجائے، تو سائنس دان اس کو پچاس فیصد درجہ دیتا ہے اور جب تین چار مرتبہ صحیح ثابت ہوجائے، تو اس کا درجہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح چار پانچ مرتبہ کے تجربات میں بھی اگر کوئی چیز صحیح ثابت ہوجائے، تو آپ کہتے ہیں کہ فلاں بات سو فیصد صحیح ثابت ہوگئی۔ حالاں کہ آپ نے سو مرتبہ تجربہ نہیں کیا ہوتا۔ ایک تجربہ تین چار مرتبہ کرنے کے بعد آپ اس کو درس مان لیتے ہیں۔ ڈاکٹر مورس بکائی نے کہا کہ ہاں واقعی ایسا ہی ہے۔ اگر چار پانچ مرتبہ تجربات کا ایک ہی نتیجہ نکل آئے، تو ہم کہتے ہیں کہ سو فیصد یہی نتیجہ ہے۔ اس پر ڈاکٹر حمیداللہ نے کہا کہ جب آپ نے صحیح بخاری کے سو بیانات میں سے اٹھانوے تجربہ کرکے درست قرار دے دیے ہیں، تو پھر ان دو نتائج کو بغیر تجربات کو درست کیوں نہیں مان لیتے؟ جب کہ پانچ تجربات کرکے آپ سو فیصد مان لیتے ہیں۔ یہ بات تو خود آپ کے معیار کے مطابق غلط ہے۔ ڈاکٹر مورس بکائی نے اس کو تسلیم کیا کہ واقعی ان کا یہ نتیجہ اور یہ اعتراض غلط ہے۔"لیکن آج کے کئی جدید محققین نے مکھی پر تازہ تحقیق کر کے اس حدیث کی حقانیت کو ثابت کیا ہے۔اس حوالے سے مصر کے" مائکروبائیولوجی اینڈ ایمونیالوجی ڈپارٹمنٹ، نیشنل ریسرچ سینٹر ( Centre Rrsearch Natinal) کے محقق رہاب محمد عطا نے ورلڈ جورنل آف میڈیکل سائنسز میں 2014میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا۔جو حقیقی طور ہرClarke Johan اور ڈاکٹر مصطفی حسن کی تحقیق پر مبنی ہے۔ جان کلراک اسٹریلیا کی یونیورسٹی آف میکوائر میں کام کرتے ہیں۔اس کے مطابق "اس موضوع پر اس سے پہلے کوئی سائنسی تحقیق نہیں ہوئی تھی".رہاب محمد عطا نے اس ریسرچ پیپر کے ابسٹریکٹ (Abstract)میں حدیث کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ:"اس تحقیق میں مکھی کی چار قسموں (Species)کا انتخاب ان کی پروں پر دافع جراثیم (Antibacterial) اور ضد فطر(fungal Anti ) کی خاصیت دریافت کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔تجربہ سے اخذ شدہ نتیجہ یہ تھا کہ داہنی پر کے نچوڑ (Extract) کا میڈیا (Media) بیکٹیریل اور فنگل نمو ( growth fungal and Bacterial ) سے محروم ہے جب کہ بایاں پر والے میڈیا پر بیکٹیریل اور فنگل نمو کا مشاہدہ کیا گیا .اس سے یہ طے کیا گیا کہ مکھی کا دایاں پر ضدِ نامیہ (Antibiotic)یا جراثیم کش چیزوں کا ایک نیا انقلاب شروع کر سکتا ہے جو مزید تحقیق کی متقاضی ہے".
انسان کی جنینیاتی تشکیل کے حوالے سے بخاری و مسلم میں وارد احادیث کی صداقت کو جدید سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے۔ ڈاکٹر جولے سمپسن ، ہیوسٹن ( امریکہ ) کے بیلور کالج آف میڈیسن میں شعبہ حمل و زچگی و امراض نسوانی ( Ob-Gyn ) کے چیئرمین اور سالماتی و انسانی توارث کے پروفیسر ہیں۔ پروفیسر جولے نے دو بچے کی جنینیاتی تشکیل کے متعلق دو احادیث مطالعہ کیا :(ان احدکم یجمع خلقہ ، فی بطن امہ اربعین یوما)’’ تم میں سے ہر ایک کی تخلیق کے تمام اجزاء اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک ( نطفے کی صورت ) میں جمع رہتے ہیں۔ ‘‘(صحیح بخاری)۔’’ جب نطفہ قرار پائے بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ ایک فرشتے کو اس کے پاس بھیجتا ہے جو ( اللہ کے حکم سے ) اس کی شکل و صورت بناتا ہے ، اور اس کے کان ، اس کی آنکھیں ، اس کی جلد ، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے۔" ڈاکٹر جولے سمپسن نے دونوں احادیث کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک کانفرنس میں یہ کہا:"دونوں احادیث جو مطالعے میں آئی ہیں ، وہ ہمیں پہلے چالیس دنوں میں بیشتر جنینی ارتقاء کا متعین ٹائم ٹیبل فراہم کرتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج صبح دوسرے مقررین نے بھی بار بار اس نکتے کو دہرایا ہے۔ یہ احادیث جب ارشاد فرمائی گئیں اس وقت کے میسر سائنسی علم کی بنا پر اس طرح بیان نہیں کی جا سکتی تھیں۔ میرے خیال میں اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ صرف جینیات ( Genetics ) اور مذہب کے درمیان کوئی تصادم نہیں ، درحقیقت ، مذہب بعض روایتی سائنسی نقطہ نظر کو الہام سے تقویت پہنچا کر سائنس کی رہنمائی کر سکتا ہے اور یہ کہ قرآن میں ایسے بیانات موجود ہیں جو صدیوں بعد درست ثابت ہوئے اور جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ قرآن میں دی گئی معلومات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں۔"
جینیات (Genetics)کا بانی اسٹرین پادری گریگر مینٍڈل کو مانا جاتا ہے جس نے معروف جین کے غلبہ کا قانون (dominance of Law ) پیش کیا۔جس کے مطابق ہر یونٹ کریکٹر کو ایک فیکٹر کا جوڑا کنٹرول کرتا ہے۔اس میں فیکٹر (Factor) کا ایک جوڑا ڈامیننٹ اور دوسرا ریسیسیو (Recessive) ہوتا ہے جو پیرنٹس (Parents)سے حاصل ہوتا ہے۔اگر یہ فیکٹر مختلف (heterozygous) ہوں تو آرگانزم (organism) میں ڈامیننٹ کریکٹر ظاہر ہوگا اور دوسرا غائب (Recessive) رہے گا۔Genetics کے اس بنیادی اصول کو بخاری و مسلم اور سنن اربعہ کی احادیث کی روشنی میں جانچا چائے تو نتیجہ حیران کن ظاہر ہوتا ہے۔حدیث اسطرح سے ہے :ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے جس کو میں اپنا نہیں سمجھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہیں۔ دریافت کیا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ کہا کہ سرخ ہیں۔ پوچھا کہ ان میں کوئی خاکی بھی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ان میں خاکی بھی ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر کس طرح تم سمجھتے ہو کہ اس رنگ کا پیدا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بچے کے انکار کرنے کی اجازت نہیں دی۔ مذکورہ حدیث میں ڈامیننٹ اور ریسیسیو فیکٹر کا تصور کس قدر واضح ہے اس کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔یہ واضح رہے کہ جس طرح سے قرآن مجید سے سائنس نکالنے عمل درست نہیں اسی طرح سے احادیث سے سائنس نکالنے کا عمل بھی صحیح نہیں ہے۔جن احادیث میں مظاہر فطرت کے متعلق اشارات ملتے ہیں یہ ضروری نہیں کہ ان تمام کو زبردستی سائنس تحقیق کا سبجیکٹ بنایا جائے۔ زبانِ نبوت ورسالت سے نکلا ہوا ہر کلمہ انسانوں کی مادی تحقیق سے ثابت نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ انسانی شعور و ادراک کی گرفت سے بعض کلام نبوت کے موضوعات بالاتر ہیں۔
(مضمون جاری ہے ۔ایک اور پہلو پر اگلی قسط انشاء اللہ اگلی سوموار کو شائع کی جائے گی)
رابطہ۔[email protected]