حکیم محمد شیراز
مشتاقؔ حیدر(1951-2021)اردو شاعری میں ایک نیا نام ہے۔انہوں نے اپنے فکری نظام اور فنی مہارت سے اردو شاعری بالخصوص اردو غزل کو ایک نیا وقار بخشا ہے۔موصوف کا منتخب دیوان قریباً سترسے زیادہ غزلیات و منظومات پر مشتمل ہے جن میں کئی نظمیں دو سو سے تین سو اشعار پر مشتمل ہیں مگر فکر و فن کی ہنر مندانہ آمیزش نے اس مختصر کلام کو بہترین دیوانوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔
مرحوم نے حیات و کائنات کے مسائل کو اپنے مخصوص فلسفیانہ نقطہ ٔ نظر سے دیکھا اور پھر انہیں تغزل کی چاشنی میں یوں گھلا ملا کر پیش کیا کہ فلسفہ شعر اور شعر فلسفہ کے ذائقے سے سر شار ہوتا نظر آتا ہے۔موصوف نے نظم کے تکنیکی افق کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے اسے روشن اور اس کے فنی امکانات کو وسیع کر دیاہے۔بقول ان کے یار ِ غار اور دیرینہ رفیق جمیل احمد کرانتی کے ،’’دریا کو کوزے میں بند کرنا اور شعر کہنا ایک ہی بات ہے ۔اور یہ اللہ کی دین ہے جسے نصیب ہو جائے۔شعر میں شاعر اپنے رجحانات و نظریات کو بیان کرتا ہے ، اپنے تجربات و واقعات ، قوموں کے عروج و زوال نیز اس سے عظیم نتائج کے استخراج کو اس آسانی سے واختصار سے بیان کرتا ہے کہ قاری اپنے آپ کو محویت کے عالم میں محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دل کے تاروں میں جنبش محسوس کرتا ہے۔‘‘
شاعری کا یہی وجدان و ذوق اخیر عمر میں غالب آگیا تھا۔صاحب الفراشی اور قریب المرگ یکسوئی نے اس معاملے میں جلتے پر تیل کا کام کیا تھا۔ موصوف کا اندرونی شاعر گویا عود آیا تھا بلکہ حیرت انگیز طور پر جاگ گیا تھا اور جیسے جیسے انتقال کا دن قریب آرہا تھا ان کی شاعری میں خلوص کا دریائے بے کراں ، پارے کی سیمابی اور بجلیوں کی بیتابی ، بیان کی جادوگری ، شخصیت کی دلآویزی ، خلقی و فطری محبوبیت و موہنی اور سب سے بڑھ کر دل کی وہ چوٹ اور جگر کا وہ زخم جو جدید شعراء میں کم کسی کے حصے میں آیا ہے،میں اضافہ ہی دیکھا گیا۔مندرجہ ذیل اشعار اس پر شاہد عدل ہیں۔
روزی، ٹھکانا، نیز یہ ایماں کی نعمتیں اس کا فضل و فیض و فیضان دوستو!
پھر ان کی وہ قلندرانہ شان اور مجذوبانہ ادا جس نے حق کہنے میں کبھی بڑے چھوٹے ، دوست دشمن کی پرواہ نہیں کی اور جس کے نتیجہ میں وہ بعض اوقات میدان میں تنہا رہ گئے، یہاں تک ان کے اہل خانہ تک نے ساتھ چھوڑ دیا، لیکن انھوں نے اس تنہائی کی کبھی پروا نہ کی بلکہ اس کو وسیلۂ نجات اور شرط ایمان سمجھا اور ان کی زبان سے وہ الہامی شعر نکلا جو بڑے عارف اور موحد کی زبان سے نکل سکتا ہے ؎
وحدانیت کی مئے تو نہیں پی کہ اب تلک بھٹکا نہیں یہ راہ سے بادہ کشوں میں چاند
دنیا میں چند دن کے لیے دیکھو آئے ہیں تھوڑے دنوں کے ہم تو ہیں مہمان دوستو!
جانا ہے دور اس لیے سن لو مسافرو لے کر چلو زیادہ نہ سامان دوستو!
سن 1997-98میں موصوف سعودی عرب سے لوٹ آئے۔رزق حلال کے لیے تگ و دو شروع کی۔کئی اسکیمیں بنائیں۔تجارت کا ارادہ کیا مگر اللہ کی مرضی کہ کوئی کوشش بارآور نہ ہوئی،کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی،اسکیمیں فیل ہو گئیں۔’’تدبیر کند بندہ، تقدیر کند خندہ‘‘ کے مصداق معاملہ رہا۔کوئی بھی کام موصوف کے مزاج و صلاحیت سے میچ نہ ہو سکا۔ سن 1999ء کے بعد سے موصوف کے حالات دگر گوں ہو نے لگے۔کچھ اندرونی تنازعات نے بھی جنم لینا شروع کیا اور معاشی حالات نا گفتہ ہو تے چلے گئے۔ اولاد کے تعلیمی نیز خانگی ضروریات نے سر اٹھانا شروع کیا جب کہ مدیں ٹوٹتی چلی گئیں۔رشتہ داروں نے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا۔ذیابیطس کا عارضہ ہو گیا۔صحت نے بھی ساتھ دینا چھوڑ دیا۔پھر دھیرے دھیرے موصوف کی ہمت جواب دینے لگی اور حال ذیل شعر کے مترادف رہا:
شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن مقابلہ تو دل نا تواں نے خوب کیا
زندگی کے اس موڑ پر موصوف کا معاملہ ، غالبؔ سے کچھ مختلف نہیں تھا۔جوں جوں حالات نا گفتہ ہوتے گئے، شاعری کے وزن و رنگ و آہنگ میں نیرنگی بڑھتی ہی چلی گئی۔ جس کا خاصا اثر موصوف کی طبیعت پر رہتا تھا۔ان ایام کی عکاسی بھی موصوف نے اپنی شاعری میں کی ہے:؎
ایسی چلی ہوائے ملال اور حزن کی گلشن میں گل نہ غنچۂ خنداں دوستو!
بجلی گری کچھ ایسی فصل پراپنی ڈھونڈ کر کھیتوں کے جل کے رہ گئے کھلیان دوستو!
غرض شاعری کا ذوق والد صاحب کو وراثت میں ملا تھا۔موصوف کو اپنے ماضی، بیتے ہوئے دن ، برتے ہوئے اشخاص ، بچھڑے ہوئے والدین،بزرگوں اور احباب ، اور گزرے ہوئے واقعات و حالات سے دلچسپی اور لگاؤ تھا۔
مرحوم کی حمیت اسلامی:مرحوم کی خصوصیات و کمالات میں سب سے بڑا جوہر ان کی اسلامی حمیت تھی، ذات نبویؐ، اسلام ، شریعت اسلامی کے لیے کوئی توہین آمیز مضمون ، رسالہ یا خبر کہیں نکلتی یا اسلام دشمن طاقتوں کے ذریعہ کہیں مسلمانوں کا نقصان ہوتاتو مرحوم اس کا نوٹس لیتے اور اہل خانہ کے درمیان اس سے متعلق مذمتی اظہار خیال کرتے۔’ بابری مسجد کی فریاد‘ نامی نظم اسی جذبہ کا ایک مظہر ہے۔ایک مرتبہ روزنامہ انقلاب میں خبر دیکھی کہ تاج محل سے متعلق سپریم کورٹ نے بیان دیا ہے کہ اگر حکومت وقت ، تاج محل کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی تو اسے مسمار کردے۔اس خبر کے بعد سے موصوف کی طبیعت بے چین رہتی تھی۔اس سلسلے میں ایک مضمون بھی تحریر فرمایا تھااور راقم السطور کو دیا تھا کہ اسے مناسب موقع سے شائع کیا جائے مگر اس کی نوبت نہیں آئی تھی۔غرض اپنے کلا م میں جا بجا اس حمیت کا اظہار کیا ہے۔موصوف کے کلام سے بھی ان کی یہ صفت واضح ہے:
یارب ہمیں تو کر دے ہدایت سے سر فراز
پستی سے دور بر سر رفعت سے سرفراز
ایمان کے مقابلے دنیا نہ کھول دے
آسودگی سے بچ کے ہوں غربت سے سرفراز
اخیر عمر تک بلکہ کہ آخری رمضان میں بھی موصوف روزہ دار رہے۔ایک نہیں متعدد حج کئے۔جس سے ان کے شعائر اسلامی کے لحاظ پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
یا رب تیری رحمت و برکت کا شوق تھا
بیماریوں میں تب بھی رہے روزہ دار ہم
انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ:اخیر عمر میں کئی بار ایسا ہوا کہ مسجد میں یا کسی مستحق کی مدد کا جذبہ پیدا ہوا۔ہاتھ میں کوئی رقم نہ تھی تو کسی سے وہ رقم مستعار لے کر اس کی مدد کی۔چنانچہ فرماتے ہیں:
کرنی ہوئی مدد جو کسی مستحق کی گر
دیں گے کسی سے لے کے رقم مستعار ہم
مرحوم کو اپنے استاذہ سے خصوصی لگاؤ تھا۔بالخصوص وہ استاذہ جنھوں بالکل بنیادی تعلیم میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔موصوف کی یوں تو والد سے زندگی میں کچھ نہ کچھ اختلافات رہتے تھے۔مگر دادا کی اخیر عمر میں اور ان کی وفات 2007ء کے بعد اطاعت شعاری کا جذبہ غالب ہو گیا تھا۔یہاں تک کہ اخیر عمر میں مشتاق احمد لکھنے کی بجائے مشتاق حیدر لکھنا پسند کرتے تھے۔انتقال سے کچھ دن پہلے موصوف اپنے والد کو بلند الفاظ سے یاد بھی کیا کرتے تھے۔اب تو ان کا دیوان جلد ہی ’’دیوان مشتاق حیدر‘‘ کے نام سے منظر عام پر آنے والا ہے۔
تعلیم:لکھنے پڑھنے کا شوق موصوف کو وراثت میں ملا تھا۔اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ موصوف کی تیرہ سال رفاقت رہی ۔ ظاہر ہے کہان کی والدہ سارے محلے کے بچوں کو قرآن پڑھاتی تھیں توموصوف کی بسم اللہ بھی وہیں ہوئی ہو گی ۔ان کے والد حافظ حیدر علیؒ بھی ایک علم دوست آدمی تھے۔غرض علوم مروجہ و گھر داری کیاصول گھر رہ کر ہی سیکھے ہوں گے البتہ ابتدائی تعلیمات ، اسکول نمبر ۱، قدوائی روڈ سے حاصل کی۔ہائیر سیکنڈری کی تعلیم مالیگاؤں ہائی اسکول (قدیم واقع نیا پورہ)سے حاصل کی۔بعد بی ایس سی، ایم ایس جی کالج، مالیگاؤں اور بعد ازاں بی ٹیکسٹائیل کی اسناد کے حصول کے لیے عروس البلادشہر بمبئی کا رخ کیا۔جو اس وقت مختلف علوم و فنون کا مرکز بھی تھا۔مطالعہ اور تعلیم سے استغراق کا یہ عالم تھا کہ خود فرماتے تھے کہ نامساعد حالات میں دن میں کالج میں ہوتا تھا اور رات کو پور لوم چلاتا تھا مگر ترک تعلیم کے خیال سے کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔جیسے جیسے موصوف، زندگی کے نشیب و فرازکو پار کرتے گئے ، مذکورہ صفات میں مزید نکھار پیدا ہو تا گیا۔مگر یہ بات بہت کم لوگ جانتے تھے کہ ایک اچھا انجینئر ہونے کے ساتھ ساتھ مرحوم ایک اچھے شاعر بھی تھے اور ان کی دیگر صفات کے ساتھ شعر و ادب کا جذبہ بھی ان کے اندر پروان چڑھ رہا تھا ۔ویسے یہ ایک موروثی بات معلوم ہوتی ہے۔
اردو زبان، شعر و ادب، انشا پردازی، فکشن نگاری وغیرہ سے اپنی محدود واقفیت کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ مرحوم کا منظوم کلام ایک بے نظیر کلام اور لا زوال دیوان ہے جو حالات حاضرہ کے تناظر میں دور جدید کی ضروریات پر محیط ہے ۔اگر دقیق نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کے کلام میں ایک قسم کا انبساط ہے، علمی و درسی اصطلاح میں ’’ تنزل‘‘ بھی ہے۔خطیبوں کاجوش اور بر جستگی بھی ہے، لطائف بھی ہیں اور واقعات بھی۔چیدہ و منتخب الفاظ اور وہ بھی موصوف کے اپنے مخصوص انداز ِ دلنشیں میں۔دلنوازی اور شفقت بھی ہے اور علمی و تحقیقی شان بھی اور لطیف نکتوں و تاریخی جھروکوں سے عظیم نتائج کا استخراج بھی اور سب سے بڑھ کر دل کی چوٹ ، سوز دروں اور خون جگر بھی ہے ، جو کہ خاندان کے افراد بلکہ جدیدشعراء میں کم ہی کسی کے حصے میں آیا ہے۔
والدہ کے تاثرات ’’دیوان مشتاق حیدرؔ‘‘کے بارے میں:
40سالہ رفاقت ایک قابل ذکر مدت ہے، جو کسی کی شخصیت، کردار کی بلندی، مقاصد کی گہرائیوں کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ ازدواجی زندگی کی اس مدت میں بے شمار نشیب و فراز آئے، خوشی اور غمی کے لمحات آئے، تیز بارش اور شدید طوفانی ہوائیں بھی چلیں، مگر مرحوم کا حالات سے مقابلہ کرنے کا جوش اور بچوں کی خیر خواہی و بہتر مستقبل کا جذبہ کم نہ ہو سکا۔موصوف اس بات کے قائل تھے کہ بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت سے بڑھ کر کوئی سرمایہ نہیں۔ چاہے اس کے لیے جلا وطن ہونا پڑے چاہے ریگستان کی خاک چھاننا پڑے۔جس درخت پر پھل لگتے ہیں لوگ اسے پتھر مارا ہی کرتے ہیں۔ ہم جس قافلے کے سوار اور جس راستے کے راہی تھے اس راستے میں قافلوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا، رکاوٹیں بھی کھڑی گئیں، یہاں تک کہ زلزلے بھی آئے مگر موصوف کے پایہ استقلال میں جنبش پیدا نہیں ہوئی۔آل کی خیر خواہی کا جذبہ ہر موڑ پر دیدنی رہا۔میری حیثیت ان کے لیے ایک معاون کی تھی_فیصلے ان کے تھے اور میں حامی تھی۔سن 2004ء کا وہ منظر ابھی نگاہوں کے سامنے ہے، جب موصوف ایک طویل سفر پر(دبئی کے لیے) بغرض روزگار رکشہ پرسوار ہو رہے تھے، اور بطور الوداع مجھے صرف اتنا کہا کہ ” بچوں کا دھیان رکھنا۔‘‘
مرحوم اپنے مقاصد میں کہاں تک کامیاب رہے اس کا کچھ اندازہ شہباز،شیراز اورارباز کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے ۔عالم اسلام کی خدمت کے لیے بچوں کا انہماک، اپنے والد کے مقاصد و عزائم کو آگے بڑھانے نیز اسے پورا کرنے کا جذبہ، قوم کی طبی خدمات کے لیے ان کا وسیع دائرہ کار، ملکی و غیر ملکی سطح پر ان کی تقریری و تحریری خدمات ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک کا سبب ہیں اور سب بڑھ کر دل کی چوٹ اور جگر کا زخم، تینوں کو اپنے والد سے ورثہ میں ملا ہے ۔بقول شخصی:
طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ خوں اس نے پایا انھیں کے جگر میں
اسی سلسلے کی ایک کڑی ”دیوان مشتاقؔ” ہے۔جو مرحوم کی زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہونے کے ساتھ ساتھ ادب کا ایک بہترین نمونہ ہے۔نصائح وپند کا خزینہ ہے۔شاعری نہیں، ساحری ہے۔دعاؤں اور نالوں کا عجوبہ ہے۔الفاظ سے رشد و ہدایت کے سوتے پھوٹتے نظر آتے ہیں ۔جو قاری کو محویت کے عالم میں لے جاتے ہیں۔جسے جمع کرنے کا کام لائق و سعادت مند فرزند عزیزی شیراز نے کیا ہے ۔ساتھ ہی ساتھ مرحوم کی سوانح عمری کو بھی مختصر اً جمع کیا ہے ۔واضح رہے کہ مذکورہ سطور ممتا کے زیر اثر یا طویل ازدواجی انسیت سے کمزور ہو کر نہیں بلکہ بصیرت اور مطالعہ کی بنیاد پر صفحہ قرطاس پر بکھیری جارہی ہے ۔اس لیے قارئین اسے وقتی و جذباتی کمزوری کا نتیجہ نہ سمجھیں جو کہ مصنفین کی پرانی عادت ہے ۔فرزند دلبند کے لیے میرا انگ انگ دعا گو ہے کہ اللہ پاک اسے پہاڑوں کی سی استقامت دے نیز اس کے قلم میں وہ طاقت دے کہ ہوا پرستی اور مادہ پرستی کے بت، اس سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائیں نیز ایک عالم اس سے فیضیاب ہو اور باپ بیٹوں کے لیے یہ تصنیفی و تالیفی خدمات سرمایہ آخرت بن جائیں ۔
خلاصہ کلام:مرحوم بیک وقت ایک اچھے استاد، انجینئر اور اچھے مینیجر تھے۔اگر چہ تعلیم و تعلم کا پہلو دیگر اوصاف میں نمایاں تھا۔بلکہ اخیر عمر تک اس وصف سے وابستگی رہی۔کچھ شخصیات وہ ہوتی ہیں جن عبقریت، تبحر علمی پر معاصرت کا پردہ پڑ جاتا ہے۔ان کی زندگی میں لوگ انھیں نہیں پہچان پاتے۔مرنے کے بعد ان کی نادرہ ٔ روز گار شخصیت کا پردہ چاک ہوتا ہے۔راقم السطور کی ناقص رائے میں مرحوم انھیں لوگوں میں تھے۔بقول مولانا محمد علی جوہرؒ:
جیتے جی تو کچھ نہ دکھلائی بہار مر کے جوہرؔ آپ کے جوہر کھلے
اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موصوف کے کلام کی تالیف کا کام جاری ہے اور جس کے عنقریب مکمل ہونے کی امید ہے۔قارئین سے درخواست ہے کہ دعا فرمائیں کے یہ کام جلد از جلد پایہ تکمیل کو پہنچے اور مرحوم کی کاوش سے ایک عالم مستفید ہو سکے۔
(سائنسداں و ریڈرشعبہ ٔ معالجات، کشمیر یونیورسٹی ،کشمیر)
[email protected]