یواین آئی
لاہور/پاکستان کے ابھرتے ہوئے مسٹری اسپنر عثمان طارق نے اپنی کامیابی کی کہانی میں ایک ایسا جذباتی موڑ شیئر کیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر مداحوں کے دل جیت لیے ہیں۔ پاکستانی کرکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے کرکٹ سے حاصل ہونے والی اپنی پہلی بڑی آمدنی سے اپنی والدہ کے لیے سونے کے کنگن خریدے تاکہ ان کے بچپن کا ایک پرانا قرض اتار سکیں۔غربت کے دن اور ماں کی ممتا ایک حالیہ انٹرویو میں 28 سالہ عثمان طارق نے نم آنکھوں کے ساتھ ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دور ایسا تھا جب ان کے خاندان کے حالات انتہائی کٹھن تھے ۔
گھر کے اخراجات پورے کرنے اور بچوں کی ضروریات زندگی کے لیے ان کی والدہ نے اپنے سونے کے کنگن بیچ دیے تھے۔”جب میرے پاس کرکٹ سے پیسے آئے تو میرا دل نہیں کیا کہ میں کوئی بڑی گاڑی یا بنگلہ لوں۔ میری پہلی ترجیح وہ کنگن واپس لانا تھے جو میری ماں نے ہمارے لیے قربان کیے تھے ۔”سیلز مین سے اسٹار کرکٹر تک کا سفر عثمان طارق کی زندگی جدوجہد کی ایک بہترین مثال ہے ۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں بطور سیلز مین کیا تھا۔ وہ سارا دن محنت مزدوری کرتے اور شام کو تھکن کے باوجود اپنے منفرد بولنگ ایکشن کی پریکٹس جاری رکھتے تھے ۔ آج ان کی وہی محنت رنگ لا چکی ہے اور وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کیلئے ایک “میچ ونر” کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں۔