سرینگر //متحدہ مجلس علماء جموںوکشمیر میں شامل جملہ اکائیوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں بعض افراد کی جانب سے جموں وکشمیر میں مسلکی ہم آہنگی اور ملی اتحاد کو زک پہنچانے کی کوششوںپر فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کیخلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جموںوکشمیر میں مسلکی منافرت کو ہوا دینے اور صدیوںسے قائم مسلکی اور ملی اتحاد کو زک پہنچانے کی کسی بھی فرد یا جماعت کو ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی اور جو قوتیں اس طرح کی حرکات کی مرتکب ہونگی وہ سامراجی قوتوں کے آلہ کار ہی ہوسکتی ہیں۔اس ضمن میں چیئر مین میرواعظ عمر فاروق کی ہدایت پر مجلس علما کا ایک موقر وفد ان مبلغین سے ملاقات کررہا ہے جو اس طرح کی نا مناسب اور غیر اسلامی کوششوں میں ملوث ہیں ۔وفد ان افراد کو متنبہ کریگااو ر ان پر یہ بات واضح کی جائیگی کہ وہ بیشک اپنے اپنے دائرہ کار میں دین اسلام کی عظیم تعلیمات کی روشنی میں اصلاح معاشرہ اور کشمیری سماج کو درپیش گوناگوں سنگین نوعیت کے مسائل اور اسلام کے آفاقی پیغام کے تئیں تبلیغ و ترویج کا مثبت کام کریں اور فروعی اور مسلکی اختلافات کو چھیڑ کر ملی وحدت کو زک پہنچا کراسلام دشمن قوتوںکے ناپاک عزائم پورے کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔