تھنہ منڈ ی سے بھاری اسلحہ برآمدکرنے کا دعوایٰ
گولہ بارود کی ہوائی راستے سے علاقہ تک رسائی کا شک
سمت بھارگو
راجوری //سیکورٹی فورسز نے راجوری ضلع کے تھنہ منڈی سب ڈویژن میں سے بھاری مقدار میں اسلحہ بارود برآمد کرنے کا دعوایٰ کر تے ہوئے اس سلسلہ میں ایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔جموں وکشمیر پولیس اور فوج کو مبینہ طورپر اطلاع ملنے کے بعد تھنہ منڈی کے عظمت آبا د علاقہ میں ایک تلاشی مہم شروع کی گئی جس کے دوران مذکورہ اسلحہ برآمد کرلیا گیا ۔اس سلسلہ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران پولیس اور فوج نے مشترکہ طور پر کہا عظمت آباد کے پہاڑی علاقہ میں مشکوک نقل و حرکت کے سلسلہ میں ایک طلاع موصول ہوئی تھی جبکہ اس دوران فوج اور جموں وکشمیر پولیس کی جانب سے ایک مشترکہ کارروائی شروع کی گئی ۔ایس ایس پی راجوری نے بتایا کہ منہیال ،ڈھنہ اور کوپرہ علاقوں میں اس کارروائی کے دوران منہیال علاقہ میں سے مذکورہ اسلحہ برآمد کیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ باز یاب ہوئے ساز و سامان میں 4پستول ،آٹھ میگزین ،105رونڈ ،1اے کے 47ودیگر اسلحہ برآمد کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اسلحہ پیکنگ مٹریل اور تحریری نوٹ کیساتھ برآمد ہوا ہے ۔اس سلسلہ میں ایک معاملہ زیر ایف آئی آر نمبر 114/2021درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔ایس ایس پی نے بتایا کہ ساز و سامان کے سلسلہ میں ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ ساز و سامان کو ہوائی راستہ اختیار کر کے علاقہ میں گرایا گیا ہے ۔پولیس نے بتایا کہ مذکورہ ساز و سامان حدمتارکہ سے 7سے 9کلو میٹر ہوائی فاصلے کے اند بازیاب ہوا ہے جو کہ ایک تشویش ناک عمل ہے ۔انہوں نے بتایا کہ 11ماہ قبل بھی ہوائی راستے سے گرائے گئے ساز و سامان کو گردن بالا علاقہ سے بازیاب کیا گیا تھا جس کے دوران تین ملی ٹینٹوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دور دراز علاقہ میں ہوائی راستے سے اسلحہ گرانے کے مذکورہ معاملے کے بعد اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس عمل میں جدید طرز کے نظام کو استعمال میں لایا گیا ہے جوکہ تشویش ناک بات ہے ۔
ڈھنڈوت پنچایت میں ٹرانسفارمر خراب
بجلی سپلائی بند ،صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا
محمد بشارت
کوٹرنکہ//بلاک بدھل کی پنچایت ڈھنڈوت کی وارڈ نمبر ایک نیلی مٹی میں بجلی کا ٹرانسفارمر خراب ہونے کی وجہ سے بجلی سپلائی بند ہو گئی ہے جس کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔مکینوں نے متعلقہ محکمہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ حالیہ کئی دنوں سے بجلی کی مشینری میں خرابی آئی ہوئی ہے تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے اس کی مرمت کی جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔منظور احمد نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ملازمین پورا دن ٹرانسفارمر کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم رات کو بجلی کی معیاری سپلائی ہی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں متعلقہ آفیسران سے کئی مرتبہ رابطہ کیا گیا لیکن ٹرانسفارمر کو پوری طرح سے ٹھیک کرنے کی جانب سے کوئی دھیان ہی نہیں دیاجا رہا ہے ۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بجلی ٹرانسفارمر کو تبدیل کر کے نئی مشینری دی جائے تاکہ صارفین کی دقتیں کم ہو سکیں ۔
تھنہ منڈی کے مدرستہ التوحید میں تعزیتی مجلس کا انعقاد
مفتی فیض الوحید کی روشن حیات اور علمی خدمات سماج کیلئے نشان راہ :مقررین
تھنہ منڈی //مولانا مفتی فیض الوحید صاحب قاسمی رحمہ اللہ کے انتقال پر ایک خصوصی تعزیتی مجلس مرکزی جامع مسجد تھنہ منڈی میں بعد نماز جمعہ منعقد ہوئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں امام و خطیب مرکزی جامع مسجد و مہتمم مدرسہ التوحید تھنہ منڈی مولانا مفتی عبدالرحیم ضیائی قاسمی نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں میں سینکڑوں علماء کا دنیا سے رخصت ہوجانا ہمارے لئے بڑی محرومی کی بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمہ وقت فکرمند رہنا اور اپنی موجودہ و آئندہ نسلوں کی صحیح تعلیم و تربیت کیلئے کوشاں رہنا چاہئے اور ہمیں ہر حال اور ہر کام میں علماء سے مشاورت اور ان سے استفادے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔ مفتی موصوف نے اپنے بیان میں خطہ پیر پنجال کے لوگوں کا اہم علم سے قدیم تعلق اور اس سرزمین سے پیدا ہونے والے بڑے نامی گرامی علماء کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے زمانے میں مفتی فیض الوحید صاحب ان قدیم اکابر بزرگان کے وارث بھی تھے اور انکی علمی نشانی بھی مگر آج جب کہ مفتی صاحب اپنی عمر کی پچپن بہاریں دیکھنے کے بعد مختصر مدت میں طویل و عظیم ترین کارہائے نمایاں اور عالی شان خدمات انجام دینے کے بعد سوئے آخرت کوچ کرگئے ہیں ۔مقررین نے کہاکہ مفتی مرحوم 1995 سے تاحال جموں میں رہکر وہ علمی و عملی اور تعمیری کام انجام دئے ۔انہوں نے کہاکہ مفتی موصوف نے کہا تفسیر فیض المنان سیرت رسولؐپر تصنیف سراجا منیرا اور جامعہ مرکز المعارف بٹھنڈی جموں میں ان کی علمی یادگار ہیں ، مجلس کے اخیر میں ایصال ثواب اور دعائے مغفرت بھی کی گئی جسمیں مفتی مرحوم کے علاوہ حالیہ دنوں میں وفات پانے والے تمام متوفین بالخصوص امیر الہند قاری سید محمد عثمان منصورپوری ، مولانا محمد ولی رحمانی ، مولانا نورعالم خلیل امینی، مولانا حبیب الرحمن اعظمی، مولانا نذرالحفیظ ندوی، مولنا شاہین جمالی وغیرہم کیلئے بھی دعا کی گئی ۔
کووڈ سنٹر مینڈھر میں غیر معیاری کھانافراہم کرنے پر احتجاج
جاوید اقبال
مینڈھر //پونچھ انتظامیہ کی جانب سے مینڈھر سب ڈویژن میں کووڈ مریضوں کے سلسلہ میں قائم کر دہ کووڈ سنٹر میں غیر معیاری کھانا تقسیم کرنے کے سلسلہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سنٹر میں قرنطینہ کئے گئے لوگوں نے احتجاج کیا جبکہ غیر معیاری کھانے کی شکایت کے سلسلہ میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انتظامیہ نے اس سلسلہ میں کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے ۔کووڈ سنٹر میں رہ رہے لوگوں نے مبینہ طورپر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی آفیسر سنٹر کا رخ ہی نہیں کرتا جبکہ انتظامیہ کی ملی بھگت سے ان کو غیر معیاری اور خراب کھانا دیا جارہا ہے جبکہ احتجاج کے دوران جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کووڈ سنٹر میں رہ رہے لوگوں نے احتجاجی طورپر کھانے کا مکمل بائیکاٹ کیا ۔اس سلسلہ میں ڈی آئی جی رینج نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے بات چیت کی ہے ۔ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ نے بتایا کہ کسی بھی سنٹر میں غیر معیاری کھانا فراہم کرنے کے الزامات کی تحقیقات کی جائے گی جبکہ اس سلسلہ میں کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی ۔
حیات پورہ میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت
پرویز خان
منجا کوٹ //تحصیل منجا کوٹ کی حیات پورہ پنچایت میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کی وجہ سے عام لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں ۔مکینوں نے محکمہ آب رسانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ پنچایت کی وارڈ نمبر 7مرگ میں پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے ۔انہوں نے بتایا ہ کئی مرتبہ رجوع کرنے کے بعد بھی محکمہ کی جانب سے مذکورہ علاقہ میں پاپئیں بچھائی ہی نہیں گئی جس کی وجہ سے ان کو پینے کا صاف پانی کئی کلو میٹر کی پیدل مسافت طے کر کے لانا پڑتا ہے ۔عام لوگوں نے بتایاکہ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے علاقہ میں ایک ہینڈ پمپ نصب کیا گیا تھا لیکن اس میں آئی خرابی کو ٹھیک ہی نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے پانی کا واحد ذریعہ بھی اب ختم ہو گیا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ پانی کی فراہمی اور پاپئیں بچھانے کے سلسلہ میں کئی بار متعلقہ حکام سے رجوع کیا گیا لیکن یقین دہائیوں کے بعد ابھی تک کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ علاقہ میں پانی کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ان کی پریشانی کم ہو سکے ۔
سٹیٹ بینک آف انڈیا نے ضلع ہسپتال کو ساز و سامان دیا
حسین محتشم
پونچھ//اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے ضلع ہسپتال پونچھ کے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف ار دیگر عملہ کے لئے پی پی کیٹس ، ماسک، سینیٹائزر اور دیگر ضروری سامان واگزارکیا۔سنیل کمار،برانچ منیجراورضلع کوآرڈینٹرسٹیٹ بینک آف انڈیا پونچھ کی قیادت میں ایک ٹیم نے ضلع ہسپتال پونچھ پہنچ کر یہ ضروری اشیاء میڈیکل سپرنا ٹینڈنٹ ڈاکٹر مشتاق حسین جعفری کے حوالے کی۔ڈاکٹر مشتاق حسین جعفری نے اس دوران کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بینک آف انڈیا نے ہمیشہ بڑے پیمانے پر معاشرے کی خدمت کی ہے، اس سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے انھوں نے آج ضلع پونچھ کے میڈیکل اسٹاف کے استعمال کے لئے ماسک ، اور پی پی ای کٹس فراہم کرائے۔انھوں نے کہا کہ طبی عملہ موجودہ وبائی صورتحال میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات کوشاں ہیںسٹیٹ بینک کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جس کے لئے وہ سٹیٹ بینک کے تمام افسران اور دیگر عملہ کے شکرگزار ہیں۔سنیل کمار،پرانچ منیجراور ضلعی کوآرڈی نیٹرسٹیٹ بینک آف انڈیا پونچھ نے کہا کہ موجودہ وبائی صورت حال میں ان کی کوشش ہے کہ جہاں وہ بینکنگ کے ذریعہ عوامی خدمت انجام دیں وہی وہ ان افراد کی جو پہلی صف میں رہ کر عوام کی دوسروں کی
خدمت کرتے ہیں ان کی خدمت کرتے رہیں۔
بے سہارہ لڑکی کی شادی کے لئے مالی مدد فراہم
حسین محتشم
پونچھ//ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اندر جیت نے مونیکا کاشو نامی پونچھ کی ایک غریب بچی کی شادی کے لئے جمعہ کے روز 11000 روپے کی مالی امداد فراہم کی۔یہ رقومات انہوں نے ضلع ریڈ کراس کی رقومات میں سے ضرورت مند بچی کی والدل۔ہ ریتا رانی بیوہ سنجے کاشو کے حوالے کی تاکہ وہ شادی کے انتظامات میں اس رقم کو خرچ کر سکیں ۔ بچی کی والدہ نے مالی اعانت پر ضلع ترقیاتی کمشنر کا شکریہ ادا کیا ۔انھوں نے کہا کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی طرح یہ رقم ان کو بیٹی کی شادی میں بڑی راحت ہے۔انھوں نے کورونا جیسی وباء کے دوران ضرورت مند خاندانوں کو مالی امداد کرنے پر ضلع انتظامیہ کی تعریف کی۔ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ نے اس دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ کراس کی رقومات میں سے انھوں نے یہ رقم بچی کو فراہم کی ہے تاکہ وہ اسے شادی کے انتظامات میں خرچ کر سکے۔انھوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کی کوشش ہے کہ
ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کی جائے جسے وہ آگے بھی جاری رکھیں گے۔
راجوری میں 72نئے کووڈ کیس درج
سمت بھارگو
راجوری //سرحدی ضلع راجوری میں گزشتہ روز کورونا وائرس کے مزید 72معاملات درج کئے گئے ہیں جبکہ اس دوران وائرس سے ایک شخص کی موت بھی واقعہ ہو ئی ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کو ضلع کے مختلف علا قوں میں کی گئی ٹیسٹنگ کے دوران 72نئے کیس درج کئے گئے ہیں جبکہ اس دوران ویکسین دینے کا عمل بھی جاری رہا ۔انہوں نے بتایا کہ راجوری ہسپتال میں زیر علاج ایک مریض کی موت بھی واقعہ ہوئی ہے جبکہ نئے سامنے آئے معاملات میں درہال اور منجا کوٹ میڈیکل بلاک سر فہرست ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ضلع اگراتی علاقہ سے ایک 80سالہ شخص کی موت واقعہ ہوگئی ہے جبکہ کووڈ ایس او پیز کے تحت اس کی آخری رسومات اداکر دی گئی ہیں ۔
18برس سے کم عمر کے 17کووڈ معاملے رجسٹر ڈ
سمت بھارگو
راجوری //ضلع راجوری میں کی جارہی کووڈ ٹیسٹنگ کے دوران 18برس عمر سے کم کے 17بچوں میں کووڈ کی تشخیص ہوئی ہے جس کی وجہ سے والدین میں تشویش پائی جارہی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پوری دنیا میں کئی طبی ماہرین بچوں میں وائرس کے پھیلا ئو کے سلسلہ میں انتباہ دے رہے ہیں جبکہ مذکورہ ماہرین کے مطابق تیسری لہر بچوں میں شروع ہو گی ۔جمعہ کے روز راجوری ضلع میں کل 72کووڈ معاملات سامنے آئے ہیں جن میں 17بچے ہیں ۔سرکاری ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مذکورہ بچوں میں کئی ایک کی عمر 10بر س سے بھی کم ہے جبکہ ایک ہی کنبہ کے دو بچوں میں وائرس کی ایک ساتھ تشخیص ہوئی ہے ۔بچوں میں کووڈ کی تشخیص کے بعد والدین میں تشویش پائی جارہی ہے جبکہ انتظامیہ نے بتایا کہ انہوں نے والدین کو بچوں کے سلسلہ میں متحرک کرنے کا عمل شروع کیا ہواہے ۔گور نمنٹ میڈیکل کالج کے میڈیکل سپر نا ٹینڈنٹ نے کہاکہ عمر کے اعتبار سے کووڈ معاملات کو تقسیم کرنا اشد ضروری ہے جبکہ انہوں نے مذکورہ معا ملہ پر زیادہ تبصرہ نہیں کیا ۔