ڈوڈہ میں ڈرونز پر پابندی عائد
نزدیکی پولیس تھانوں میں جمع کرنے کی ہدایت
ڈوڈہ //یوٹی کے دیگر اضلاع کی طرح ڈوڈہ ضلع میں بھی ڈرون طیاروں پر پابندی عائد کردی ہے۔اس سلسلے میں ہفتہ کے روز ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ وکاس شرما کی جانب سے جاری حکمنامہ میں سی آر پی سی کے سیکشن 144 کی استدعا کرتے ہوئے ضلع میں ڈرون و اس طرح کی نامعلوم فضائی گاڑیوں کے اسٹوریج ، فروخت، قبضے ، استعمال اور نقل و حمل پر پابندی عائد کردی ہے۔ حکمنامہ میں محکمہ زراعت ، ماحولیاتی تحفظ اور آفات سے تخفیف کے شعبے میں نقشہ سازی ، سروے اور نگرانی کےلئے ڈرون کی ضرورت والے سرکاری محکموں کو عوامی مفاد میں اس طرح کی کوئی سرگرمی کرنے سے قبل مقامی پولیس اسٹیشن و ایگزیکٹو مجسٹریٹ کو مطلع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور پہلے سے ہی ان لوگوں کے پاس ڈرون کیمرے ، اسی طرح کی ہوائی گاڑی اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں ۔ انھیں مناسب رسید کے تحت مقامی پولیس اسٹیشن میں جمع کرنے کو کہا گیا ہے۔اس آڈر کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
ڈوڈہ میں کوو ڈ 19 کے 11 نئے مثبت معاملات درج
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں ہفتہ کے روز کوو¿ڈ 19 کے 11 نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں اور 27 مریض صحتیاب ہوئے ہیں. اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری ،گندوہ و عسر میں ہوئی کوو¿ڈ جانچ کے دوران گیارہ افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور اکتیس مریض شفایاب ہوئے ہیں. ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد محدود ہو کر 86 رہ گئی ہے اور شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 6973 پہنچ گئی ہے جبکہ ضلع میں کورونا وائرس سے اب تک 124 ہلاکتیں ہوئیں ہیں اور 183174 افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں.
ڈول میں مشین لہڑک گئی
ڈرئیور از جان ،دیگر ساتھی جان بچانے میں کامیاب
عاصف بٹ
کشتواڑ //ضلع کشتواڑ کے ڈول علاقہ میں پاور ہاوس کے قریب جمعہ کی رات کو ایک حادثے میں شہری ازجان ہو گیا ہے جبکہ اس کے دیگر ساتھی جان بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق زیر تعمیر پاور پاوجیکٹ میں کام کررہا مشین کا ایک ڈرائیور اس وقت حادثہ کا شکار ہو گیا، جب اچانک سڑک کا حصہ ڈھہ جانے سے مشین نیچے لڑھک گئی۔عینی شاہدین نے بتایا کہ اگرچہ اسکے ساتھ دیگر مزدوروں نے چھلانگ مار کر اپنے آپ کو بچا لیا لیکن نور حسن ولد گھسرو لون ساکن ڈول موقعہ پر ہی جان بحق ہوا۔ جسکے بعد اسکی نعش کو ضلع ہسپتال منتقل کیا گیا ،جہاں اسکا سنیچر کو پوسٹ مارٹم کیا گیا۔قانونی لوازمات مکمل کرنے کے بعد اسکی نعش کو آخری رسومات کےلئے گھروالوں کو سونپ دیا گیاہے۔ڈرائیور کی لاش جب اس کے آبائی گھر پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ۔
نیرم رنگ بنگلہ کے عوام طبی سہولیات سے محروم
معمولی علاج کےلئے مہور ہسپتال کا رخ کرنا مجبوری
زاہد ملک
مہور//سب ڈویژن ہیڈ کوٹر مہور سے 20 کلومیٹر کی دوری پر واقعہ حلقہ پنچایت ساڑھ کے رنگ بنگلہ اور نیرم کے لوگ طبی سہولیات سے محروم ہیں ۔مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ وہاں پر ایک طبی مرکز قائم کیا جائے۔ان لوگوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں معمولی علاج کیلئے بھی مہور ہیڈکوٹر کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں کے ایک وفد نے بتایا کہ سڑک کی سہولیت نہ ہونے کے باعث انہیں ہیڈکوٹر تک پہنچنے میں بھی کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بستی میں قریب 200گھرانے ہیں جنہیں سریوں اور گرمیوں میں علاج ومعالجہ کے حوالے سے کافی دقتیں پیش آتی ہیں ۔رنگ بنگلہ کی ایک بزرگ خاتون تاجو بیگم نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس علاقہ میں اگرچہ کسی کو سر درد بھی ہوتا ہے تو اس مریض کو سڑک تک پہنچانے میں کافی وقت لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ مریض مزید بیمار ہوجاتا ہے۔ایک مقامی اشاورکر نے بتایا کہ اس ساری صورتحال کی وجہ سے زچگی میں مبتلا خاتون کو سب سے زیادہ دقتیں پیش آتی ہیں اور اکثر ایسی خواتین کو چارپائی پر اٹھا کر میلوں دور مہور بازار تک پہنچانا پڑتا ہے جبکہ اس وجہ سے ابھی تک کئی ایک خواتین بہتر علاج ومعالجہ نہ ملنے کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ بیٹھی ہیں ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ حکام سے صرف اتنا ہے کہ علاقے میں ایک طبی مرکز قائم کیا جائے تاکہ یہاں کے مریضوں کا علاج ومعالجہ یہاں پر ہی ہو ۔انہوں نے ایل جی انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔
ریاسی میں 3 نئے مثبت معاملات درج
زاہد ملک
ریاسی //ریاسی ضلع میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 3 نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں اس دوران 1 کروناوائرس کا مریض صحت یاب ہوکر اپنے گھر کو واپس لوٹا ہے۔ البتہ اس بیماری سے سنیچر کو ضلع میں کوئی بھی موت نہیں ہوئی ہے۔ضلع میں ابھی ایکٹیو کیسزکی تعداد 44 ہے۔
سیاحتی مقامات پرمنشیات کا استعمال روکا جائے
ڈوڈہ // غیر سرکاری تنظیم ینگ واچ بھلیس نے جموں و کشمیر کے سیاحتی مقامات پر خودکشی کے بڑھتے ہوئے معاملات اور منشیات اور شراب کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ینگ واچ کے صدر آصف نشین نے منشیات کے استعمال اور خودکشی کے واقعات کی بڑھتی ہوئی شرح کے موضوع پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بال پدری ، جٹروون ، جای اور دیگر سیاحتی مقامات جیسے شراب ، منشیات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ینگ واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے زیادہ سے زیادہ علاقوں میں سیاحوں کے مقامات پر تشدد اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات ہوئے ہیں۔ رتن سنگھ سکریٹری ینگ واچ نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بھدرواہ کشتواڑ اور رمبان میں واقع پورے سیاحتی مقامات پر نشہ آور اشیاءکے استعمال پر نگاہ رکھے۔
کہاں ہے ہر گھر نل سکیم؟
شیخ محلہ سنگلدان میںنہ پانی اور نہ نل موجود
زاہد بشیر
گول //جہاں ایک طرف محکمہ جل شکتی پورے ملک میں ”ہر گھر نل“سکیم کے تحت لوگوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کا وعدہ بند ہے ،وہیں زمینی سطح پر اگر دیکھا جائے تو یہاں کے اکثر علاقوں میں اس سکیم کا لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے ۔سنگلدان کے شیخ محلہ کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ کے لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں اور آج اکیسویں صدی میں بھی لوگوں کے گھروں میں نل نہیں بلکہ یہاں کے لوگ دور دور چشموں سے پانی لاتے ہیں اور ریلوے لائن سے یہ چشمے بھی سوکھ گئے ہیں اب لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں ۔مقامی شہری مقبو ل جرال کا کہنا ہے کہ قریباً تیس گھر شیخ محلہ میں رہائش پذیر ہیں اور یہ تمام پانی سے محروم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ علاقہ میں پانی کی بہتر سپلائی کے لئے رام گڑھ کے مقام پر لاکھوں روپے کی لاگت سے ایک حوض کو تعمیر کیاگیا تھا لیکن آج سولہ سال گزرنے کے با وجود یہ حوض پیاسہ ہے ابھی تک اس حوض میں محکمہ جل شکتی نے پانی کی بوند تک نہیں ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ گراٹ موڑ سے ایک لائن اسی حوض کے لئے لائی گئی تھی لیکن شومائے قسمت اس لائن کو بھی اس حوض تک نہیں پہنچایاگیا ہے ۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن سے مطالبہ کیا کہ علاقہ میں پانی کی شدید قلت کو دورکرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
محکمہ دیہی ترقی گول میں شفافیت لانا لازمی
خرد برد کی تحقیقات کےلئے ٹیم تشکیل دی جائے گی:اے سی ڈی
زاہد بشیر
گول//گول سب ڈویژن میں محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے کاموں میں خرد برد اور سالہا سال سے کاموں کو پائیہ تکمیل تک نہ پہنچانے کی خبر کو لے کر سنیچر کو اے سی ڈی رام بن نے سخت اقدام اُٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا اور لوگوں کی املاک کو لوٹنے کی کسی کو اجات نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ گول میں محکمہ دیہی ترقی میں شفافیت لانی لازمی ہے اور تمام کاموں کی زمینی سطح پر تحقیقات کی جائے گی ۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے اے سی ڈی رام بن ضمیر احمد ریشو نے کہا کہ محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے لوگوں کی فلاح و بہبود اور دوردراز علاقوں میں تعمیر و ترقی کے لئے کافی اسکیمیں ہیں جس کے تحت لوگوں کو کافی فائدہ حاصل ہو رہا ہے ۔ وہیں انہوںنے کہا کہ اس طرح کی شکایات جو اخبارات کے ذریعے مل ہیں کہ دس سالوں سے کام التواءمیںپڑے ہیں اور بہت سارے کاموں میں خرد برد ہوا ہے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو چاہئے کہ وہ محکمہ کا بھر پور ساتھ دیں اور کسی بھی خرد برد کرنے والے کو بخشا نہیں جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ جات میں محکمہ کی جانب سے جہاں پر بھی خرد برد ہو ا ہے یا جعلی بلیں نکالی گئیں ہیں ا سکے لئے ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی ،ہر کام کو موقعہ پر دیکھا جائے گا جس کی ویڈیو گرافی بھی کی جائے گی اور قصور واروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔
دھرم کنڈ سے ایک شخص سوالاکھ نقد اور چرس سمیت گرفتار
زاہد بشیر
گول //پولیس نے منشیات کے خلاف جنگ جاری رکھتے ہوئے دھرم کنڈ سے ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی ہے اور اس کے قبضہ سے نقد اور چرس برآمد کی ہے ۔ گول سب ڈویژن میں پولیس نے ایک ماہ میں ہی تین مرتبہ ناکوں کے دوران مختلف چھاپوں کے دوران سمگلرروں سے منشیات ضبط کی ہے ۔ دھرم کنڈ کے مقام پر ایک منشیات فروش عبدالعزیز چوپان ساکنہ دھرم کنڈ کو دکان سے گرفتار کیا ہے ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے شک کی بنیاد پر عبدالعزیز کی دکان پر چھاپہ مارا جہاں سے چرس کی پانچ چھلیاں برآمد کیں اس دوران سوا لاکھ روپے نقد بھی دکان سے ضبط کئے ۔ تفتیش کے دوران مذکورہ ملزم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے ۔ پولیس نے اس سلسلے میں مقدمہ ایف آئی آر نمبر 35/2021 U / S 08/20 NDPS ایکٹ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔
اساتذہ کے تبادلوں کےلئے کمیٹی تشکیل دی جائے :اجیت بھگت
کشتواڑ // سینئر سماجی کارکن اجیت بھگت نے ضلع کشتواڑ میں ماسٹرز کے حالیہ تبادلے پر کڑی تنقید کی ہے۔اجیت بھگت نے بتایا کہ گذشتہ 25 سالوں سے دور دراز علاقوں میں اپنے فرائض سرانجام دینے والے ماسٹر ضلع کے دور دراز علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں جہاں کشتواڑ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آقاو¿ں کو اپنی پوسٹنگ مقامات پر برقرار رکھا گیا ہے۔ تدریسی برادری میں ناراضگی پیدا کررہی ہے۔بھگت نے مزید کہا کہ محکمہ تعلیم ان ماسٹروں کے ساتھ ایک مادر پدر کردار ادا کررہا ہے جو کئی دہائیوں سے دور دراز علاقوں میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور دوسری طرف اپنے قریبی علاقوں میں بااثر افراد کو برقرار رکھنے پر ان کا احترام کرتے ہیں۔ اجیت بھگت نے لیفٹیننٹ گورنر جموں وکشمیر منوج سنہا ، چیف سکریٹری جموں و کشمیر اور کمشنر سکریٹری اسکول ایجوکیشن جموں و کشمیر سے ضلع کشتواڑ میں ماسٹرز کے حالیہ تبادلے کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی اپیل کی۔