میڈیکل فیکلٹی سمیت کئی وفودلیفٹینٹ گورنر سے ملاقی | ڈاکٹروں کو درپیش مسائل فوری طور حل کرنے کی منوج سنہا کی یقین دہانی
سرینگر//میڈیکل فیکلٹی ،خدمت خلق سوسائٹی سمیت متعدد وفودیہاں راج بھون میں لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقی ہوئے۔ایک سرکاری بیان کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج اورڈینٹل کالج سرینگر کے اساتذہ کاایک وفدڈاکٹر سیدسجادنظیر کی سربراہی میں لیفٹینٹ گورنر سے ملاقی ہوا۔وفد میں ڈاکٹر محمدسلیم ایتو اورڈاکٹرظفرسلیم کھانڈے بھی شامل تھے۔انہوں نے لیفٹینٹ گورنر کومیڈیکل فیکلٹی کودرپیش مسائل سے باخبر کیا۔لیفٹینٹ گورنر نے وفد کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے ممبران کو یقین دلایا کہ ان کی طرف سے اُبھارے گئے معاملات پرہمدردانہ غور کیاجائے گااور جلد ازجلدانہیں حل کیاجائے گا۔اسی طرح وادی کی طالبات کے ایک وفد نے بھی لیفٹینٹ گورنر کو انہیں درپیش مشکلات سے باخبر کیا ۔انہوں نے لیفٹینٹ گورنر کوبتایا کہ وہ کس طرح ماحولیاتی معاملات اور منشیات کی لت سے چھٹکارہ پانے کیلئے لوگوں میں بیداری مہم چلارہی ہیں ،اس کے علاوہ کووِڈ لاک ڈائون میں سماج میں بچوں کو کس طرح تعلیم دیتی ہیں ۔لیفٹینٹ گورنر نے ان لڑکیوں کے رول کی ستائش کی اورانہیں صلاح دی کہ وہ لوگوں تک پہنچے اور بشمول جنس ماحولیاتی نظام اور خواتین کی اقتصادی ترقی کیلئے کام کریں ۔اس دوران خدمت خلق سوسائٹی کے ڈاکٹر شیرازمیر اوراعجازاحمدبڈھانہ نے بھی لیفٹینٹ گورنر سے ملاقات کی اور عوامی نوعیت کے مسائل ان کی نوٹس میں لائے۔لیفٹینٹ گورنر نے ان کی طرف سے نشاندہی کی گئی مسائل کو بغور سُنااورانہیں یقین دلایا کہ ان کے حل کیلئے فوری اقدام کئے جائیں۔
صوبائی کمشنر کاویکسینیشن مہم میں سرعت لانے پرزور | ٹیکہ لگانے میں شبہات کی وجہ سے ہچکچاہٹ، غلط فہمیوں کاازالہ کرنے والی دستاویزی فلم ریلیز
سری نگر//صوبائی کمشنر کشمیر پانڈورانگ کے پولے نے ایک مختصر دستاویزی فلم جاری کی جس میں ویکسین لینے میں لوگوں کی ہچکچاہٹ کے شبہات کو دُور کیا گیا جس کی حفاظت کے بارے میں غلط فہمیاںتھیں۔اُنہوں نے ویکسین کو صد فیصد محفوظ قرار دیا اور ان تمام لوگوں پر زور دیا کہ وہ ٹیکے لگانے میں شبہات کا شکا ر ہونے کی وجہ سے ہچکچارہے ہیں اور اَپنی غلط معلومات سے بچیں اور جلد اَز جلد کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگانے کے لئے آگے آئیں۔اُنہوں نے کہا کہ دستاویزی فلم نے ویکسین کی حفاظت سے متعلقہ غلط معلومات اور شبہات دور کیا ہے۔ڈویژنل کووِڈ کنٹرول روم کشمیر ( ڈی سی سی آر کے ) کی بنائی گئی دستاویزی فلم میں کشمیری معاشرے کی کچھ نامور خواتین شخصیات کے پیغام کو دکھا یا گیا ہے جو کہ ٹیکہ کاری کے بعد اپنی فلاح و بہبود کی کہانیاں شیئر کر رہی ہیں۔اِن کا کہنا ہے کہ دودھ پلانے والی ماؤں یا حمل سے متعلق مسائل پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا کیوں کہ ویکسین سب کے لئے ضروری اور محفوظ ہے۔بعد میںصوبائی کمشنر کشمیر نے کووِڈ۔19 ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت بھی کی۔میٹنگ میں اِنچارج ڈی سی سی آر کے طاہر احمد ماگرے اور ڈی سی سی آر کے کے مختلف سینئر سطح کے پبلک ہیلتھ ماہرین نے شرکت کی۔اُنہوں نے 18 برس عمر سے 44برس عمر میں ٹیکہ کاری کی سست رفتار کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے تمام ضلعی اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ اِس اہم گروپ میں ٹیکہ کاری مہم تیز کریں ۔ اُنہوں نے کووِڈ مناسب طرزِ عمل ( سی اے بی ) اور ٹیکہ کاری پر خصوصی توجہ کے ساتھ صوبہ کشمیر کے تمام اَضلاع میں آئی ای سی کی سرگرمیوں کو بڑھانے پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے تمام ضلعی اِنتظامیہ پر زوردیا کہ وہ کووِڈ انفیکشن کو دُور رکھنے کے لئے مستحکم نگرانی کے طریقۂ کار کو برقرار رکھیں ۔ ابتداً اُس نے کووِڈ ایس او پیز کی عدم تعمیل پر بھی خاص طور پر اِجتماعات کے دوران سنجیدہ نوٹس لیا۔اُنہوں نے تمام عمر کے گروپوں میں صدفیصد ٹیکہ کاری کو یقینی بنانے پر زور یتے ہوئے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ کووِڈ انفیکشن کی منتقلی کی زنجیر کو روکنے کے لئے کووِڈ مناسب طرزِ عمل ( سی اے بی ) پر سختی سے عمل کریں۔
شوپیان میںخصوصی ٹیکہ کاری مہم شروع | ضلع ترقیاتی کمشنر کا مختلف مقامات کا دورہ
شوپیان// ضلع اِنتظامیہ شوپیان نے عوام الناس بالخصوص طلاب کے لئے ٹیکہ کاری مہم شروع کی۔اِس موقعہ پر ضلع مجسٹریٹ شوپیان سچن کمار واشیا نے ضلع میں ٹیکہ کاری کے عمل کا جائزہ لینے کے لئے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور اِس مقصد کے لئے تعینات عملے کی حاضری بھی چیک کی۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے صحت اَفسران اور دیگر متعلقہ اَفسرا سے اپیل کی کہ وہ اَپنی سرگرمیوں میں سرعت لائیں اور ضلع میں زیادہ سے زیادہ لوگوںکو کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگانے کے لئے ترغیب دیں۔ڈی ایم نے اہل طلاب اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ جلد اَز جلد کووِڈ مخالف ٹیکے لگائیں ۔ اُنہوں نے کووِڈ ۔19 انفیکشن کے پھیلائو پر قابو پانے کے لئے ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا رہیں۔دریں اِثنا ٔ ضلع بھر میں خصوصی ٹیکہ کاری کائونٹر قائم کئے گئے ہیں اور ٹیکہ کاری کے عمل کو آسانی سے مکمل کرنے کے لئے تمام مطلوبہ اِنتظامات موجود ہیں۔
کولگام میں لوگوں میں مفت ماسک تقسیم
کولگام//ضلع اِنتظامیہ کولگام نے کووِڈ ۔ 19 کے حوالے سے بیداری مہم کو جاری رکھتے ہوئے قصبے اور تمام داٰخلی مقامات پر لوگوں میں مفت ماسک تقسیم کئے۔یہ مہم ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ کی ہدایت پرشروع کی گئی۔اِس موقعہ پر ریونیو ، ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے ماسک لوگوں میں تقسیم کئے اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ کووِڈ ۔19انفیکشن کے پھیلائو پر قابو پانے کے ئے لازمی طور رہنماخطوط پر من و عن عمل کریں۔
کورونا رہنماخطوط کی خلاف ورزیاں | 316530روپے جرمانہ وصول
سرینگر//وادی میںکوروناوائرس کی دوسری لہر کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے پولیس کی مہم جاری ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پولیس نے کووِڈرہنماخطوط کی خلاف ورزی کرنے والے2946افراد سے3لاکھ16ہزار530روپے جرمانہ وصول کیا۔کوروناگائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پولیس کی مہم وادی کے تمام اضلاع میں جاری رہے گی۔ایک بیان میں پولیس نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ کووروناسے بچائو کے رہنماخطوط پر ہرحال میں عمل کریں اور چہرے پرماسک لگانے کے علاوہ بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر جانے سے پرہیز کریں اوربار بارہاتھ دھونے کے علاوہ صفائی ستھرائی کاخاص خیال رکھیں۔
نیشنل کانفرنس ہند پاک دوستی کی علمبردارجماعت:کمال
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس روز اول سے ہی ہند و پاک مضبوط دوستی اور ان قریبی پڑوسیوں کے درمیان ہمیشہ خوشگوار تعلقات اور مضبوط سفارتی تعلقات کی علمبردار جماعت رہی ہے اور اسی اصول پر قائم ودائم ہے۔ وادی کے مختلف علاقوں کے لیڈران اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ نیشنل کانفرنس بانی شیخ محمد عبداللہ ہمیشہ ہندو پاک دوستی کی ترجمانی کرتے رہے اور ہمیشہ کہتے رہتے تھے کہ مضبوط بھارت مضبوط پاکستان کی نشانی ہے اور مضبوط پاکستان مضبوط بھارت کی نشانی ہے اور ان کی دوستی اور خوشگوار تعلقات سے برصغیر خصوصاً جموںوکشمیر میں امن و امان قائم رہ سکتاہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہاکہ بدقستمی سے ہندو پاک کی آپسی تلخیاں اور منفی اثرات اس کے اہل کشمیر پر پڑتے آئے ہیں تاہم سرحدوں پر خاموشی اور فائر بندی سے کافی حد تک سرحدی علاقوںں کے لوگوںکوراحت ملی ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ بدقسمتی سے دہلی کے موجودہ سخت گیر حکمرانوں کی پالیسیوں کی وجہ سے جموں وکشمیر کے لوگوں کو زبان بندی اور علاقائی طور پر تقسیم کرنے نیز فرقہ پرستی اورتعصب کی وجہ سے جمہوریت پر دھبہ لگ چکا ہے خصوصاً جموںوکشمیر کے لوگوںکو آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم کردیا گیا اور اسے تقسیم کرکے اس میں تبدیل کرنا جموںو کشمیر کیلئے ڈاکہ زنی کے برابر ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ آج کے باشعور ڈوگری ، کشمیر اور لداخی عوام نے متحد ہوکر بھاجپا لیڈران کے خلاف احتجاج شروع کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بی جے پی نے جموںوکشمیر کے عوام کو اپنے آئینی حقوق جو 35اے اور دفعہ370کے تحت حاصل تھے،سے محروم کردیا لیکن ان فیصلوں کوعوام نے 5اگست 2019کے دن ہی یکسر مسترد کردیا۔ڈاکٹر کمال نے کہ اکہ بھاجپا کے حکمرانوں کو ابھی بھی وقت ہے کہ اگر وہ ملک کی سالمیت چاہتے ہیں تو وہ جموںوکشمیر کے عوام کو اپنے حقوق فی الفور واپس کریں۔انہوںنے پارٹی لیڈروں سے اپیل کی کہ وہ عوامی مسائلکاازالہ کرکے ایک جٹ ہوجائیںتاکہ ان کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔
علاقائی دیہاتی بینک کی ای بینکنگ سہولیات شروع
سرینگر// جنوبی کشمیر کے پہلگام میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں علاقائی دیہاتی بینک کے چیئرمین ارشد الاسلام نے صارفین کے فائدے کے لیے ڈیجیٹل خدمات متعارف کئے۔ علاقائی دیہاتی بنک کے چیئرمین نے غیر مالی لین دین میں آسانی کے لیے ای ڈی بی سہل موبائل بینکنگ ایپ ، بینک خدمات تک آسان رسائی کے لیے انٹرنیٹ بینکنگ اور 50000 روپے سے زائد کے چیک سے متعلق لین دین کی حفاظت کے لیے ’ای ڈی بی‘ مثبت ادائیگی کا کو متعارف کیا۔ تقریب میں بینک کے تمام معززین نے شرکت کی ۔ اس موقعہ پر علاقائی دیہاتی بینک کے چیئرمین نے بینک کے تمام کاروباری اکائیوںمیں سب کو بہترین صارف سہولیات کی یقین دہانی کرائی اور تمام صارفین سے تعاون کی درخواست کی تاکہ ای ڈی بی کو اپنے کام کے علاقوں میں ترجیحی بینکنگ سروس فراہم کنندہ بنایا جا سکے۔
ڈوڈہ کے گندوہ میں دلدوز حادثہ | سڑک کی تعمیر کے دوران پتھر لگنے سے معمرخاتون ہلاک
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ کی سب ڈویڑن گندوہ میں پیش آئے دلدوز حادثہ میں پتھر گرنے سے عمر رسیدہ خاتون ہلاک و ایک زخمی ہوئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق اتوار کے روز ڈیڑھ بجے کے قریب گنگل سے گوئل باڑ جارہیں دو خواتین کو گنگل موڑ پر بھاری پتھر کی زد میں آ گئیں جس کے نتیجے میں جانی بی بی دختر شمس الدین (65)موقع پر ہی لقمہ اجل بن گئی جبکہ مریاں بیگم زوجہ بشیر احمد (43)ساکنہ چانٹی زخمی ہوئی۔ اس حادثہ کے فوراً بعد مقامی لوگ و پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور دونوں خواتین کو پی ایچ سی چنگا منتقل جہاں پر ڈاکٹروں نے جان بی بی کو مردہ قرار دیا اور طبی لوازمات کے بعد لاش کو وارثین کے سپرد کیا گیا جبکہ مریاں بیگم کو سب ضلع ہسپتال گندوہ منتقل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ پتھر ککوٹی بونیچہ پر جاری تعمیری کام کی وجہ سے گرآیا۔اس سلسلہ میں پولیس اسٹیشن گندوہ میں مشین آپریٹر کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 88/2021 زیردفعہ336/337/304A درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔ ادھر بی ڈی سی چیئرمین چنگا محمد عباس راتھر، ڈی ڈی سی کونسلر ندیم شریف نیاز و بی ڈی سی چیئرمین بھلیسہ چوہدری محمد حنیف نے متاثرہ کنبوں کو معقول معاوضہ ادا کرنے کا انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے۔
قاضی گنڈ میں ریچھ کے حملے میں 3شہری زخمی
سرینگر//قاضی گنڈ میں ریچھ کے حملہ میں تین شہری زخمی ہوگئے۔ کے این ایس کے مطابق اتوار کو برنل لامڈ قاضی گنڈ میں ایک جسیم ریچھ مکئی کے کھیت میں نمودار ہو ا جس کے نتیجہ میں وہاں افراتفری مچ گئی اور لوگ اپنی جانیں بچاکر محفوظ مقامات کی طرف بھاگ گئے ۔ اس دوران ریچھ نے تین افرادپرحملہ کرکے انہیں شدیدزخمی کردیا جن کی شناخت غلام حسن کسانہ، گل محمد گورسی ساکنان برنل لامر اور عمران گورسی ساکنہ بانہال ہوئی ہے۔ اس موقعہ پر لوگوںنے زخمیوں کو فوری طور پر نزدیکی ہسپتال پہنچایا جبکہ ریچھ کو ڈھنڈوں اور آہنی اوزاروں سے شہریوں نے وہاں سے بھگایا۔
ہائی اسکول ستہ بیون دردپورہ کپوارہ میں جگہ اور اساتذہ کی کمی
اشرف چراغ
کپوارہ//ستہ بیون دردپورہ کپوارہ کے ہائی اسکول میں جگہ اور اساتذہ کی کمی کی وجہ سے طلاب کی تعلیم بری طرح متاثر ہورہی ہے ۔مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول میں طلبہ کی پڑھائی کیلئے مزید جگہ فراہم کی جائے جبکہ اساتذہ کی کمی کو بھی پورا کیاجائے۔ مقامی لوگو ں نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ چالیس سال قبل یہا ں مڈل سکول قائم کیا گیا اور 2014میں اس سکول کا درجہ بڑھا کر اسے ہائی سکول بنایا گیا لیکن 7سال گزر جانے کے باوجود بھی سکول میں کوئی تبدیلی عمل میں نہیں لائی گئی۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ سکول میں جگہ کی عد م دستیابی کی وجہ سے محکمہ تعمیرات عامہ نے ’رمسا‘ سکیم کے تحت10کمرو ں پر مشتمل ایک نئی عمارت کا کام ہاتھ میں لیا لیکن تاحال مذکورہ عمارت کی تعمیرمکمل نہیں کی گئی اور اس وقت 10جماعتو ں کے زیر تعلیم بچے محض 4کمرو ں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔مقامی لوگو ں کے مطابق سکول میں زیر تعلیم بچو ں کی تعداد 341ہے تاہم جگہ اور سکول میں تدریسی عملہ کی کمی کی وجہ سے انہیںسخت مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ںکا کہنا ہے کہ ہائی ہونے کے ناطے سکول میں اساتذہ کی ایک خاصی تعدادتعینات ہونی چاہیئے تھی لیکن سکول میں اس وقت محض341بچو ں کو پڑھانے کے لئے 8اسا تذہ موجود ہیں ۔مقامی لوگو ں نے لیفٹینٹ گور نر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اسکول میں تدریسی عملہ کی کمی کو پورا کیا جائے اور انفراسٹر یکچرکو بہتر بنانے اور تعلیمی لوازمات کو پورا کرنے کے لئے ٹھوس اور مو ثر اقدامات کئے جائیںتاکہ زیر تعلیم بچو ں کی تعلیم متاثر ہونے سے بچ جائے۔
منگت بانہال میں ڈیڑھ سالہ بچہ پانی کے ٹب میں گر کر لقمہ اجل
بانہال //محمد تسکین// گزشتہ روز بانہال کے منگت علاقے میں ایک دلدوز واقع میں ایک اٹھارہ مہینے کا بچہ پانی کے ایک ٹب میں گرجانے کے بعد دم گھٹنے کی وجہ سے لقمہ اجل بنا ہے۔مہلوک بچے کی شناخت شاہباز احمد میر عمر اٹھارہ ماہ ولد بلال احمد میر ساکنہ منگت تحصیل کھڑی ضلع رام بن کے طور کی گئی ہے۔ منگت کے مقامی پنچ فاروق احمد شیخ جو مہلوک بچے کا قریبی رشتہ دار بھی ہے ، نے کشمیر عظمیٰ کو اس دلخراش واقع کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ شاہباز احمد کے والدین گھاس کٹائی کی غرض سے گھر سے باہر کھیتوں میں میں تھے اور ڈیڑھ سال کا شاہباز اپنے بھائی اور چچیرے بھائی کے ساتھ گھر پر ہی موجود کھیل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران چار سال سے کم کے اِن تینوں بچوں نے ہاتھوں پر مہندی لگائی تھی کہ ڈیڑھ سال کا شہباز اپنے گھر میں موجود غسل خانے میں گھس گیا اور ہاتھ دھونے کی کوشش کے دوران پھسل کر وہاں پانی سے بھرے ٹب میں گر گیا۔ انہوں نے کہا کہ مہلوک کا بھائی اور چچا زاد بھائی اسے باہر ڈھونڈ رہے تھے لیکن اس کا کوئی پتہ نہ چل سکا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران کام سے واپس آئی اس کی ماں نے جب غسل خانے کا دروازہ کھولا تو وہاں شاہباز کو پانی کے ٹب میں مردہ پایا۔ انہوں نے کہا کہ بچے کی موت موقع پر ہی واقع ہوچکی تھی۔
ڈپٹی کمشنر رام بن کی یقین دہانی کام آئی | بانہال میں 2 روز سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ
محمد تسکین
بانہال // بانہال قصبہ میں مسافر گاڑیوں کے سٹینڈ کو منتقل کرنے کے خلاف بانہال میں دو روز سے جاری دکانداروں اور ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال ڈپٹی کمشنر رام بن کی یقین دہانی کے بعد ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور دکانداروں اور ٹرانسپورٹروں سے کہا گیا ہے کہ وہ پیر کے روز سے اپنا کاروبار دوبارہ شروع کریں۔اتوار کے روز بیوپار منڈل بانہال کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ڈی ڈی سی کونسلر امتیاز کھانڈے، سابق صدر بیوپار منڈل بانہال شمس الدین راہی، کے علاوہ سرپنچوں ، پنچوں اور دیگر سیاسی کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر صدر بیوپار منڈل بانہال نصیر احمد وانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے فون پر انہیں بتایا ہے کہ وہ مسافر گاڑیوں کے سٹینڈ کے مسئلے کو آئندہ دو روز میں بانہال آکر موقع پر ہی حل کرینگے۔ نصیر احمد وانی نے مزید کہا کہ ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام کی اس یقین دہانی کے بعد متفقہ طور فیصلہ لیا گیا کہ آج یعنی پیر کے روز سے دکاندار اور ٹرانسپورٹر اپنی ہڑتال کو ختم کرکے اپنی کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع کریں گے۔
دچھن کے ہونزڈعلاقہ میں لاپتہ ہوئے19 افراد کا کوئی سراغ نہ مل سکا
ریسکیو آپریشن ایک ماہ کے بعد ختم
مارے گئے افراد کے لواحقین کو نوکریاں فراہم کی جائیں گی:ڈی سی کشتواڑ
عاصف بٹ
کشتواڑ//گزشتہ ماہ 27تاریخ کو ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ علاقہ دچھن کے ہونزڈ گائوں میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں آئے سیلاب کے سبب لاپتہ ہوئے 19افراد کی تلاش میں لگی این ڈی آر ایف ، ایس ڈی آر ایف، پولیس و فوج کی ٹیموں کے ہاتھ کچھ نہ لگااورایک ماہ بعد بھی لاشیں بازیاب نہ ہوسکیں جسکے بعد انتظامیہ نے ریسکیو آپریشن کو مکمل طور ختم کر دیا۔ ضلع انتظامیہ نے واقعے کے فوراً بعد علاقہ میں امدادی کارروائی شروع کی تھی اور لاپتہ افراد کو ڈھونڈ نکالنے کا عمل شروع کیا تھالیکن ایک ماہ کے زائد عرصے کے بعد بھی لاپتہ ہوئے افراد کاکوئی پتہ نہیں چل سکا۔ضلع ترقیاتی کمشنر اشوک شرما نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ریسکیو آپریشن کو مکمل طور بند کردیا گیا ہے جبکہ علاقہ میں انتظامیہ نے ہرممکن مدد فراہم کی۔ انھوں نے ا علیٰ حکام کو اس بارے میں آگاہ کیا ہے اور امید ہے کی لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے مزید مدد ملے گی تاکہ متاثرین کی مدد ہوسکے۔انھو ں نے کہاکہ کل 19خاندان متاثر ہوئے ہیں جن میں فوت ہوئے افراد کے اہل خانہ کے ایک فرد کو بطور ایس پی او تعینات کیا گیا ہے جبکہ دو خواتین کو پاور پروجیکٹ میں نوکری فراہم کی گئی ہے اور آنے والے چند دنوں کے اندر مزید چھ افراد کو پاور پروجیکٹ میں نوکری فراہم کی جائے گی جبکہ رہایشی مکانات کی دوبارہ تعمیر کیلئے بھی ضلع انتظامیہ امداد فراہم کر رہی ہے اور پاور پروجیکٹ کمپنیوں نے شیٹ و دیگر سامان مہیا کیا ہے۔وضح رہے کہ اس سانحہ میں کل 26 افراد کی موت واقع ہوئی جبکہ 17افراد زخمی ہوئے تھے اور 8رہایشی مکانات اور 1 راشن ڈیپو تباہ ہوگیا تھا۔
لیفٹیننٹ گورنر کے مشیروں اور پولیس سربراہ کی جنم اشٹمی پر عوام کومبارکباد
سرینگر//لیفٹیننٹ گورنرکے مشیروں راجیو رائے بھٹناگر ، فاروق خان اور بصیر احمد خان نے جموںوکشمیر کے لوگوں کو جنم اَشٹمی کے موقع پر مبارکباد دی ہے ۔اپنے مبارکبادی پیغامات میں مشیروں نے کہاہے کہ یہ تہوار ہمیں سادگی اور بہادری کے کاموں کی یاد دِلاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کرشن جی کی زندگی اور تعلیمات سے متاثر ہونا چاہئے ۔مشیروں نے اُمید ظاہر کی کہ یہ تہوار مختلف طبقوں اور ملک کی ثقافت کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرسکتا ہے ۔اس موقع پر مشیروں نے پورے جموںوکشمیر کے امن ، ترقی اور خوشحالی کے لئے دعا کی ۔اس دوران ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے جموں وکشمیر کے لوگوں ،مہلوک پولیس جوانوںکے اہل خانہ ،سبھی پولیس اہلکاروں اور افسروں اور ان کے اہل خانہ کیلئے جنم اشٹمی کے موقع پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔اپنے پیغام میں ڈی جی پی نے امید ظاہر کی کہ بھگوان کرشنا کی عقیدت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی تعلیمات ہمیں ہر جگہ امن اور بھائی چارے کی تعمیر کیلئے رہنمائی کرتے ہیں۔انہوں نے جموں کشمیر میں امن ، خوشحالی اور ترقی کیلئے دعا کی۔
علمائے امامیہ کشمیر کے زیر اہتمام یوم حسین ؑکا انعقاد
شہدائے کربلا کو خراج عقیدت،اتحاد واتفاق پر زور
سرینگر//مجلس علمائے امامیہ جموں و کشمیر کے زیر اہتمام گنڈ حسی بٹ میں یوم حسین ؑ کا اہتمام کیا گیاجس میں علماء، دانشور اور شعرا کے علاوہ عقیدتمندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے امام عالی مقام ؑ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ایک بیان کے مطابق تقریب دو نشستوں پر مشتمل رہی ۔پہلی نشست کا صدارتی خطبہ آغا سید محمدہادی نے پیش کیا جبکہ دوسری نشست میں یہ فرایض مولانا شیخ غلام رسول نوری نے انجام دئے۔تقریب میں مولانا شبیر احمد صوفی ،مولانا مسرور عباس انصاری، مولانا نذیر احمد حلمی، آغا سید لیاقت،مولانا غلام محمد گلزار ،مولانا حاتم علی میر اور مولانا حکیم سجاد سمیت متعدد علما ء نے فلسفہ شہادت امام عالی مقام ؑ پر مفصل روشنی ڈالی۔علماء نے سیرت امام عالی مقام ؑپر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی اور باہمی اتحاد و اتفاق پر زور دیا۔اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مجلس علما ء کے ترجمان نے بتایا کہ یوم حسین ؑ منانے کا مقصد امام عالی مقام ؑکے آفاقی پیغام کو عام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ علمائے امامیہ کشمیر ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں تاکہ امام عالی مقام ؑکے عظیم پیغام کو وسیع سطح پر اجاگر کرنے کے لئے متحد ہوکر اقدامات کئے جائیں۔
اصغر سامون کا گریز میں عوامی دربار
عوامی مسائل حل کرنے کیلئے کئی کمیٹیاں تشکیل
بانڈی پورہ//پرنسپل سیکریٹری سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے گریز میں ایک عوامی رابطہ پروگرام کا اِنعقاد کیا تاکہ عوام سے زمینی سطح پر مقامی مسائل اور شکایات کے اَزالے کا جائزہ لیا جاسکے۔اِس موقعہ پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ظہور احمد میر، سب ڈویژنل مجسٹریٹ ڈاکٹر مدثر، اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ عبدالرشید داور ضلع کے دیگرا علیٰ اَفسران موجود تھے۔عوامی رابطہ پروگرام کے دوران متعدد وَفود اور اَفراد ، ضلع ترقیاتی کونسلوں کے ممبران ، بی ڈی سی کے چیئرپرسن اور پنچایتی راج اِداروں کے دیگر اَرکان نے پرنسپل سیکرٹری سے ملاقات کی اور موصوف کو روزمرہ زندگی میں درپیش مسائل سے متعلقہ جانکاری دی۔وَفود نے اَپنے متعلقہ علاقوں کے کئی دیگر مسائل اُٹھائے جن میں سٹرک رابطے ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی ،ایم جی نریگا، ہیلتھ کارڈ، مختلف کاموں کی زیرِ اِلتوأ اَدائیگی ، صحت اِداروں اور سکولوں کے مسائل اور ضروری اشیاء کی دستیابی کے مسائل شامل ہیں۔ وَفود نے پرنسپل سیکریٹری سے کئی مسائل کے حل کے لئے اُن کی مداخلت طلب کی۔پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر اَصغر حسن سامون نے وَفود کو بغور سنا اور اُن کی شکایات کے اَزالے کے لئے موقعہ پر ہی ہدایات دی۔اُنہوں نے مختلف دیگر مسائل کے حل کے لئے بھی ہدایات جاری کیں جبکہ دورانِ عوامی رابطہ پروگرام لوگوں کے اُٹھائے گئے مسائل کو حل کرنے کے لئے کئی کمیٹیاں اور مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔اُنہوں نے کہا کہ عوامی رابطہ رسائی پروگراموں کے اِنعقاد حکومت کے لئے ایک اہم تاثر فراہم کرتا ہے اورحکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کے مسائل کا حل ان کے دہلیز پر ممکن ہو تاکہ انہیں سیکرٹریٹ یا دیگر سرکاری دفاتر میں اَفسران کے پاس نہ جانا پڑے۔
فکشن رائٹرس گلڈ کی دو سو نشستیں مکمل ہونے پر تقریب
وحشی سعید 2020کے بہترین اردو فکشن نگارقرار
سرینگر//جموں کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ کی 200نشستیں مکمل ہونے پر اتوار کو ایوان ادب ہوٹل شہنشاہ پیلس سرینگر میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔تقریب کی صدارت سابق جسٹس ،جسٹس بشیر احمد کرمانی نے انجام دی جبکہ سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسرمعراج الدین بطور مہمان خصوصی تھے۔ گلڈ کے سرپرست وحشی سعید، صدر شہزادہ بسمل اور سابق صدر ڈاکٹر نذیربھی ایوان صدارت میں موجود تھے۔ جنرل سیکرٹری شہزادہ سلیم نے دوسونشستوں کا ایک مختصر خاکہ پیش کیاجس کے بعد ڈاکٹر نذیر مشتاق کی تازہ تصنیف ’تنکے‘ اور شہزادہ بسمل کی ’چلتے چلتے‘ (حصہ اول، دوئم) کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔ اس موقع گلڈ نے وحشی سعید کو بہترین اردو فکشن نگار برائے سال 2020 ، شکیل الرحمن کو بہترین کشمیری فکشن نگار برائے سال 2020 اور ماہپارہ ریاض خان کو بہترین انگریزی فکشن نگار برائے سال 2020 سے نوازتے ہوئے انہیں اسناد، شال اور ٹرافی پیش کی جبکہ ڈاکٹر نذیر مشتاق اور شہزادہ بسمل کو شال اور سند افتخار سے نوازا گیا۔ جسٹس(ر) بشیر کرمانی اور وائس چانسلر سینٹرل یونیورسٹی پروفیسر معراج الدین کی بھی عزت افزائی کی گئی۔ سہیل سالم اور ڈاکٹر مشتاق حیدر نے بالترتیب دونوں کتابوں پر تبصرہ پیش کیا۔اس موقع پرادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ، نامور فکشن نگار خالد حسین اور ڈاکٹر ریاض توحیدی نے گلڈ کو دو سو نشستیں مکمل ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے کئی اہم مشوروں سے نوازا۔ پروفیسر معراج الدین نے گلڈ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے سینٹرل یونیورسٹی میں ایک نشست منعقد کرنے کی پیشکش کی۔ جسٹس کرمانی نے گلڈ کو نوجوان نسل کے لئے ایک اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا۔تقریب میں جن دیگر لوگوں نے شرکت کی اُن میں نور شاہ، ڈاکٹر رفیق مسعودی، آفاق عزیز، غلام جیلانی، شبیر مجاہد، رحیم رہبر، راجہ یوسف، طارق شبنم، یوسف شاہین، مشتاق برق، مقبول فیروضی، محی الدین رشی، پرویز مانوس، عرفان عالم، جاوید شبیر، ذیشان فاضل اور جہانگیر احمد بٹ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ گلڈ کی نائب صدر ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی نے شکریہ کی تحریک پیش کی ۔
اردو اساتذہ کی صلاحیت سازی اہم :انجمن فروغِ اردو
چراشریف میں اجلاس ، ڈاکٹر کوثر کی کتا ب کی رسم رونمائی
سرینگر//انجمن فروغِ اردو جموں و کشمیر کی مجلس منتظمہ کا ایک اجلاس چرار شریف میں منعقد ہوا جس میںجموں و کشمیرمیں اردو زبان کو درپیش مسائل پر سنجیدہ بحث کی گئی ۔ شرکائے مجلس نے اسکولی سطح پر اردو زبان کے تدریسی نظام کو درست کرنے کیلئے اس سے وابستہ اساتذ ہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے پرزور دیا تاکہ نئی نسل دوسرے مضامین کے ساتھ ساتھ اُردو زبان میں بھی مہارت حاصل کرسکیں۔اس نشست میں غلام نبی ادفر بحیثیت مہمانِ ذی وقار موجود رہے۔ ان کے علاوہ انجمن کے سرپرستِ اعلیٰ میر علی محمد شیدا صدرمجلس کی حیثیت سے شامل رہے ۔ان کے علاوہ اساتذہ ،ریسرچ اسکالر اور محبان ِ اردو نے بھی اس ادبی نشست میں شرکت کی جن میں ڈاکٹر الطاف انجم(نظامتِ فاصلاتی تعلیم کشمیر یونیورسٹی)،ڈاکٹر کوثر رسول (شعبۂ اردو کشمیر یونیورسٹی) ،ڈاکٹر نصرت جبین (شعبہ ٔ اُردو ، سینٹرل یونیورسٹی کشمیر)،ڈاکٹر مشتاق حیدر(شعبۂ اردو ، کشمیر یونیورسٹی)،ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری(محکمہ اعلیٰ تعلیم )،ڈاکٹر شاہ فیصل(ڈگری کالج، عید گاہ سرینگر)،ڈاکٹر ریاض توحیدی (محکمہ اسکولی تعلیم )،ڈاکٹر فیض احمد فیاض(ڈگری کالج، ہندوارہ) ،ڈاکٹر ظفر عبداللہ ( شعبۂ اُردو ، سنٹرل یونیورسٹی کشمیر ) ، محمد عارف (ہولی ہوم اسکول چرارِ شریف )کے علاوہ ریسرچ اسکالر غلام نبی کمار،عرفان رشید ڈار،سجاد رشید ڈار،محمد شفیع بٹ،گلزار احمد ڈار اور ظہور احمد گنائی بھی شامل رہے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اسکولوں میں اردو کو صحیح طورپر پڑھانے کی ضرورت ہے۔ شرکائے مجلس نے متفقہ طور پر ابتدائی درجات میں اُردو درس و تدریس کے مسائل کا حتی المقدورازالہ کرنے پر زور دیا۔اسلئے ہمارے اسکولوں میں اُردو اساتذہ کی تربیت لازمی قرار پائی ۔بیشتر ارکان نے یہ تجویز پیش کی کہ بنیادی اور ثانوی سطح پر اردواساتذہ کی تربیت کی ضرورت ہے جس کے لیے ہر ضلع میں اردو اساتذہ کے لیے تربیتی مجالس کومنعقد کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اجلاس کے دوسرے حصہ میں ڈاکٹر کوثر رسول کی تحقیقی اور تنقیدی کتا ب ’ممکنات ‘ کی رسم رونمائی انجام دی گئی ۔یہ کتا ب ڈاکٹر کوثر کے تحقیقی و تنقیدی مضامین پر مشتمل ہے۔اس کتا ب پرڈاکٹر مشتاق حیدرنے پُر مغز تبصرہ بھی پیش کیا جسے سبھی حاضرین مجلس نے بہت پسند کیا ۔
نالہ رمبی آرہ سے غیر قانونی کان کنی کی پاداش میں جے سی بی ضبط
شوپیان // شوپیان میں تحصیلدارنے ہفتہ کی شام افسران کی ایک ٹیم کے ساتھ ایک اچانک چھاپے کے دوران ایک مقامی ٹھیکیدار کا ایک جے سی بی ضبط کیاجو معدنیات کو غیر قانونی طور پررمبی آرہ نالہ سے نکال رہا تھاجبکہ جے سی بی کے دو آپریٹربھی حراست میں لئے گئے۔ ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔تحصیلدار نے بتایا کہ انہیں گزشتہ کئی ہفتوں سے علاقے میں غیر قانونی کان کنی کی کئی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس پر چھاپہ مارا گیا اور مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کی گئی۔
منشیات کا خاتمہ اولین ذمہ داری :حقانی ٹرسٹ
سرینگر//حقانی میموریل ٹرسٹ کے ایک اجلاس میں مقررین نے منشیات کے بڑھتے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بدعت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا ۔ا نہوں نے کہاکہ یہ بدعت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے،جس سے ہمارا سماج بری طرح خصوصا نوجوان تباہی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔اجلاس میں شرکا نے گزارش کی کہ اس بدعت کو ختم کرنے کیلئے سماجی،انفرادی ،اجتماعی اور سرکاری سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ خودکشی کے واقعات میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کو روکنا ملت کے ہرفرد کی اہم ذمہ داری قرار دیا گیا۔
مظفر شاہ کا مظفر بیگ سے اظہار تعزیت
سرینگر//عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے سینئر سیاسی رہنما مظفر حسین بیگ کی بہن کی رحلت پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا۔انہوں نے سوگوار خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی جنت نشینی اور غمزدہ کنبے کیلئیصبر جمیل کی دعا کی۔
نذیر ایتومذہبی مقامات بند کرنے پر برہم
سرینگر// سینئر سیاسی کارکن نذیر احمد ایتو نے مساجد اوردیگر مذہبی مقامات کو بند کرنے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور اسے لوگوں کے مذہبی جذبات میں براہ راست مداخلت قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے عوام میں ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت فوری طور پر تمام مذہبی مقامات کھول دے گی۔
معیاری بیج کی پیداوار
بانڈی پورہ میں 6 روزہ تربیتی پروگرام اختتام پذیر
بانڈی پورہ//دیہی نوجوانوںکیلئے چھ روزہ تربیت ’’ معیاری بیج کی پیداوار‘‘ کے سلسلے میں کرشی وگیان مرکز ، بانڈی پورہ میں اختتام پذیر ہوئی۔اس تربیتی پروگرام کو مینیج حیدرآباد نے سمیٹی ڈائریکٹوریٹ آف ایکسٹینشن سکاسٹ کشمیر کے تعاون سے ڈائریکٹر ایکسٹینشن پروفیسر دل محمد مخدومی کی صدارت میں منعقد کیا۔ وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی کشمیر پروفیسر جے پی شرما مہمان خصوصی تھے جبکہ اجلاس میں شریک دیگر افسران میں بالترتیب پروفیسر جے پی شرما اور پروفیسر سرفراز وانی ، ڈائریکٹر ریسرچ زرعی یونیورسٹی جموں اور پروفیسر مسعود سلیم میر ، ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ایکسٹینشن سکاسٹ کشمیر شامل تھے۔ تربیتی پروگرام کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر طارق سلطان نے مہمانوں کو تربیتی پروگرام کی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ وائس چانسلر نے تربیت یافتہ دیہی نوجوانوں کو پدم شری ایوارڈ یافتہ کسانوں کی مثالوں کا حوالہ دیا اور مشورہ دیا کہ وہ مختلف تربیتی شعبوں میں انٹرپرینیورشپ حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کریں۔ انہوں نے دیہی نوجوانوں کیلئے اس طرح کے تربیتی پروگرام کے اہتمام میں کے وی کے بانڈی پورہ ٹیم کے کردار کی تعریف کی۔ پروفیسر دل محمد مخدومی ، پروگرام کوآرڈی نیٹر اور ڈائریکٹر ایکسٹینشن نے کے وی کے بانڈی پورہ سے وابستہ علاقے کے چند کسانوں کو متعارف کرایا جنہوں نے اپنی اہم کامیابیاں دیں۔ کچھ رول ماڈل چیمپئن کسانوں کو مختلف سرکاری ایجنسیوں نے قومی اور علاقائی سطح پر کئی پلیٹ فارمز سے نوازا ہے۔وی سی نے متعلقہ افراد کو ہدایت دی کہ وہ چیمپئن کسان کانفرنس SKUAST شالیمار کیمپس میں منعقد کریں۔بعد میں ٹریننگ مکمل کرنے والے دیہی نوجوانوں میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ دیہی لڑکیوں کے لیے مرکز میں کاٹنے اور ٹیلرنگ کا ایک متوازی پروگرام چل رہا ہے۔
ناظم زراعت کاترال دورہ
معاشی ترقی کیلئے جدید زرعی ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر زور
سرینگر//ڈائریکٹر ایگریکلچر کشمیر چوہدری محمد اقبال نے اتوار کوضلع پلوامہ کے ترال سب ڈویژن کا دورہ کیا۔انہوںنے دور دراز اور قبائلی دیہات حاجن ، لورگام ، وانتی ناڈ ، نرستان اور دیور کا دورہ کیا۔ڈائریکٹر کے ساتھ چیف ایگریکلچر آفیسر پلوامہ غلام محمد دھوبی ، ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ محمد یونس چوہدری ، ایگریکلچر ایکسٹینشن آفیسر لورگام ، ممبر کسان مشاورتی بورڈ ارشاد احمد ڈار اور محکمہ کے دیگر سینئر افسران موجود تھے۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر موصوف نے کہا کہ ان دور دراز اور قبائلی علاقوں کی معاشی ترقی زراعت کی پیداوار میں اضافے کی توقع رکھتی ہے اور اس لیے بہتر اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے تعارف پر زور دیا جا رہا ہے۔ڈائریکٹر زراعت نے کہا کہ محکمہ ان علاقوں میں زراعت کے شعبے کی ترقی اور ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ قبائلی علاقوں کے باشندوں کو باوقار زندگی فراہم کی جا سکے۔انہوں نے زراعت میں تنوع کی اہمیت کو دہرایا اور اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں کاروباری ترقی ایک خوشحال ، پائیدار اور ترقی یافتہ زراعت کے شعبے کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ ان دور دراز علاقوں کے کسانوں کو نئی اور جدید زراعت کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے خصوصی تربیتی پروگراموں کے انعقاد کے لیے موقع پر ہدایات جاری کی گئیں اور یہ بھی ہدایات دی گئیں کہ کسانوں کو ان کے محکموں کی طرف سے کی جانے والی سکیموں کے بارے میں آگاہی کے لیے زراعت سے متعلقہ محکموں کے ماہرین کو مدعو کیا جائے۔چیف ایگریکلچر آفیسر پلوامہ نے ڈائریکٹر کو سب ڈویڑن ترال کے مجموعی زرعی منظر نامے کے بارے میں آگاہ کیا۔ڈائریکٹر نے بعد میں سب ڈویژن ترال میں مختلف سکیموں اور منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔