مینڈھر میں خاتون ٹیچر کا قتل کیس معاملہ
پولیس اہلکار او ر اس کی ماں گرفتار ،تحقیقات شروع
جاوید اقبال
مینڈھر //جموں وکشمیر پولیس نے مینڈھر کے کیری کانگڑھ علاقہ میں خاتون ٹیچر کے قتل کیس معاملہ کو حل کرتے ہوئے ٹیچر کے خاوند اور ساس کو گرفتار کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔پولیس نے بتایا کہ 24اگست کو خاتون ٹیچر شہناز اختر زوجہ محمد عرفان مہناس سکنہ کیری گلہوتہ کی لاش گھر کے قریب سے مشکوک حالت میں ملی تھی جبکہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کروایا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں متاثرہ خاتون کے جسم پر زخمی ہونے کے نشانات ملے جن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ مذکورہ معاملہ قتل کا ہے جس کے بعد مزید تحقیقات عمل میں لائی گئی ۔سب ڈویژنل مجسٹریٹ مینڈھر ظہیر عباس جعفری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ معاملے کے بعد ایک کیس درج کر کے ایک ٹیم کو تحقیقا ت کے سلسلہ میں تعینات کیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں مذکورہ قتل کیس کے سلسلہ میں کوئی جانکاری نہیں تھی تاہم متعلقہ ٹیم کی محنت کے چھ دنوں کے بعد قتل کیس کو حل کرتے ہوئے ابتدا میں خاتون کے خاوند اور اس کی ساس کو قتل کر جرم میں گرفتار کرلیا ہے ۔غور طلب ہے کہ خاتون کا خاوند جموں وکشمیر پولیس میں سرینگر کے بٹ مالو علاقہ میں آئی آر پی کی 3ویں بٹالین میں تعینات ہے ۔ملزم کی شناخت محمد عرفان منہاس ولد اسلم منہاس سکنہ کیری گلہوتہ کے طورپر ہوئی ہے جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مذکورہ پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی سے چوری چھپے نکل کر اپنے گائوں میں رات کی تاریکی میں پہنچا جہاں پر اس نے اپنی ماں کیساتھ مل کر قتل کا معاملہ انجام دیا اور دوبارہ سے مغل شاہراہ کے ذریعہ اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا ۔سب ڈویژنل پولیس آفیسر مینڈھر نے مذکورہ پیش رفت کو کامیابی قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس سلسلہ میں ابھی مزید تحقیقات کی جارہی ہیں جبکہ اس کیس میں مزید گرفتاریاں متوقعہ ہیں ۔
بدھل کو تحصیل کا درجہ دینے کا مطالبہ
محمد بشارت
کوٹرنکہ //بلاک ڈیولپمنٹ کونسل چیئر مین کوٹرنکہ جاوید چوہدری نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ بدھل کو جلداز جلد تحصیل کا درجہ دیا جائے تاکہ عام لوگوں کو بنیادی سہولیات علاقہ میں ہی میسر ہو سکیں ۔لیفٹیننٹ گورنر کو پیش ایک یاداشت میں موصوف نے دس معاملات کو درج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی ہے ۔اس سلسلہ میں بولتے ہوئے موصوف نے کہاکہ بدھل کو 1967میں تحصیل کا درجہ دیا گیا تھا تاہم اس کے کچھ ہی عرصہ کے بعد تحصیل کو نیا بت میں تبدیل کر دیا گیا تھا جس کے بعد اس کو دوبارہ سے تحصیل کا درجہ دیا ہی نہیں گیا ۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پیڑی ،جمولہ ،کوٹرنکہ اور بدھل بیلٹ کو سیاحتی نقشے پر لانے کیساتھ ساتھ بدھل کو تحصیل کا درجہ دیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کو سہولیات فراہم ہو سکیں ۔
سرنکوٹ میں سٹریٹ لائٹس خراب
بختیار کاظمی
سرنکوٹ// سرنکوٹ قصبہ میں محکمہ میونسپل کمیٹی کی جانب سے نصب کی گئی سٹریٹ لائٹس خراب ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں ۔پانچ برس قبل قصبہ میں سٹریٹ لاٹس نصب کی گئی تھی جو کچھ ہی ماہ صیح ڈھنگ سے چلتی رہی۔ پچھلے تین سالوں سے قصبہ کی متعدد لائٹس نکارہ ہو چکی ہیںجس کی وجہ سے گلیوں میں لوگوں بالخصوص نمازیوں کا چلنابھی دشوار ہوگیا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ عشاء کی نماز کے وقت بزرگوں کوروشنی کی اشد ضرورت رہتی ہے لیکن بدقسمتی سے انتظامیہ کی جانب سے نصب کردہ لائٹس خراب ہو چکی ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سرنکوٹ میں چوری کیساتھ ساتھ منشیات سمگلنگ جیسے دیگر غیر قانونی کام ہورہے ہیں تاہم قصبہ کی لگ بھگ سبھی لائٹس خراب ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک ان کو مرمت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی جارہی ہے ۔مکینوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ میونسپل حکام کیساتھ ساتھ کونسلروں کی جانب سے بھی کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ جلدازجلد سٹریٹ لائٹس کی مرمت کی جائے تاکہ عام لوگوں کی پریشانی کم ہو سکے ۔
منجا کوٹ اور نوشہرہ میں مواصلاتی نظام درہم برہم
رمیش کیسر
راجوری //سب ڈویژن نوشہرہ اور تحصیل منجا کوٹ مواصلاتی کمپنیوں کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔صارفین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ نوشہرہ کے متعدد دیہات میں موبائل کمپنیوں بالخصوص بھارتیہ ائیر ٹیل اور بی ایس این ایل کی جانب سے شدید ناقص نوعیت کی سروس فراہم کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے نہ تو فون کال ہورہی ہے اور نہ ہی انٹر نیٹ تیزی کیساتھ چل رہا ہے ۔اسی طرح سرحدی تحصیل منجا کوٹ کے صارفین نے مواصلاتی کمپنیوں کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ موبائل ری چار فور جی کروانے کے باوجود بھی ان کو معیاری انٹر نیٹ سروس فراہم ہی نہیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کردہ انٹر نیٹ سروس اس قدر ناقص ہے کہ انٹر نیٹ 7سے 9کے بی پی ایس کے سپیڈ سے نیٹ چلتا ہے ۔صارفین نے بتایا کہ ضروری کام کرنے کے دوران بھی ان کو کئی عرصہ تک معیاری انٹر نیٹ سروس کا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ مواصلاتی کمپنیوں کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ ان کو دونوں علاقوں میں معیاری موبائل و انٹر نیٹ سروس فراہم کی جائیں ۔