گاندربل میں سڑک حادثات
شہری ہلاک،4زخمی
ارشاداحمد
گاندربل// صفاپورہ اور بٹہ وینہ گاندربل میں دو الگ الگ حادثوں میں ایک شہری ہلاک اورچار زخمی ہوگئے۔.بٹہ وینہ میں آٹو لوڈ کیرئیر زیر نمبر JKO16-7950 سڑک پر پلٹنے سے اس میں سوار تین افراد زخمی ہوگئے جن میں سے ایک شہری ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا۔مقامی لوگوں کے مطابق آٹو لوڈ کیرئیر بٹہ وینہ سے گزہامہ جارہا تھا کہ راستے میں پلٹنے سے اس میں سوار عبدالاحد گنائی ولد غلام نبی، غلام رسول گنائی ولد غلام نبی ساکنان گزہامہ واکورہ،مشتاقِ احمد ڈار ولد محمد یوسف ساکنہ خان پورہ واکورہ زخمی ہوگئے۔اس موقع پر مقامی لوگوں کی مدد سے زخمیوں کو نزدیکی ہسپتال واکورہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے عبدلاحد گنائی کو مردہ قرار دیا،جبکہ دیگر دونوں زخمیوں کو مزید علاج کے لئے میڈیکل انسٹیچیوٹ صورہ منتقل کیا گیا۔ادھر پہلی پورہ صفاپورہ میں سکوٹی اور ٹپر زیر نمبر JKOIN-3315کے درمیان ہوئی ٹکر کے نتیجے میں سکوٹی سوار ثاقب احمد ملک ولد عتیق اللہ ساکنہ لاوئے پورہ سرینگر زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر نزدیکی طبی مرکز لے جایا گیا جہاں سے اسے مزید علاج کے لئے بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال برزلہ سرینگر منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے ٹپر ڈرائیور راحیل احمد راتھر ساکنہ وسن گاندربل کو گرفتار کرکے ٹپر کو ضبط کرکے مزید تحقیقات شروع کردی۔
سونہ مرگ حادثہ
لاپتہ جے سی بی ہیلپرکی تلاش جاری
غلام نبی رینہ
کنگن//سوموارکو ہنگ سونہ مرگ میں سڑک حادثے میں نالہ سندھ میں لاپتہ ہوئے جے سی بی ہیلپر عرفان احمد بٹ ولد بشیر احمد بٹ ساکن واکورہ گاندربل کی لاش کو دوسرے روز بھی برآمد نہیں کیا گیا۔ بارسو گاندربل سے سونہ مرگ جارہی ایک جے سی بی ہنگ سونہ مرگ کے مقام پر ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر نالہ سندھ میں گرگیا جس کے نتیجے میں جے سی بی ڈرائیور زخمی ہوگیا ،جبکہ جے سی بی ہیلپر عرفان احمد بٹ کی لاش کو نالہ سندھ سے برآمد کرنے کے لئے ایس ایچ او سونہ مرگ یونس بشیر ایس ایچ او گنڈ میر عبدالرشید اور ایس ڈی آر ایف اور لاپتہ ہوئے عرفان احمد کے لواحقین اور رشتہ دار دوسرے روز بھی لاش کو برآمد کرنے میں لگے ہوئے تھے لیکن شام دیر گئے تک لاش کو برآمد نہیں کیاجاسکا۔ ایس ایچ او سونہ مرگ یونس بشیر نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ منگل کی صبح سے ہی لاپتہ نوجوان کی لاش کو برآمد کرنے کی کاروائی شروع کردی گئی تھی، تاہم شام دیر گئے تک لاش کو برآمد نہیں کیا گیا اور اندھیرے کے باعث آپریشن کو ملتوی کر دیا گیا اور آج دوبارہ صبح چھ بجے سے ہی آپریشن شروع کیاجائے گا ۔
آن لائن تدریس کاکام جاری:پروفیسر معراج الدین احمد
سرینگر//سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کورونا وائرس کی عالمگیر وباء سے پیداشدہ مشکل صورتحال کے باوجودسختی کے ساتھ تعلیمی اور امتحانی کلینڈر پر کاربند ہے۔ا س بات کا اظہار یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین احمدمیر نے منگل کویونیورسٹی کی مانیٹرنگ اینڈ پلاننگ کمیٹی کی آٹھویں اوریونیورسٹی بلڈنگ کمیٹی کی29ویں میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں آن لائن تدریس کا کام بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے اورآخری سیمسٹر کے امتحانات وقت پر منعقد کئے گئے۔پروفیسر معراج الدین احمد نے کہا کہ یونیورسٹی دیگر سینٹرل یونیورسٹیوں جو اسی کے ساتھ قائم ہوئیں، کے مقابلے میں تعلیمی اورتحقیقی محاذ پرآگے بڑھ رہی ہے۔یونیورسٹی میں اعلیٰ معیار کی تعلیم دی جاتی ہے اور یہ تعلیم کیلئے طلاب کی پہلی پسند بن چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں کے طلاب بھی یہاں آکر اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔پروفیسر معراج نے کہا کہ یونیورسٹی نے پہلی بار پوسٹ گریجویٹ،انڈرگریجویٹ ،ریسرچ اور ڈپلوما کورسوں میں سینٹرل یونیورسٹی کشمیر داخلہ امتحان منعقد کیا۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا کتب خانہ تمام پانچ کیمپسوں میں پھیلا ہے اور یہاں50ہزار سے زائد کتب ہیںجبکہ آن لائن 2116معروف پبلشروں کے مجموعے میں دستیاب ہیں۔
حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے پیدا ہونے والے فوائد
جموں و کشمیر بائیو ڈائیورسٹی کونسل کی دوسری میٹنگ منعقد
سرینگر// چیئرمین جموں و کشمیر بائیو ڈائیورسٹی کونسل ڈاکٹر موہت گیرا نے شیخ باغ لالچوک میںجموں و کشمیر کی کونسل کی دوسری میٹنگ کی صدارت کی اور جموں و کشمیر کی حیاتیاتی تنوع کی دستاویزات پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔حیاتیاتی تنوع کے تحفظ ،اس کے اجزاء کے پائیدار استعمال اور حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے پیدا ہونے والے فوائد کے منصفانہ اشتراک کے مقصد سے حکومت جموں و کشمیر کی جانب سے حیاتیاتی تنوع کونسل تشکیل دی گئی ہے۔میٹنگ کے دوران کونسل کو بایو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیوں کی مشاورت سے پیپلز بائیو ڈائیورسٹی رجسٹر (پی بی آر) کو اپ ڈیٹ کرنے کے ذریعے جموں و کشمیر کی جیو ویو تنوع کی دستاویزات پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔کمیٹیاں 276 انٹرمیڈیٹ پنچایتوں (بلاک لیول) ، 4290 ولیج پنچایتوں اور 76 اربن لوکل باڈیز کیلئے تشکیل دی گئی ہیں۔ 4290 ولیج پنچایتوں اور 76 اربن لوکل باڈیز میں متعلقہ محکموں کی مدد سے اور بائیو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیوں کے ممبروں کی مشاورت سے پی بی آر کی تیاری مکمل ہوچکی ہے۔کونسل کے اجلاس کے دوران زیر بحث اہم ایجنڈے کے نکات سٹی بائیو ڈائیورسٹی انڈیکس (سی بی آئی) اور جموں اور سرینگر شہروں کے لیے لوکل بائیو ڈائیورسٹی اسٹریٹیجی اور ایکشن پلان (ایل بی ایس اے پی) ، جموں و کشمیر کے لیے بائیو ڈائیورسٹی کنزرویشن اسٹریٹیجی اور ایکشن پلان تھے۔گاؤں کی پنچایتوں کی سطح پر بی ایم سی کی مدد سے این ٹی ایف پیز کے پائیدار استعمال کیلئے میکانزم میں بیداری پیدا کرنے کے لیے تقریبات منعقد ہونگی۔چیئرمین جے اینڈ کے بائیو ڈائیورسٹی کونسل نے لوگوں کو بائیو ڈائیورسٹی رجسٹرز کو وقتی طور پر اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت دی۔اجلاس میں سریش گپتا ، پی سی سی ایف/ چیف وائلڈ لائف وارڈن اور دیگر افسران اور متعلقین موجود تھے۔
حاجن میں آگ ،رہائشی مکان خاکستر
سرینگر// حاجن قصبہ میں آگ کی ایک واردات میں ایک رہائشی مکان خاکسترہوگیا۔حاجن بانڈی پورہ میں منگل کی صبح فتح محمد آہنگرولد محمدرمضان کے رہائشی مکان میں آگ نمودار ہوئی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ مکان میں آگ نمودار ہوتے ہی سب سے پہلے افرادخانہ کوبحفاظت باہرنکالا گیا،جس کے بعدنوجوانوںنے فائراینڈ ایمرجنسی سروسز اہلکاروں کے ساتھ ملکر آگ بجھانے کی کارروائی عمل میں لائی ۔انہوںنے بتایاکہ پولیس کی نگرانی میں یہ کارروائی انجام دیتے ہوئے فائرسروس اہلکاروںنے مخصوص گاڑی سے پانی کاتیز چھڑکائو کیا اورآگ پرقابو پالیا۔انہوںنے کہاکہ بروقت کارروائی عمل میں لاکر نزدیکی مکانات تک آگ کوپھیلنے سے روکاگیا۔لوگوں نے بتایاکہ آگ کی اس واردات میں فتح محمدکے رہائشی مکان کوکافی نقصان پہنچا اورمتاثرہ کنبے کی لاکھوں روپے مالیت کی املاک بھی تباہ ہوگیا ۔پولیس نے بتایاکہ معاملہ درج کرکے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مکان میں آگ لگنے یانمودار ہونے کی اصل وجہ کیا تھی ۔ (جے کے این ایس)
ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا قاسم سجاد کے انتقال پراظہارِ تعزیت
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وادی کے معروف صحافی قاسم سجاد کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے جملہ سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی۔انہوں نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ قاسم سجاد ایک کہنہ مشق اور منجھے ہوئے صحافی تھے۔ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ،جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، نائب صدر صوبہ محمد سعید آخون، جنوبی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری ، ضلع صدر اننت ناگ الطاف احمد کلو، ترجمان عمران نبی ڈار اور معاون صوبائی ترجمان مدثر شاہمیری اور عفرا جان نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
بانڈی پورہ میںکووِڈکی دوسری خوراک 38فیصد لوگوں کو دی گئی
ڈپٹی کمشنرکی لوگوں سے مناسب طرزِ عمل پرسختی سے عمل کرنے کی اپیل
بانڈی پورہ//ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد نے میڈیا کو ضلع میں کووِڈ صورتحال کے بارے میں جانکاری دی اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کووِڈ مناسب طرز عمل ( سی اے بی ) پر سختی سے اپنائیں۔اِس کے علاوہ جن لوگوںنے ابھی تک کووِڈ حفاظتی ٹیکے نہیں لگائیں، اُنہوں نے ان لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ جلد از جلد کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائیں۔ڈاکٹر اویس نے کہا کہ وبائی مرض ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور کوئی بھی لاپرواہی ہمیں مصیبت میں ڈال سکتی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ وبائی مرض سے نمٹنے کے صرف دو طریقے ہیں )1۔ کووِڈ مناسب طرزِ عمل( سی اے بی) کو اپنانا اوردوسرا کووِڈ حفاظتی ٹیکہ لگانا ۔ اُنہوں نے لوگوں سے پر زور دیا کہ وہ ماسک کا استعمال کریں ، سماجی فاصلے کو برقرار رکھیں اور ذاتی حفظان صحت کو یقینی بنا کر سی اے بی کی پیروی کرتے رہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ نے کہا کہ اِنفیکشن میں کسی بھی قسم کے اضافے کو روکنے کے لئے کووِڈ مناسب طرز عمل ( سی اے بی ) او رایس او پیز اِنتہائی ضروری ہیں تاکہ وائرس کو دور رکھا جاسکے اور اس کے پھیلائو کو مزید کم کیا جائے۔اُنہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کووِڈ ایس او پیز او رہدایات پر عمل کریں تاکہ اِنتظامیہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور نہ ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام الناس ایس او پیز کی خلاف ورزی کی اطلاع کنٹرول روموں کو دے سکتے ہیں تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جلد سے جلد کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائیں۔اُنہوں نے کہا کہ کووِڈ ۔19 صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور کنٹین منٹ زونوں میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ اور ضلع میں بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری مہم کی وجہ سے کووِڈ صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ڈاکٹر اویس احمد نے تفصیلات دیتے ہوے کہا کہ ضلع میں اب 40 کووِڈ مثبت معاملات سر گرم ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 23نئے معاملات سامنے آئے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اِنتظامیہ اِن علاقوں کی کڑی نگرانی کر رہی ہے اور پھیلائو کو روکنے کے لئے مناسب اقدامات بھی کر رہی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد نے ٹیکہ کاری مہم کے بارے میں کہا کہ 18برس عمر سے 44 برس عمر تک کے گروپ کے زائد از 80فیصد ویکسین کی پہلی خوراک دی جاچکی ہے جبکہ 38 فیصد اہل آبادی کو دوسری خوراک بھی فراہم کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ نے کہا کہ وسیع پیمانے پر جانچ سے اِنتظامیہ کو وائرس کے پھیلا ئو پر نظر رکھنے میں مدد ملی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ اَب تک 3.90 لاکھ ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں اور مثبت معاملات کی شرح 0.4سے 0.3فیصد رہی ہے ۔
ٹی آر آئی ایف ای ڈی جموں و کشمیر میں 50 کروڑ روپے کے منصوبوں کو بڑھاوا دے گا
سرینگر //ٹرائیبل کواپریٹو مارکیٹنگ ڈیولپمنٹ فیڈریشن آف انڈیا ( ٹی آر آئی ایف ای ڈی ) قبائلی امور کی وزارت حکومت ہند نے مختلف سکیموں کو جموں و کشمیر تک بڑھانے کیلئے کوششیں شروع کی ہیں تا کہ قبائلی کاریگروں ، کسانوں ، فنکاروں اور دیگر ہنر مند کارکنوں کو روزی روٹی کی سہولت فراہم کرنے پر توجہ دی جائے ۔ یہ تجاویز جے اینڈ کے قبائلی امور کے محکمہ نے مختلف معاش کے منصوبوں کیلئے پیش کی تھیں ۔ جموں و کشمیر میں مختلف قبائلی فلاح و بہبود کی اسکیموں کو توسیع دینے کا کام حال ہی میں لفٹینٹ گورنر جے اینڈ کے منوج سنہا نے حکومت ہند کے ساتھ کیا تھا ۔ قبائلی امور کے محکمے نے اس کے مطابق مرکزی حکومت میں وزارتوں کو مختلف اسکیموں کیلئے تجاویز پیش کی ہیں ۔ ٹی آر آئی ایف ای ڈی اور جے اینڈ کے قبائلی امور کے محکمے کے درمیان ایک میٹنگ میں متعدد اسکیموں پر اتفاق کیا گیا اور روڈ میپ کو حتمی شکل دی گئی ۔ منیجنگ ڈائریکٹر ٹرائیبل کواپریٹو مارکیٹنگ ڈیولپمنٹ فیڈریشن آف انڈیا پرویر کرشنا ( سیکرٹری حکومت ہند ) نے ٹی آر آئی ایف ای ڈی ہیڈ کوارٹرز نئی دہلی میں منعقدہ اجلاس میں انفراسٹرکچر کے قیام کیلئے کئی منصوبوں اور روڈ میپ کی منظوری دی ۔ سیکرٹری محکمہ قبائلی امور جے اینڈ کے ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے میٹنگ میں مختلف تجاویز پیش کیں ۔ جس میں جی ایم ٹریفڈ امیت بھٹناگر اور سندیپ پہلوان ڈی جی ایم ٹریفڈ نے بھی شرکت کی ۔ ایم ڈی ٹریفڈ نے جموں و کشمیر کیلئے 50 کروڑ روپے کے مختلف منصوبوں کیلئے اتفاق کیا ۔ سیکرٹری قبائلی امور ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے جموں اور سرینگر میں دو ٹریفائیڈ پارکس کے قیام کی تجویز پیش کی ۔ منیجنگ ڈائریکٹر ٹریفڈ نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور قبائلی امور کے محکمے میں پروجیکٹ منیجمنٹ یونٹ کیلئے تکنیکی عملہ تعینات کیا تا کہ حکومت ہند کی منظوری کیلئے ڈی پی آر تیار کئے جا سکیں ۔
روٹری انٹرنیشنل کے ذریعے بارہمولہ اور کپوارہ میں میگا ہیلتھ کیمپ
ہسپتالوں میں سرجری کیلئے انتظار کی فہرست کو کم کرنے کی ضرورت :صوبائی کمشنر
سرینگر// صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے منگل کو ایک میٹنگ میںبارہمولہ اور کپوارہ اضلاع میں میگا میڈیکل کیمپ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔سات روزہ میگا ہیلتھ کیمپ بارہمولہ اورکپوارہ ڈپٹی کمشنر وں اورروٹری انٹرنیشنل کے اشتراک سے بارہمولہ ، سوپور اور کپوارہ میں منعقد کیا جارہا ہے جس کے دوران مختلف خصوصیات کی جراحیاں جموں و کشمیر سے باہر کے ماہرین انجام دیں گے۔میڈیکل کیمپ کی عارضی تاریخ نومبر کے دوسرے حصے میں طے کی گئی ہے جس میں تقریبا پچاس ہزار مریض علاج کرائیں گے۔بارہمولہ ، کپوارہ ، بڈگام اور بانڈی پورہ کے مریضوں کو ملک کے اعلیٰ سرجنوں اور ڈاکٹروں سے علاج کا موقع مل جائے گا۔میٹنگ میں بارہمولہ اورکپوارہ کے ترقیاتی کمشنروں کے ساتھ چیف میڈیکل افسروں اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ، پرنسپل جی ایم سی بارہمولہ کے ساتھ بانڈی پورہ اور بڈگام کے ایم ایس اور سی ایم اوز نے ورچوئل موڈ کے ذریعے شرکت کی۔ ڈاکٹر طلعت کے علاوہ ڈاکٹر جتیندر مہتا نے ذاتی طور پر شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی کمشنر نے ہیلتھ افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے آپریشن تھیٹر ، سازوسامان ، میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو روٹری انٹرنیشنل کے لیے دستیاب کریں اور مریضوں کا گھریلو سروے مکمل ذاتی اور رابطہ کی تفصیلات کے ساتھ کریں تاکہ انہیں علاج کے لیے بلایا جا سکے۔ دریں اثنا ، انہوں نے اداروں کے سربراہوں سے کہا کہ وہ اپنی معمول کی شیڈول سرجریوں کو ہیلتھ کیمپ میں ضم کریں تاکہ زیادہ تر مریض مستفید ہو سکیں۔انہوں نے روٹری انٹرنیشنل کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اپنی ضروریات پیش کریں تاکہ انتظامات پہلے سے کیے جائیں۔انہوں نے حاضرین کے لیے سکریننگ ، مریضوں کی رجسٹریشن اور بستروں کے انتظامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے ہیلتھ کیمپ میں شریک ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی رہائش کی بھی ہدایت کی۔اس کے علاوہ انہوں نے مریضوں اور حاضرین کے بہت زیادہ رش اور ایمبولینسوں میں شدید بیمار مریضوں کو لے جانے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کو ہموار کرنے پر زور دیا۔