پیپلزکانفرنس سیاست میں نوجوانوں کی فعال شمولیت کی متمنی؛سجادلون
سرینگر//پیپلزکانفرنس ہرسطح پرنوجوانوں کی فعال شمولیت کویقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے تاکہ آنے والے عشروں میں جموں کشمیرکی سیاست اورفلاح بہبود میں اہم کرداراداکرنے کیلئے انہیں تیار کیا جائے۔اِن باتوں کااظہار پیپلز کانفرنس کے صدرسجادغنی لون نے جے کے پی ایم کے سابق صوبائی صدر کشمیراورایگزیکیتوممبر آزاد پرویزاورلولاب کی متعدد سیاسی شخصیات کی پارٹی میں شمولیت کے موقعہ پر کیا۔ایک بیان کے مطابق سجادغنی لون نے نوجوانوں کی سیاست میں فعال اوربامقصد شرکت پر زوردیاتاکہ مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے ،جو ان کے مستقبل پراثراندازہوں۔سجادغنی لون نے کہا کہ میں دل سے آزادپرویز کی پارٹی میں شمولیت کاخیرمقدم کرتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ یہ میرے لئے ذاتی خوشی کاموقعہ ہے کیوں کہ پرویز خاندان کے ساتھ ہمارے قریبی تعلقات ہیں ۔ان کے والد صاحب جوعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معروف پروفیسر ہیں ،لون صاحب کے قریبی ساتھی تھے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزکانفرنس کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے مل کر جدوجہدکی۔اس موقعہ پرآزادپرویز نے کہا کہ سجادغنی لون کی قائدانہ صلاحیت پرانہیںپورا اعتماد ہے اوران کے نظریے نے پارٹی میں شامل ہونے پرمجبور کیا۔ادھربی ڈی سی رکن اور لولاب حلقہ کے کئی سرپنچوں سمیت متعدد سرکردہ سیاسی کارکنوں نے پی سی صدر سجاد غنی لون کی موجودگی میں پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے کہا کہ ان کی شمولیت سے پارٹی کو بہت تقویت اور فائدہ ملے گا۔ سجاد کا مزید کہنا تھا کہ میں آپ سب کو پی سی میں تہہ دل سے خوش آمدید کہتا ہوں۔ پیپلز کانفرنس ایک اہم کردار ادا کرنا چاہتی ہے اور جموں و کشمیر کی سیاست اور فلاح و بہبود میں اپنی شراکت کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم سب لوگوں کے مقصد کے لیے کام کرتے رہیں گے اور زمینی سطح پر پارٹی کو مزید مضبوط کریں گے۔نئے شامل ہونے والوں نے پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے انتہائی ایمانداری، تندہی اور جذبے کے ساتھ کام کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے کشمیر کے لوگوں کے خدشات کو دور کرنے اور ان غیر معمولی اور مشکل وقتوں سے گزرنے میں ان کی مدد کرنے کے لئے پی سی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔پارٹی میں شامل ہونے والوں میں بی ڈی سی محمد شفیع پیر، سرپنچ نذیر احمد گنائی، بشیر احمد گنائی، شبیر احمد بٹ، بشیر احمد بٹ، غلام احمد، فیاض احمد نجار، نائب سرپنچ فیاض احمد وانی، باجو بدانہ، فیاض احمد لون اور بلال احمد شامل ہیں۔
اکتوبر کے دوران راجوری پونچھ میں11فوجی ہلاکتیں | گزشتہ 4 ماہ کے دوران 14اہلکار مختلف جھڑپوں میں مارے گئے
سمت بھارگو
راجوری //رواں برس کے اکتوبر ماہ میںراجوری پونچھ اضلاع کے مختلف علاقوں میں 11فوجی ہلاکتیں ہوئیں جبکہ گزشتہ چار ماہ کے دوران کل 14فوجی اہلکا ر لقمہ اجل بن گئے ۔ان فوجی ہلاکتوں میں سے 12فوجی اہلکار دونوں سرحدی اضلاع کے اندرونی علاقوں میں مختلف انکائونٹر و کارروائیوں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں ۔ان میں سے 12فوجی اہلکار خطہ پیر پنچال کے اندرونی علاقوں میں جنگجومخالف آپریشنوں کے سلسلہ میں شروع کردہ کارروائیوں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو فوجی اہلکار حد متارکہ پر ہوئے دھماکے کے دوران ہلاک ہوئے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ خطہ میں اس نوعیت کا پہلا انکائونٹر 8جولائی کو سندر بنی سب ڈویژن میں ہوا تھا جس میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جن میں ایک نائب صوبیدار بھی شامل تھا ۔اس کے بعد 19اگست کو تھنہ منڈی سب ڈویژن کے کریوٹ علاقہ میں ایک انکائونٹر ہوا جس کے دورا ن نائب صوبیدار ہلاک ہوا تھا ۔دریں اثنا سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کا اکتوبر ماہ فوج کیلئے انتہائی افسوس ناک ثابت ہو ا ہے جس میں کل گیارہ ہلاکتیں گزشتہ تین ہفتو ں کے دوران ہوئی ہیں ۔ان ہلاکتوں میں سے 9فوجی اہلکار دونوں اضلاع کے اندرونی علاقوں میں ہلاک ہوئے جبکہ دو اہلکار حد متارکہ پر ہوئے دھماکے میں مارے گئے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دیرہ گلی علاقہ میں ہوئے انکائونٹر کے دوران 5فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں ۔اسی طرح ددسر ا انکائونٹر بھاٹہ دھوڑیاں جنگلات میں ہوا جس کے دوران 4فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں ۔سنیچر کو نوشہرہ کے حدمتارکہ پر ہوئے ایک دھماکے میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں ۔
راجوری حدمتارکہ پر دھماکہ | مہلوک اہلکاروں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم
سمت بھارگو +رمیش کیسر
راجوری //نوشہرہ میں حد متارکہ پر ہوئے دھماکے میں ہلاک ہوئے فوجی اہلکاروں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کے بعد دونوں اہلکاروں کی لاشوں کو آبائی گائوں منتقل کردیا گیا ۔غور طلب ہے کہ نوشہرہ سب ڈویژن کے سرحدی علاقہ میں ہوئے دھماکے میں لیفٹیننٹ رشی کمار اور سپاہی منجیت سنگھ شدید زخمی ہوئے تھے تاہم دوران علا ج دونوں اہلکاراپنی زندگی کی جنگ ہار گئے ۔اتوار کو دونوں اہلکاروں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔نوشہرہ کے سرکاری ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی جانب سے پوسٹ مارٹم کیا گیا ۔جموں وکشمیر پولیس نے بتایا کہ معاملہ درج کرنے کے بعد واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ۔دوسری جانب فوج کی جانب سے ہلاک ہوئے فوجی اہلکاروں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔
چھاتی کاکنیسر | کشمیر یونیورسٹی میں آن لائن ورکشاپ کا اہتمام
سرینگر//کشمیر یونیورسٹی کے بائیوسائنس شعبے نے انڈین کینسرسوسائٹی کے اشتراک سے چھاتی کے کینسر سے متعلق ایک آن لائن آگاہی ورکشاپ منعقد کیا۔اس پروگرام کا موضوع تھا، ’’چھاتی کا کینسر،ابتدائی علامات،علاج ،تحقیق وتعلیم‘‘۔ ورکشاپ میں ملک بھر سے300سے زاید شرکاء نے حصہ لیا۔اپنے پیغام میں کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر طلعت نے کہاچھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی نوجوا ن نسل تک پہنچ جانی چاہیے تاکہ وہ اس سے مستفید ہوسکے۔کشمیر یونیورسٹی کے رجسٹرارجنہوں نے اس ورکشاپ کاافتتاح کیا،نے عالمی سطح پر کینسرکے ابھرتے رجحانات پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے چھاتی کے کنسر کی ابتدائی علامات کی کھوج اوراس کے فوری علاج پر زوردیا۔انہوں نے کہا کہ بائیو سائنس کا شعبہ اہم موضوعات پرورکشاپ منعقد کررہا ہیں جوایک اچھی بات ہے۔
اندرا گاندھی کو37ویںبرسی پرخراج عقیدت
سرینگر//جموں کشمیر پردیش کانگریس نے اتوار کو سابق وزیراعظم اندراگاندھی کو اُن کی37ویں برسی پر شاندارخراج عقیدت پیش کیا۔سابق وزیر اورپردیش کانگریس صدرپیرزادہ محمد سعید،پردیش کانگریس نائب صدور غلام نبی مونگااورمحمد انوربٹ ، سابق ایم ایل اے محمدامین بٹ ، ایڈوکیٹ منظوراحمد گنائی اور دیگر سینئررہنمائوں نے سورگباشی اندرا گاندھی کوخراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرتے دم تک انہوں نے ملک وقوم کی خدمت اور ترقی کیلئے انتھک کام کیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کو بات چیت کیلئے میز پرلانے کیلئے اورمین اسٹریم سیاست میں شامل ہونے کیلئے انہیں راضی کرنے سے ان کے سیاسی حوصلے ، دوراندیشی کی عکاسی ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اندراگاندھی نے ملک کو متحدرکھنے کیلئے جانفشانی سے کام کیا۔ادھر بارہمولہ میں بھی پردیش کانگریس کے نائب صدر اور سابق ایم ایل سی غلام نبی مونگا نے ایک میٹنگ کے دوران سابق وزیراعظم اندراگاندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی دوراندیشی کااعتراف کیا۔
جامع مسجد سرینگرکو نمازجمعہ کیلئے کھولا جائے:قیوم وانی
سرینگر//وادی میںکوروناکیسوں میں نمایاں کمی کے بعدسول سوسائٹی فورم نے جامع مسجد سرینگرکونمازجمعہ کیلئے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک بیان میں سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے کہا کہ اب جبکہ درگاہ حضرت بل سمیت تمام مساجد،خانقاہوں اورامام بارگاہوں کو رواں ماہ ربیع الاول کے مقدس مہینے کے پیش نظرنمازکیلئے کھولا گیاہیں اورجموں کشمیرمیں کوروناکیسز میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے ،تو اس پس منظر میں جموں کشمیرکی سب سے بڑی عبادت گاہ جامع مسجد سرینگرکونمازجمعہ کے موقعہ پربند رکھنے کا کوئی جوازنہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی فورم حکام سے درخواست کرتی ہے کہ کووروناوائرس کی روکتھام کیلئے جاری رہنما خطوط کے تحت 5نومبر کو جامع مسجد سرینگرکو نمازجمعہ کیلئے کھولا جانا چاہیے۔
’جھیل بلارہی ہے‘اردوڈرامہ SKICCمیں پیش کیاگیا | آرٹ شائقین نے اداکاروں کے کام کو خوب سراہا
سرینگر//آئی کانک ویک کے سلسلے میں ایکٹرس کریٹیو تھیٹرنے کلچرل اکادمی اورجموں کشمیرحکومت کے مشن یوتھ کے اشتراک سے شیرکشمیرانٹرنیشنل کنونشن سینٹرمیں اردوڈرامہ ’جھیل بلارہی ہے‘پیش کیا۔مرحوم علی محمد لون کے تحریر کئے گئے ڈرامہ کو مشتاق علی احمدخان نے ہدایت دی تھی۔ڈرامہ میں مشتاق علی احمدخان(والد)، چودھری رابعہ شفیق(والدہ) زبیرفاروق (بیٹا) زینوبیہ سید(دختر)اورطاہر نجار (داماد) کردار اداکئے تھے۔ڈرامے کے پس پردہ گل جاوید، عبدلاحد، بشارت حسین،فیصل چاقو،ادریس بختیار،میرمجازاورمدثرخان شامل تھے۔ ڈرامہ میں مچھیروں کے ایک کنبے کی کہانی پیش کی گئی جس کے دوبیٹے جھیل ولر کی تندوتیز ہوائوں کی نظر ہوگئے تھے اورڈرامے کے اختتام پرکنبے کا تیسرا بیٹا بھی جھیل میں غرق ہوتاہے جب وہ اپنے گائوں کے ساتھی مچھیروں کی جان ولر جھیل میں آندھی کے دوران بچانے کی کوشش کرتا ہے۔سردی کے باوجود آرٹ شائقین کی بڑی تعداد شیرکشمیر کنونشن سینٹر میں اس ڈرامے کو دیکھنے کیلئے آئی تھی اور انہوں نے اداکاروں کی اداکاری کی خوب داد دی۔ڈرامے کے ہدایت کار مشتاق علی نے کہا کہ میرے اس ڈرامے کو پیش کرنے کامقصد وادی میں تھیٹر سرگرمیوں کو جاری رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ڈرامے کے ذریعے کشمیر کے کلچر اور روایات کو دکھانے کی کوشش کی ہے جو کہیں کھو گئے ہیں ۔اسٹیج شو کا آغاز سرنائی وادھن سے ہوا جس کے بعدکشمیرکی روایتی دمبالی پیش کی گئی۔ایک مختصر بانڈ پاتھربھی پیش کیاگیا۔
شمال وجنوب بجلی کی عدم دستیابی پر لوگ نالاں
طلباء،کاروباری حلقے اور عام لوگ برہم
سرینگر//وادی کشمیر میں موسم خزان کی آمد کے ساتھ ہی شہر و دیہات میں بجلی سپلائی میں بڑے پیمانے پر کٹوتی شروع کی گئی ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کے ساتھ کار وباری افراد،طلباء حتیٰ کہ سرکاری دفاتر میں بھی کام کر رہے لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ سرکار کی جانب سے کئے جا رہے بجلی سپلائی میں بہتری کے دعوے زمینی سطح پر کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ کے این ایس کے مطابق محکمہ بجلی کی جانب سے حسب روایت امسال بھی موسم خزان شروع ہوتے ہی بجلی سپلائی میںغیر معمولی کٹوتی شروع کردی گئی ہے جس کے نتیجے میں عام صارفین، کارباری افراد کے علاوہ امتحانات کی تیاریوں میں مصروف طلباء کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔صارفین کا الزام ہے کہ اگر چہ بجلی سپلائی کے لئے باضابطہ طور کٹوتی شیڈول مقرر کیا گیا ہے تاہم متعلقہ محکمہ اس شیڈول کی دھجیاں اڑاتے ہوئے من مانی طریقوں پر بجلی کی سپلائی بحال کراتے ہیں اور کسی بھی جگہ مشتہر کر دہ شیڈول کے مطابق بجلی سپلائی نہیں کی جا رہی ہے جس کے سبب عام لوگوں کو انتہائی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔لوگوں نے کہاکہ متعلقہ گرڈاسٹیشنوں پر تعینات اہلکار بجلی کے شیڈول کی صریحاً خلاف ورزی کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں اور ایسے علاقوں کو ہی بجلی سپلائی کی جارہی ہے جہاں کارخانہ داروں اور تجارت سے وابستہ افرادکے ساتھ ان کا ساز باز ہے ۔اس دوران وادی کشمیر کے پلوامہ ،شوپیان، ترال، اننت ناگ کولگام کے علاوہ شمالی کشمیر کے متعدد علاقوں سے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ موسم سرما سے قبل ہی یہاں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کے سبب لوگ سخت پریشانیوں کاسامنا کر رہے ہیں۔ ادھر شہر خاص کے علاقوں کے ساتھ سیول لائنز علاقوں میں بھی بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ پریشان ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ آج چونکہ یونیورسٹی اور سٹیٹ بورڈ کی طرف سے طلبا کے امتحانات لئے جارہے ہیں تاہم بجلی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے امتحانات میں شرکت کرنیوالے طلبا کو سخت دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کے نتیجے میں اگر چہ صاحب ثروت لوگوں کے بچے انورٹروں اور روشنی دینے والے قیمتوں آلوں سے اپنی امتحانی تیاریاں کررہے ہیں تاہم غریب اور کسمپرسی کی زندگی گذارنے والے لوگوں کے بچوں کے امتحانات پر بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیںبلکہ ان کا قیمتی وقت بھی ضائع ہورہا ہے ۔ ادھر محکمہ بجلی کا کہنا کہ موسم سرما آنے کے ساتھ ہی لوگوں نے بجلی کا غیر قانونی استعمال شروع کیا ہے جس کی وجہ سے بجلی سپلائی فراہم کرنے میں محکمے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہیں محکمے نے عوام سے بجلی کا منصفانہ استعمال کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ بجلی سپلائی بلا خلل فراہم کی جا سکے۔
سرینگرمیںجلد کی بیماریوں کے علاج کا اپنی نوعیت کا پہلا کلنک
کینسراورتیزابی حملوں کاشکار متاثرین کیلئے مفت زیبائش کااعلان
سرینگر//وادی میں جلد کی بیماریوں کے علاج کے ایک کلنک نے کینسر مریضوں اور تیزابی حملوں میں زخمی ہوئی خواتین کی مفت زیبائش کرنے کا اعلان کیا ہے۔سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کلنک کی منیجنگ ڈائریکٹرانشاء وانی نے کہا کہ وادی میں اس طرح کاکلنک پہلی بار قائم کیا گیا ہے جہاں مردوں اورخواتین کیلئے جلد سے متعلق اس طرح کی سہولیات دستیاب ہیں ۔ان کا کہنا تھاکہ ان کا کلنک جدیدترین مشینری اورتربیت یافتہ معالجین وعملہ سے لیس ہے۔انشاء وانی نے کہا کہ پہلے لوگوں کو اس طرح کے جدید علاج کیلئے دبئی اوربھارت کی دیگر ریاستوں میں جاناپڑتاتھا ،تاہم انہوں نے اس طرح کی پہل کا آغاز کرتے ہوئے وادی میں ہی ان سہولیات کوصاف ستھرے ماحول میں شروع کیا۔ پریس کانفرنس میں موجود ڈاکٹر چارو گپتا نے کہا کہ جہاں جلد سے متعلق دیگر سہولیات کلنک میں میسر ہیں وہیں انہوں نے کینسر میںمبتلا مرد و خواتین کو کیمو تھرپی سے گزرنے کے بعد جلد اور بالوں کے مسائل کیلئے مفت زیبائش یا میک اپ فراہم کرنے کی پہل شروع کی۔ان کا کا کہنا تھا کہ بحیثیت صنف نازک انہیں اس بات کا احساس ہے کہ انہیں کس کرب و مشکل سے گزرنا پرتا ہے،اس لئے انہوں نے یہ پہل شروع کی۔ ڈاکٹر چارو کا کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی کے ناطے انہوں نے یہ مفت سہولیات فراہم کرنے کا آغاز کیا ہے اور تیزابی حملوں کا نشانہ بنی خواتین بھی ان کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتی ہیں،جن کا بھی مستقل بنیادوں پر مفت میک اَپ فراہم کیا جائے گا۔
سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یوم پیدائش
جھیل ڈل میں عظیم الشان شکارا ریلی کا اِنعقاد
سرینگر// شہرہ آفاق ڈل جھیل میں اتوار کو ’’ آزادی کا امرت مہااُتسو‘‘ کے ایک حصے کے طور پر سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یوم پیدائش کی یاد میں ایک عظیم الشان شکارا ریلی کا اِنعقاد کیا گیا۔جھیل ڈل میں شکاروں کو روایتی طور پر شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا جو ڈل جھیل کے کئی قدرتی مقامات سے گزر کر ’’پھولوں کی جھیل‘‘ کو مکمل فیسٹول کا منظر پیش کرتا ہے۔ناظم سیاحت ڈاکٹر جی این ایتو نے ’’ آزادی کا امرت اور قومی اِتحاد کا دن منانے ‘‘ کے بینر تلے منعقد ہونے والی اِس ریلی کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ناظم سیاحت نے میڈیا اَفراد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ممتاز شہریوں کے لئے ڈل جھیل میں اس ریلی کا اِنعقاد سیاحتی ترقی کے لئے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ ڈل جھیل کشمیر میں سیاحت اور تفریح کا لازمی جزو ہے جسے ’’ سرینگر کا زیور ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ناظم سیاحت نے کہا کہ حکومت اِس سلسلے میں متعدد اختراعی اقدامات کے شروعات سے سیاحتی دُنیا میں جموںوکشمیر کو اونچا لے جانے کے لئے لگن سے کام کر رہی ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ تمام شراکت دارسیاحتی ترقی کے پروگراموں میں شامل ہوں تاکہ ثمر آور نتائج حاصل ہوسکے ۔ اُنہوں نے کہا کہ وادی میں اِنتظامیہ کی جانب سے اِس قسم کے پروگراموں کا اہتمام اکثر کیا جاتا ہے جس سے نہ صرف سامعین کو محظوظ کیا جاتا ہے بلکہ یہاں کی سیاحتی ترقی میں کافی مدد مل رہی ہے ۔تقریب میں سینئر اَفسران، متعلقین اور عام لوگوں نے شرکت کی۔
چیف سیکرٹری کا خراج
سیکرٹریوں اور اَفسروں سے اتحاد کا عہد لیا
سرینگر//چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا نے اتوار کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کو اُن کی یوم پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا جو ملک بھر میں راشٹریہ ایکتا دیوس کے طور پر منایا جاتا ہے۔چیف سیکرٹری نے قومی جشن کو یادگار بنانے کیلئے سول سیکرٹریٹ کے اِنتظامی سیکرٹریوں، اَفسران اور ملازمین سے اتحاد کے عہد کا حلف لیا۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ 31؍ اکتوبر کو ملک بھر میں راشٹریہ ایکتادیوس کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ یہ دِن نہ صرف آزاد ہندوستان کے قومی یکجہتی کے معمار سردار ولبھ بھائی پٹیل کے یوم پیدائش کو منانے بلکہ شہریوں کے عزم کا اعادہ کرنے کی خاطر اور ملک کی سلامتی ، اتحاد اور سا لمیت کو برقرار رکھنے کے لئے منایا جاتاہے ۔حلف برداری کی تقریب میں سول سیکرٹریٹ سرینگر کے اَفسران اور عملے نے عملی طورپر شرکت کی۔اِسی طرح صوبائی کمشنر جموں وکشمیر اور یونین ٹیریٹری کے تمام اَضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنران کے دفاتر میں حلف برداری کی تقریبات کا اِنعقاد کیا گیا۔
بار ایسوسی ایشن بانڈی پورہ کا تعزیتی اجلاس
بانڈی پورہ /عازم جان /ضلع بار ایسوسی ایشن بانڈی پورہ کا تعزیتی اجلاس ضلع صدر ایڈوکیٹ ملک مشتاق کی قیادت میں منعقد ہوا،جس میں بار ایسوسی ایشن سے وابستہ ممبران نے شرکت کی ہے۔ منعقدہ تعزیتی اجلاس میں بہ اتفاق رائے سے ماتمی قرارداد منظور ہوئی اور سب جج نور محمد میر ایڈوکیٹ مدثر میرکے چاچا عبدلرشید میر کی انتقال پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور لواحقین کو صبر جمیل کی دعا کی گئی ۔ بارایسوسی ایشن بانڈی پورہ کے ممبران اور صدر نے مرحوم عبدلرشید میر کے گھر جاکر تعزیت کی اور فاتحہ پڑھی ۔
حکومتی دعوے سراب :سعید آخون
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق ایم ایل اے حضرت بل حاجی محمد سعید آخون نے گورنر انتظامیہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ حکومتی سطح پر ہر روز ذرائع ابلاغ میں بجلی اور پینے کے پانی کی معقول اور مناسب سپلائی کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن زمینی صورتحال اس کے عین برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کو بجلی اور پانی کی بھر پور سپلائی کے دعوے صحیح ہیں تو پھر شہر دیہات میں آئے روز لوگ سراپا احتجاج کرتے ہوئے کیوں دیکھے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ گورنر انتظامیہ کاغذی گھوڑے دوڑانے میں ماہر ہے ،لیکن عوام کو راحت پہنچانے کیلئے وقت افسر شاہی کی نااہلی اور لاپرواہی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ حد سے تجاوز کر گئی مہنگائی پر انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے محمد سعید آخون نے کہا کہ گراں بازار اورکالابازاری عام ہے اور سرکاری نرخوں پر خرید و فروخت کے تمام قواعد و ضوابط بالائے طاق رکھے جارہے ہیں۔ انتظامی سطح پر ریٹ لسٹ پر عمل آوری کرانے کیلئے کوئی بھی سرگرمی نہیں ہورہی ہے۔ نہ کہیں ماکیٹنگ چیکنگ سکارڈ نظر آتا ہے اور نہ ہی سرکاری نرخوں ناموں پر عمل کرانے کیلئے کوئی اقدام اُٹھایا جارہا ہے۔ بازاروں میں غریب عوام کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا جارہاہے اور حکمران خاموشی تماشائی کا رول نبھا رہے ہیں۔ محمد سعید آخون نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کی راحت رسانی اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات اٹھائے ۔
عید میلادالنبی،ؐ دارالعلوم حقانیہ میں روح پرور مجلس
سرینگر /میلاد النبیؐ کے سلسلے میں دارالعلوم حقانیہ سویہ بگ بڈگام میں مولود مسعود کی روح پرور مجلس منعقد ہو جس کی پیشوا جید عالم دین مولانا خورشید احمد قانونگو نے کی۔ مجلس میں مولود مسعود، ذکر و اذکار، نعوت ،درود و سلام کا اہتمام ہوا جس کا اختتام رقت آمیز دعاوں کے ساتھ ہوا۔مولانا قانونگو نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ حضور ؐ کا انقلاب تاریخ کا سب سے منفرد انقلاب ہے جس نے دنیا کو بدل دیا۔آپ ؐ نے اخوت ، رحم ، سخاوت ، شجاعت اور شرم و حیا تقوی و پرہیز گاری کے پیغام کو عام کیا۔ اس انقلاب کے ذریعے حضو ر نے جو نظام قائم فرمایا اس کی برکات صدیاں گزر جانے کے بعد آج بھی انسانی سینوں میں گونجتی ہیں۔ یہ نظام لرزاں و ترساں انسانیت کیلئے واحد پناہ گاہ، انسانیت کیلئے فخرومباحات کا واحد ذریعہ، انسان کا زمین پر واحد قیمتی سرمایہ اور شرفِ انسانیت کے ماتھے پر جھومر ہے۔ وہ ہردم زندہ، پائندہ اور تابندہ تر ہے اور انسانیت کے جدید ترین مسائل آج بھی اسی طرح حل کرسکتا ہے جس طرح اس نے اپنی آمد پر حل کردئیے تھے ۔ٹرسٹ کے نائب سرپرست اعلی سید زاہد حقانی نے عظمت مصطفی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فیوض میلاد کے حقدار ہم تب ہی ہوسکتے ہیں جب ہم قران و سنت پر عمل پیرا ہوں گے۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری بشیر احمد ڈار نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
انجمن شرعی شیعیان کا اظہار رنج و غم
سرینگر // انجمن شرعی شیعیان نے وادی کے معروف کشمیری کلاسک مرثیہ گو ،مصنف اور ہر دل عزیز ذاکر حسینی سید، گلشن باغ بٹہ کدل کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے پسماندگان سے تعزیت کی۔ انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے غم زدہ کنبے بالخصوص برادران ذاکر سید عباس موسوی ،ذاکرسید محمد موسوی ،ذاکر سید طاہر موسوی اور سید احمد موسوی فرزند ان ذاکر سید مشتاق حسین موسوی،سید فدا حسین موسوی اورسید مرتضی موسوی اور دیگر افراد خانوادہ سے تعزیت کا اظہار کیااورمرحوم کے بلند درجات کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔
محمد اکبر لون نے ناز کی ڈھارس بندھائی
بانڈی پورہ /عازم جان /نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر و ممبر پارلیمنٹ ایڈوکیٹ محمد اکبر لون نے اتوار کو کئی سینئر لیڈران کے ہمراہ سابق ایم ایل اے میر غلام رسول نازکے گھر جا کر ان کے ساتھ تعزیت کی ۔ناز کے برادر اصغر عبدلرشید میر گذشتہ روز انتقال کر گئے ہیں ۔بانڈی پورہ میں این سی لیڈران کا ایک تعزیتی اجلاس بھی محمد اکبر لون کی قیادت میں منعقد ہوا جس میں ضلع صدر میر غلام رسول ناز، سب جج نور محمد میر فردوس احمد میر ڈی ڈی سی چیئر پرسن بانڈی پورہ ودیگر نیشنل کانفرنس کے لیڈران وکارکنان نے شرکت کی۔محمد اکبر لون نے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرحوم کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور ضلع صدر میر غلام رسول ناز ودیگر لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی دعا کی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب اس صدمے میں برابر کے شریک ہیں ۔
اشتیاق بیگ کو صد مہ
والد نسبتی انتقال کر گئے ،متعدد شخصیات کا اظہار تعزیت
ترال //وادی کشمیر کے معروف ٹریڈ یونین لیڈر اور نگوا سکمزکے صدراشتیاق بیگ کے والد نسبتی عظیم الدین شیخ ساکن ڈاڈسرہ ترال اتوار کے روز کافی مدت تک علیل رہنے کے بعدانتقال کر گئے۔مرحوم کشمیر یونیورسٹی میں کام کرتے تھے جہاں سے وہ چند بر س قبل نوکری سے سبکدوش ہوئے۔خاندانی ذرائع نے بتایا مرحوم کافی مدت سے علیل تھا اوراتوار کواس دار فانی سے رحلت کر گئے۔مرحوم کی وفات پر متعدد سیاسی،سماجی ،ادبی ،اور ٹریڈ یونین لیڈران نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پورے خاندان خاص کر اشتیاق بیگ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ۔مرحوم سی این ایس خبر راس ایجنسی کے سینئر نامہ نگار شیخ شبیر کے بھی چاچا جان تھے ۔ادھر جرنلسٹ ایسو سی ایشن ترال،روز نامہ سرینگر کے مدیر اعلیٰ فاروق گنائی کے علاوہ باقی صحافتی برادری نے دونوں اشتیاق بیگ اور شیخ شبیر کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔