کشتواڑ کانگریس کے حقیقی لیڈروں کو منڈیٹ دینے کا مطالبہ
کشتواڑ//کشتواڑ کے ایک سینئر کانگریس لیڈرو ٹریڈ یونین کشتواڑ فاروق احمد ٹپل نے کانگریسی لیڈران سے درخواست کی ہے کہ اب کی بار حقیقی کانگریسی کارکنوں کو انتخابات کے لئے منڈیٹ دیا جائے ، جو کہ ہمیشہ سے ہی کانگریس کے ساتھ رہے ہوں ۔ایک پریس بیان میں انہوںنے راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد غلام نبی آزاد اور پردیش صدر جی اے میر سے کہا ہے کہ وہ آنے والے اسمبلی انتخابات ۔ 2020 میں کشتواڑ سے غلام حیدر شیخ ، ریاض احمد پیر، کشتوڑ کے یوتھ کانگریس لیڈر شارق احمد سروڑی یا یوتھ کانگریس ترجمان ٹھاکور رندیپ بھنڈاری کو منڈیٹ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ٹپل نے مزید کہا کہ یہ تمام لیڈران عام آدمی کے ساتھ جُڑے ہیں اور پارٹی کے مفادات کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں کشتواڑ کانگریس کا ایک وفد عنقریب ہی جموں میں سینئر لیڈران سے ملاقات کریں گے۔جن دیگر لوگوں نے حقیقی کانگریس لیڈروں کو منڈیٹ دینے کا مطالبہ کیا ہے ، اُن میںطارق حُسین، اجے کمار، ساقب حُسین، وجے کمار و دیگران شامل ہیں۔
چناب ویلی پروجیکٹس کی تعمیر میں تاخیر پر تشویش
کشتواڑ//چنار پائور پروجیکٹس ورکرس یونین ضلع کشتواڑ جوگیندر بھنڈاری نے چناب ویلی پائور پروجیکٹس پر بے ضابطگیوں کا الزام لگا یا ہے ۔ٹریڈ یونین لیڈر نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ چناب ویلی پائور پروجیکٹس لمیٹڈکے پکل ڈول، کئیرو اور کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹوں کی تعمیر میں تاخیر ہورہی ہے جسکی وجوہات کی تحقیقات کرنا لازمی ہے۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ سی وی پی پی نے چور دروازے سے بھرتیاں عمل میں لائی ہیں وہ بھی بیرون ریاست کے باشندوں سے جبکہ مقامی بیروزگار نوجوانوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ درجہ چہارم ملازمین کے لئے بھی مقامی باشندوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، صرف چند ایک مقامی نوجوانوں کو بھرتی کیا گیا ہے ،وہ بھی 6ہزار روپے ماہانہ اُجرت پر۔انہوں نے کہا ہے کہ کروڑ ہا روپے خرچ کرنے کے باوجود ابھی تک زمینی سطح پر کوئی کام نہیں ہواہے۔ان پروجیکٹوں سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ سی وی پی پی نے گُذشتہ پانچ برسوں سے مقامی ٹھیکہ دار کو کوئی کام الاٹ نہیں کیا گیا ۔
سوندر ،کشتوڑ میں ایکتا کمیٹی کا اجلاس
کشتواڑ//فوج کی جانب سے جمعہ کے روزسوندر ،کشتواڑ میں ایکتا کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اجلاس کا مقصد خطہ میں تمام فرقوں کے مذہبی لیڈروں کی باقاعدگی سے تعیناتی کو فروغ دینا تھا اجلاس میں کل ملاکر 18مقامی لوگوں نے شرکت کی۔اس موقعہ پر اجتماع کو ضلع کشتواڑ کی ترقی کے لئے کئے جا رہے کام کی اطلاع فراہم کی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ فوج مقامی لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے کی وعدہ بند ہے اور کہا گیا کہ خطہ میں آپسی روا داری اور بھائی چارہ امن کی ضامن ہے ،جس کی مقامی لوگوں نے کافی ستائش کی۔اجلاس میں مقامی لوگوں نے فوج کی جانب سے ہر سو معاونت فراہم ہونے پر کافی سراہنا کی۔
وادی چناب میں پربودھ جموال کی والدہ کے انتقال پر تعزیتی اجلاس
عظمی رپورٹ
بانہال // کشمیر ٹائمز گروپ آف پبلیکیشنز کے مالک اور ایڈیٹر ان چیف پربود جموال کی والدہ ماجدہ کے انتقال پر جرنلسٹ ایسوسی ایشن رام بن نے اپنے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور سوگوار خاندان سے اپنی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں رام بن اور بانہال میں دو الگ الگ تعزیتی میٹنگوں میں صحافیوں نے حصہ لیا۔ تعزیتی میٹنگ میں صحافیوں نے پدما جموال کی روح کیلئے سکون و شانتی کی دعا کی گئی اور سوگوار جموال خاندان سے اپنی تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر کشمیر ٹائمز کے رام بن نامہ نگار نواز احمد رونیال اور پرنس جہانگیر بانہال کے علاؤہ کشمیر عظمیٰ کے محمد تسکین ، گریٹر کشمیر کے میر محمد پرویز ، ٹریبون کے رویندر کچلو ، اڑان کے دانش محمد ،ای ٹی وی کے بلال احمد بالی ، دینک سویرا کے شبھم انتھال ، ویڈیو جرنلسٹ راشد رسول ، وادی چناب کے ایڈیٹر زاہد بشیرنے کشمیر ٹائمز ایڈیٹر ان چیف پربود جموال کی والدہ کے انتقال پر اظہار افسوس کیا اور جموال خاندان سے اپنی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ڈوڈہ جرنلسٹ ایسوسی ایشن اور چناب ویلی جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے بھی پربود جموال کی والدہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جس میں کشمیر ٹائمز ڈوڈہ کے نامہ نگار سعاداللہ رنگریز ، فرودس کھانڈے ، کشتواڑ نامہ نگار کلدیپ شرما ، آی ٹی وی کے سید ریاض نے اپنی اپنی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔بانہال کی کئی سماجی اور ادبی تنظیموں نے بھی پربود جموال کی والدہ کے انتقال پر اپنی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور جموال اور بھسین خاندان سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
’تب ہم کیا تھے جب آپ بھاجپا میں وزیر رہے‘
بی جے پی کے ست پال شرما کا عمر عبداللہ کو جواب
اشفاق سعید
جموں //بی جے پی کے سینئر لیڈر سست پال شرما نے قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے ماتحت محکموں کے مطالبات زر پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبدللہ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ،جب وہ بھاجپا میں وزیر رہے تب ہم سادھو تھے اور اب ہم شیطان بن گئے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اُن کی یہ بیان بازیاں اقتداد سے بے دخلی کی وجہ ہو رہی ہیں ۔انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سچ ہی کہتے ہیں کہ نہ نیشنل کانفرنس اور نہ کانگریس چاہتی ہے حالات ٹھیک ہوں اور ان جماعتوں نے وہاں کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی ۔انہوں نے کہا کہ فوج کے کام کی سراہانہ کرنے اور انہیں وہ ہر سہولیات فراہم کرنے کے بجائے اس ایوان میں فوج کے کام پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں کیونکہ ہماری فوج پتھر بھی کھا رہی ہے گولی بھی ،انہیں سزا بھی دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ نے اگرچہ انہیں سیدھے طور شیطان نہیں کہا لیکن اُس کا اشارہ اُن ہی کی طرف تھا ۔انہوں نے کہا کہ اقتداد سے باہر رہنے کی وجہ سے یہ لوگ پریشان ہیں جس کا اظہار ہم سب نے دیکھ لیا ۔انہوں نے کہا کہ یہاں فوج کو کوسا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سنگ بازوں کو سرکار کی طرف سے دی گئی معافی ایک اچھا قدم ہے ۔انہوں نے کھٹوعہ معاملے پر کچھ ایک جماعتوں کو سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کے حق میں ہیں کہ ملزم کو سزا ملے ۔انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ آصفہ کا کیس سی بی آئی کو دیا جائے ۔
ٹنگمرگ میں ریجنل انسٹی چیوٹ ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر قائم: بالی بھگت
جموں//صحت و طبی تعلیم کے وزیر بالی بھگت نے قانون ساز اسمبلی میں محمد عباس وانی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے دھوبی ون ٹنگمرگ میں ریجنل انسٹی چیوٹ ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر قائم کیا ہے تاکہ مختلف پروگراموں کے تحت کام کر رہے ان ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے و دیگر ملازمین کو اِن ہاوس تربیت فراہم کی جاسکیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ اس ادارے میں اس وقت معقول بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور اس سے نرسنگ کالج کے طور پر ترقی دینے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔انہوں نے حکیم محمد یاسین کے ایک کلب کردہ سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وترہل ، آری گام ، شمس آباد ، ہرد پنزو اور رائیار کے پرائمر ی ہیلتھ سینٹروں میں تشخیصی آلات اور نیم طبی عملے کی کوئی قلت نہیں ہے ۔میاں الطاف احمد ، نیلم لنگے نے اس موقعہ پر ضمنی سوالات پوچھے اور اپنے اپنے حلقوں میں طبی اداروں میں بہتری لانے سے جڑے امور اُجاگر کئے۔
۔ 3361 نئے آنگن واڑی مراکز قائم ہونگے: سجاد لون
جموں//سماجی بہبود کے وزیر سجاد غنی لون نے ایوان کو بتایا کہ مرکز نے ریاست کے طول و عرض میں 3361 نئے آنگن واڑی مراکز قایم کرنے کی منظوری دی ہے ۔ سجاد احمد کچلو کے ایک سوال کے جواب میں وزیر نے ایوان کو بتایا کہ سال 2015-16 کے دوران ڈپٹی کمشنر پلوامہ نے صحت ، فوڈ سیفٹی ، محکمہ خوراک اور ریونیو کے ممبران کی ایک کمیٹی تشکیل دی جو آنگن واڑی مراکز میں فراہم کی جا رہی اشیائے خوردنی کی جانچ پڑتال انجام دے گی ۔ کمیٹی نے جانچ پڑتال کے بعد اشیائے خوردنی بالکل محفوظ پائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنگن واڑی ورکر اور ہیلپروں کو ماہانہ مشاہرے میں 500 روپے کا اضافہ کرنے پر حکومت غور کر رہی ہے ۔
ریاست میں 1090 ایمبو لینسز دستیاب
گذشتہ برس 4980.34 لاکھ روپے کی دوائیاں خریدی گئیں : بالی بھگت
جموں//صحت و طبی تعلیم کے وزیر بالی بھگت نے کل ایوان میں بتایا کہ سال 2016-17 کے دوران حکومت نے 4980.34 لاکھ روپے کی دوائیاں جن میں حیات بخش ادویات بھی شامل ہیں ، خریدیں ۔ رُکنِ قانون سازیہ سریندر کمار چودھری کے ایک سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ سال 2015-16 کے دوران 4887.26 لاکھ روپے اور 2014-15 کے دوران 2593.25 لاکھ روپے دوائیوں کی خریداری پر خرچ کئے گئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کے پاس 4 ڈرگ وئیر ہاوسز کشمیر اور 6 جموں میں کام کر رہے ہیں ۔ یہاں لگ بھگ 4 ہزار ٹیسٹ کرنے کی گنجایش موجود ہے ۔ وزیر نے کہا کہ دوائیاں خریدنے کے بعد انہیں مختلف ڈرگ وئیر ہاوسز میں رکھا جاتا ہے اور اُن کے نمونے کوالٹی کنٹرول سیکشن کو بھیجے جاتے ہیں تا کہ اُن نمونوں کا ٹیسٹ کیا جا سکے ۔ رُکنِ قانون سازیہ رومیش ارورہ کے سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ ریاست میں 1090 ایمبو لینسز کام کر رہی ہیں جن میں 40 نیشنل ہائیز ایمبولینسز بھی شامل ہیں ۔ وزیر نے مزید کہا کہ دو کریٹیکل کئیر ایمبولینسز ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر کو فراہم کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر صوبے میں 505 جبکہ جموں صوبے میں 376 ڈرائیور کام کر رہے ہیں ۔
صنعتوں کے لئے 1250.36 کنال اراضی لیز پرتفویض: گنگا
جموں //صنعت و حرفت کے وزیر چندر پرکاش گنگا نے کل قانون ساز اسمبلی میں الطاف احمد وانی کی طرف سے پوچھے ایک سوال کا جواب دیتیء ہوئے کہا کہ محکمہ صنعت نے 193.87کروڑ روپے کے معاوضے کے عوض 1250.36کنال اراضی لیز پر تفویض کی ہے ۔وزیر مزید کہا کہ صنعت و حرفت محکمہ نے کسی بھی غیر ریاستی باشندے کو غیر قانونی طور سے کوئی بھی اراضی تفویض نہیں کی ہے۔
جموں میں21غیر قانونی کالونیاں موجود : آسیہ نقاش
جموں //مکانات و شہری ترقی کی وزیر مملکت آسیہ نقاش نے ایوان کو ست پا ل شرما کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جانکاری دی کہ جموں شہر اور اس کے مضافات میں 31 قانونی اور 21غیر قانونی کالونیاں موجود ہیں اور یہ تمام جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حد اختیار میں آتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پچھلے دس برسوں کے دوران کسی بھی کالونی کو باقاعدہ نہیں بنایا گیا ہے ۔انہوںنے مزید کہا کہ 21غیر قانونی کالونیوں کو باقاعدہ بنانے کا منصوبہ جے ڈی اے نے تیار کیا ہے لیکن عدالت عالیہ نے ایک عرضداشت کے ذریعے سے روک لگا دی ہے ۔
بجلی سے محروم بستیوں کومخصوص سکیموں کے دائرے میں لایا جائیگا:نائب وزیر اعلیٰ
جموں //بجلی کے وزیر اور نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے قانون سا ز اسمبلی میں عبدالمجید پڈر کے ایک مخصوص سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اُن تمام دیہات کی نشاندہی کی گئی ہے جو ابھی تک بجلی سہولیات سے محروم ہے اور انہیں ڈی ڈی یو جی جے وائی اور پی ایم ڈی پی سکیموں کے دائرے میں لایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے نور آباد حلقے کی یہ بستیاں دمحال ہانجی پورہ بلاک اور کولگام ضلع کے قاضی گنڈ بلاک میں آتی ہیں اور انہیں بھی ان سکیموں کے دائرے میں لایا جارہا ہے ۔نائب وزیر اعلیٰ نے ایک سوال کے ایک اور حصے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی طرف سے 25نومبر 2017ء کوکولگام ضلع ہیڈ کوارٹر پر منعقدہ عوامی دربار کے دوران فیصلہ لیا گیا کہ دمحال ہال ہانجی پورہ میں ٹرانسفارمروں کی مرمت کا ایک ورکشاپ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔انہوںنے کہا کہ اس حوالے سے 47.96لاکھ روپے کا ایک ڈی پی تیار کیا گیا ہے اور اس وقت محکمہ کی ٹیکنو اکنامک کمیٹی کے زیر غور ہے۔نائب وزیر اعلیٰ نے اس موقعہ پر مزید کہا کہ ضلع کولگام میں 744سٹریٹ لائیٹس نصب کی گئیں جن میں سے اس وقت 250کام کر رہی ہے۔