راجوری میں پانی کا بحران تشویشناک :شبیر خان
مقامی وزراء اور ارکان قانون سازیہ بری طرح سے ناکام
راجوری //کانگریس کے سینئر رہنما و سابق وزیر شبیر احمد خان نے ضلع راجوری میں پانی کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکمران اتحاد ضلع کے ساتھ سوتیلی ماں جیساسلوک کررہاہے ۔یہاں جاری بیان کے مطابق شبیر خان نے کہاکہ راجوری شہر ، منجاکوٹ ، ڈونگی وتھنہ منڈی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے اور گرمیوں کے اس موسم میں لوگ بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت عوام کو پانی کی سپلائی فراہم کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے ۔انہوںنے اس کیلئے مقامی وزراء اور ممبران قانون سازیہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہاکہ محکمہ پی ایچ ای کاڈھانچہ پچھلے تین سال سے اپ گریڈ نہیں کیاگیا ۔انہوںنے کہاکہ کانگریس کی سابق حکومت کے دور میں راجوری میں کئی پروجیکٹوں پر کام شروع ہواتھا اور پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کئی سکیمیں شروع ہوئیں تاہم ا ن کو عدم توجہی کاشکار بنادیاگیاہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔شبیر خان نے کہاکہ راجوری کو کابینہ میں اچھی خاصی نمائندگی ہے جس کے باوجود یہاں کے عوامی مسائل حل نہیں ہورہے اور ایسا راجوری کے ساتھ پہلی بار ہورہاہے ۔ان کاکہناتھاکہ وزراء اور ممبران قانون سازیہ عوامی توقعا ت پر پورااترنے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ حکمران اتحاد کے لیڈرا ن کی آپسی چپقلش کی وجہ سے عام لوگ متاثر ہورہے ہیں اوراسی وجہ سے محکمہ پی ایچ ای کے افسران اپنی خدمات اچھے ڈھنگ سے عوام تک نہیں پہنچاپارہے ۔شبیر خان نے کہاکہ مقامی عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے یہ لیڈران مسائل میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں اور ملازمین کو پانی کی سپلائی من مرضی پر اثرورسوخ رکھنے والے گھروں میں کرنے پر مجبور کیاجارہاہے ۔شبیر خان نے کہاکہ راجوری میں اس نوعیت کا پانی کا بحران ماضی میں کبھی نہیں دیکھاگیا ۔انہوںنے ضلع انتظامیہ پر زور دیاکہ اس سلسلے میں فوری طور پر اقدامات کرکے پانی کی قلت کا مسئلہ حل کیاجائے اور نظرانداز کئے گئے علاقوں کو سپلائی فراہم کی جائے ۔
منڈی میں راشن کی کالابازاری کا الزام
نیوز ڈیسک
منڈی// تحصیل منڈی میں آئے دن راشن کی کالا بازاری کے الزام عائد ہوتے رہتے ہیں جبکہ غریب عوام کو وقت پر راشن فراہم نہیں ہوتا۔عوام کا یہ الزام بھی ہے کہ محکمہ خوراک ،شہری رسدات و امور صارفین کے افسران بغیر لائسنس والے ڈپو مالکان سے معاملات طے کرکے کالابازاری کررہے ہیں جبکہ لوگوں کو راشن گھاٹوں سے خالی ہاتھ لوٹناپڑتاہے۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ انہیں وقت پر راشن نہیں ملتاجبکہ اس کی کابازاری عروج پر ہے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر پونچھ سے اپیل کی ہے کہ وہ لائسنسوں کا معائنہ کروائیں اور کالابازاری پر روک لگائی جائے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کو وقت پر راشن فراہم کیاجاناچاہئے اور خاص طور پر ماہ صیام میں راشن کی زیادہ ہی ضرورت رہتی ہے جو انہیں ملناچاہئے۔ کالابازاری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے تحصیل سپلائی افسر منڈی منموہن سنگھ نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
ہائی سکول کیری کانگڑہ کادرجہ بڑھانے کی مانگ
جاوید اقبال
مینڈھر// مینڈھر کے گلہوتہ علاقہ کے لوگوں نے بھی سرکار سے مانگ کی ہے کہ ہائی سکول کیری کانگڑہ کو ہائر سکنڈری کا درجہ دیا جائے۔مقامی لوگوںکے مطابق ہائی سکول کیری کانگڑہ بہت پرانا سکول ہے اور علاقہ بھی بڑی آبادی پر مشتمل ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ گلہوتہ گائوں تین بڑی پنچایتوں پر مشتمل ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بستے ہیں۔ان کاکہناہے کہ مقامی طلباء کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے سکول کا درجہ بڑھایاجائے جس سے طالبات کو آسانی ہوگی جن کیلئے روزانہ ہائراسکینڈری سکول ہرنی جانا مشکل ہوتاہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق علاقے کے کچھ طلباء کو ہائر سکنڈری سکول منجاکوٹ یا سرنکوٹ بھی جا کر تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے اور کچھ بچے ہائر سکنڈری سکول مینڈھر میں جا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ غریب لوگوں کیلئے اپنے بچوںکو تعلیم کے حصول کیلئے دوردراز علاقوں میں بھیجنا مشکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ کئی طلباء ترک تعلیم پر مجبور ہوتے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ اس وقت تک حکومت نے اس بڑی آبادی والے علاقہ کے ساتھ زیادتی کی ہوئی ہے جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتے۔انہوںنے کہاکہ اگر ہائی سکول کیری کانگڑہ کادرجہ بڑھایانہ گیاتو وہ جموں پونچھ شاہراہ بند کرکے احتجاج کاراستہ اختیار کریںگے ۔انہوںنے وزیر تعلیم سے اپیل کی کہ وہ خود اس علاقے کا معائنہ کرکے دیکھیںکہ ان کے ساتھ کس درجہ زیادتی ہورہی ہے ۔
’پٹھانہ تیر کو انصاف ملناچاہئے ‘
نیوز ڈیسک
مینڈھر//پی ڈی پی کے کارکنان نے چوہدری محمد صادق ریاستی ممبر برائے گوجروبکروال یڈوائزری بورڈ ونائب زونل صدر مینڈھر و ایڈووکیٹ اکبر حسین جنجوعہ نے پٹھانہ تیر کے لوگوںسے انصاف کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہائی سکول کادرجہ بڑھانے کی مانگ کی ہے ۔ایک مشترکہ بیان میں انہوںنے کہاکہ کالابن اور پٹھانہ تیر گائوں و گرد نواح کے لوگوں کی ہائی سکول پٹھانہ تیر کے درجہ بڑھانے کی دیرینہ مانگ کو نظر انداز کرنا قابل مذمت ہے اوران کے ساتھ انصاف ہوناچاہئے ۔انہوںنے کہاکہ اس پہاڑی علاقے کے طلباء اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے ہیںاس لئے سکول کادرجہ بڑھایاجائے۔انہوںنے وزیر تعلیم سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں ذاتی مداخلت کریں۔
SBMکے تحت تعمیر بیت الخلائوں کی اجرت نہ ملی
ڈپٹی ڈائریکٹر کے معائنہ کے بعد رقومات ادا ہوںگی :حکام
طارق شال
تھنہ منڈی //میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی کے عوام نے سووچھ بھارت مشن کے تحت تعمیر کئے گئے بیت الخلا ؤں کی رقومات کی واگذاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لئے مرکزی سرکار کی طرف سے چلائی جارہی سوچھ بھارت مشن اسکیم کے تحت تعمیر کئے گئے بیت الخلاء اور ٹینکوں کے عوض رقومات اس وقت تک فراہم نہیں کی گئیں جسکی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سکیم کے تحت بیت الخلاء اور ٹینک تعمیر کرنے کے لئے 17.490 روپے فراہم کئے جاتے ییں تاہم اس رقم کیملنے کا لوگوں کو ابھی بھی انتظار ہے۔ میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی کے حکام نے انفرادی بیت الخلاء تعمیر کرنے کے لئے زوردار مہم چلائی تھی اور تھنہ منڈی کے 13 وارڈوں کے لوگوں نے سیمنٹ اور ریت بجری ادھار لیکر بیت الخلاء اور ٹینک تعمیر کئے۔واضح رہے کہ مختلف وارڈوں میں ٹینک نہ ہونے سے بیت الخلاؤں کی تمام غلاطت یا محکمہ آبپاشی کی نہر میں پڑتی تھی یا یہ غلاظت ندی نالوں میں ڈآل دی جاتی تھی لیکن کمیٹی کی طرف سے بیت الخلاء تعمیر کروائے گئے مگر ان کی رقومات اس وقت تک نہیں دی گئیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادھار لیکر بیت الخلاء اور ٹینک تعمیر کئے اور اب یہ ادھار چکانا مشکل ہورہاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جلد از جلد سوچھ بھارت مشن کے تحت میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی کو فنڈز فراہم کئے جائیں تاکہ واجبات اداہوسکیں نہیں تو انہیں احتجاج کاراستہ اختیار کرناپڑسکتاہے۔۔ اس ضمن میں ایگز یکٹو آفیسر میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی کبیر احمد ملک نے بتا یا کہ حکام کے پاس یہ شکا یا ت موصول ہو رہی تھیں کہ مختلف وارڈوں میں لوگوں نے بیت الخلاؤں کی پائپیں پرانہ تھنہ کے بیچ سے نکلنے والی نہر میں ڈالی ہیں یا متعدد پائپیں ندی نالوں میں ڈال کر بہنے والے پانی کو الودہ کیا گیا ہے۔ انہوں۔نے کہا کہ سوچھ بھارت مشن کے تحت میونسپل حکام نے زوردار میم چلائی جسکے نتیجہ میں چھ سو کے قریب بیت الخلاء اور ٹینک تعمیر کئے گئے۔ انہوں۔نے کہا کہ 20 لاکھ روپے وصول ہوئے جو تیرہ وارڈوں میں تقسیم کر دیئے گئے ہیں جبکہ بقیہ رقم محکمہ لوکل باڈیز جموں کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی سربراہی میں ٹیم کی طرف سے معائنہ کاری کے بعد ادا کی جائے گی۔تاہم انہوں نے یقین دلایاکہ رقم موصول ہوتے ہی اسے لوگوں کو دے دیاجائے گا۔