محکمہ دیہی ترقی میں بھاری پھیر بدل
۔74وی ایل ڈبلیوز /ایم پی ڈبلیوزکے تبادلے
سمت بھارگو
راجوری//محکمہ دیہی ترقی میں ولیج لیول ورکر (وی ایل ڈبلیو)اور ملٹی پرپز ورکر(ایم پی ڈبلیو)کے طور پر کئی کئی سال سے ایک ہی جگہ پر تعینات ملازمین کا بھاری پھیر بدل کیاگیاہے اور اس سلسلے میں 74ملازمین کو تبدیل کردیاگیاہے ۔محکمہ کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ ضلع انتظامیہ راجوری کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ (اے سی ڈی)نے ان ورکروں کے تبادلے کا حکم جاری کیاہے ۔مذکورہ افسر نے بتایاکہ ان میں سے بعض اکیس سال سے ایک ہی جگہ تعینات تھے۔یہ تبادلے عوامی مطالبات کو مد نظر رکھتے ہوئے کئے گئے ہیں جو عوام نے ڈپٹی کمشنر راجوری کے عوامی درباروں کے دوران کئے تھے ۔محکمہ کے افسر نے بتایاکہ لوگوں کا مطالبہ تھاکہ ان ملازمین کو فوری طو رپر تبدیل کیاجائے کیونکہ ایک ہی جگہ تعینات رہنے سے جہاں ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی ہورہی ہے وہیں اس سے کنبہ پروری کااحتمال بھی رہتاہے۔انہوں نے مزید بتایاکہ لوگوں کی یہ مانگ بھی تھی کہ پنچایتی چنائو کو صاف و شفاف بنانے کیلئے بھی یہ اقدام ضروری ہے۔انہوں نے بتایاکہ محکمہ کے کام کاج میں بہتری لانے کیلئے ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجازاسد کی ہدایت پر اے سی ڈی اختر حسین قاضی نے 74وی ایل ڈبلیوز و ایم پی ڈبلیوز کا تبادلہ عمل میں لایاہے ۔تبدیل کئے گئے ملازمین میں سے دس منجاکوٹ بلاک ،نو راجوری، تین قلعہ درہال،تین ڈھانگری ،دو نوشہرہ،دو سیری، دو ڈونگی، دو تھنہ منڈی، دو کالاکوٹ، دو لمیڑی، دس درہال،پانچ کوٹرنکہ ،چار پنج گرائیں، چار سیوٹ ،چار سندر بنی ،سات پلانگڑھ اور ایک ایک خواس و موگلہ بلاک میں تعینات تھے ۔محکمہ کے ذرائع نے بتایاکہ تبدیل کئے گئے ملازمین میں سے ایک ملازم راجوری بلاک میں تیرہ برسوں سے جبکہ دو ملازمین کوٹرنکہ بلاک میں اکیس برسوں سے ایک ہی جگہ تعینات رہے ہیں۔
اساتذہ کے تبادلے منسوخ کرنے کی مانگ
طارق شال
تھنہ منڈی//تعلیمی زون تھنہ منڈی کے اساتذہ کے کوٹرنکہ میں ہوئے تبادلوں کو منسوخ کرنے کی مانگ کرتے ہوئے مقامی طلباء نے کہاکہ اس سے ان کی تعلیم متاثر ہوگی۔طلباء کاکہناہے کہ اساتذہ کو تعلیمی زون کوٹرنکہ میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہاں کے سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جاسکے لیکن اس عمل سے انہیں نقصان پہنچاہے کیونکہ تھنہ منڈی سے ریاضی اور سائنس کے اساتذہ کو چن چن کر تبدیل کردیاگیاہے جس کے نتیجہ میں مقامی سطح پر عملے کی کمی واقع ہورہی ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ مڈل سکول لوہر پنگائی، مڈل سکول چبتہ اور دداسن بالا کے سرکاری سکولوں کا درجہ بڑھ گیاہے جہاں مزید اساتذہ کی ضرورت ہے جبکہ دیگر کئی سکولوں میں بھی سائنس اور ریاضی کے اساتذہ تعینات نہیں لیکن اس کے باوجود یہاں سے اساتذہ کوکوٹرنکہ تعینات کیاجانا سمجھ سے باہر ہے ۔رابطہ کرنے پر زونل ایجوکیشن آفیسر تھنہ منڈی نے کہا کہ تعلیمی زون تھنہ منڈی میں اساتذہ کی کمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سال کے لئے ان اساتذہ کو کوٹرنکہ زون میں تبدیل کیا گیا ہے ۔
راجوری کیلئے موسمی ایڈوائزری جاری
راجوری//محکمہ موسمیات نے 22سے 24جولائی کے درمیان جموں صوبہ میں بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے بارش کے ساتھ ساتھ تیز ہوائیں اور طوفان کا خدشہ بھی ہے جس کے نتیجہ میں راجوری کے پہاڑی علاقوں میں سیلاب اور پسیاں گرآنے کی صورتحال پید اہوسکتی ہے ۔ضلع راجوری اور خاص کر پہاڑی علاقوں کے عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بارش کے دوران گھروں میں ہی موجود رہیں تاکہ کسی طرح کے ناخوشگوار واقعہ سے بچ سکیں ۔بارش کے دوران بجلی کی سپلائی منقطع ہونے کا بھی امکان ہے اس لئے پیشگی انتظامات کرنے کی تاکید کی گئی ہے ۔
جھلاس میں تدریسی عملے کی تعیناتی کا مطالبہ
حسین محتشم
پونچھ//حال ہی میں ہائی سکول جھلاس کادرجہ بڑھا کر اسے ہائر سکینڈری سکول بنایاگیاہے تاہم اس سکول میں تدریسی عملے کی شدید قلت پائی جارہی ہے جسے مقامی لوگوں نے پورا کرنے کی مانگ کی ہے۔مقامی لوگوں نے کہاکہ گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کیلئے تدریسی عملہ تعینات نہیں جس وجہ سے طلباء کوتعلیمی طور پر نقصان پہنچ سکتاہے ۔اس حوالے سے طلبا کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر پونچھ راہل یادو سے ملاقات کرکے ان سے اپیل کی کہ ہائر سکینڈری اسکول جھلاس میں لیکچرار اور دیگر عملے کی تعیناتی کو یقینی بنایاجائے اور انہیں بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ طلباء نے کہاکہ تدریسی عملہ کی قلت ان کیلئے پریشانی کا باعث ہے اور انہیں تعلیمی طور پر نقصان ہورہاہے۔اس دوران ڈپٹی کمشنر نے یقین دلایاکہ وہ اس سلسلے میں چیف ایجوکیشن افسر سے بات کرکے عملے کی تعیناتی کیلئے اقدامات کریں گے۔
تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بجلی ملازمین کا احتجاج
حسین محتشم
پونچھ//محکمہ بجلی کے ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور دیگر مسائل پر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔سب ڈیویژن دفتر پونچھ کے باہر مظاہرے میں شامل ملازمین نے بتایاکہ ان کی تنخواہیں تین ماہ سے بند رکھی گئی ہیں جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کاسامناہے۔ان کاکہناتھاکہ انہوں نے دفتر کو مقفل کردیاہے اور وہ اپنے جائز مطالبات پر چپ نہیں بیٹھیں گے بلکہ احتجاج کا راستہ اختیار کیاجائے گا۔ان کاکہناتھاکہ وہ چوبیس گھنٹے تعینات رہ کر بجلی کی سپلائی کو یقینی بناتے ہیں لیکن ان کے ساتھ حکام کی طرف سے ناانصافی کی جاتی ہے اور جائز مطالبات پورے نہیں کئے جارہے ۔انہوں نے بتایا کہ 2013میں دو حادثے رونما ہوئے تھے جن کا کیس عدالت میں چل رہاہے جہاں حکومت کے خلاف فیصلہ ہواہے ،وہ فیصلہ کا احترام کرتے ہیں لیکن پچھلے تین ماہ سے تنخواہیں بند رکھی گئی ہیں جب اس میں ان کا کوئی قصور ہی نہیں ۔انہوںنے کہا کہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں کہ وہ گھریلو نظام چلاسکیںاوران کا سارا انحصار اسی تنخواہ پر ہے جو بند ہوجانے سے سارا نظام ہی درہم برہم ہوکر رہ گیاہے ۔ملازمین کاکہناہے کہ عوامی حکومتوں کے دور میں تو ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی لیکن انہیں گورنر راج سے امیدیں وابستہ ہیں اور ان کے جائز مسائل کا تدارک ہوناچاہئے۔انہوں نے انتباہ دیاکہ اگر تنخواہوں کا مسئلہ حل نہ ہواتو وہ بڑے پیمانے پر ہڑتال شروع کردیں گے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے محکمہ بجلی کے ایک افسر نے بتایاکہ عدالت کی جانب سے ان کی تنخواہوں کا ہیڈ بند کر دیا گیا ہے اس لئے وہ بے بس ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ عدالت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی فیصلہ سامنے آنے تک وہ کچھ نہیں کرسکتے ۔
ریجنل ڈائریکٹر نے محکمہ مال کے ریکارڈ کا معائنہ کیا
پونچھ //ریجنل ڈائریکٹر سروے و لینڈ ریکارڈز پیر پنچال شوکت حسین کاظمی نے نائب تحصیلدار حویلی محمد اکرم تانترے اور دیگرافسران کے ہمراہ پونچھ میں محکمہ مال کے ریکارڈ کا معائنہ کیا ۔انہوں نے ریکارڈ کا معائنہ کرکے اطمینان کا اظہار کیا ۔انہوں نے پٹواریوں اور افسران کو ہدایت دی کہ وہ ریکارڈ کی تجدید کاری کے عمل کو مقررہ مدت میں مکمل کریں تاکہ ہر طرح کا ریکارڈ عوام کے سامنے رہے اور انہیں کسی قسم کی پریشانی کاسامنا نہ کرناپڑے ۔ انہوں نے ہدایت دی کہ افسران ریکارڈ کا وقت بروقت خود بھی معائنہ کیا کریں ۔
۔6 دنوں بعد پروڑی سڑک بحال
درہال//حکام نے درہال ۔پروڑی سڑک کو چھ دنوں کے بعد بحال کردیاہے جو پسی گرآنے کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند ہوگئی تھی۔مقامی ذرائع کے مطابق چھ روز قبل درہال پروڑی سڑک کے ایک حصے کو لینڈ سلائڈ کی وجہ سے نقصان پہنچاتھاجس پر ٹریفک کی نقل و حرکت بند ہوگئی تھی۔تاہم محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت اس سڑک پر حکام نے کام کرتے ہوئے ملبہ ہٹاکر اس ے چھ روز بعد ٹریفک کیلئے بحال کردیاہے۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ سڑک سے ملبہ ہٹانے کاکام ابھی بھی جاری ہے لیکن اسے متبادل راستہ کے ذریعہ ٹریفک کیلئے بحال کردیاگیاہے۔انہوں نے بتایاکہ اب اس سڑک پر گاڑیاں آسانی سے چل سکتی ہیں۔
مرحوم مفتی سعیدنے ریاست میں امن کیلئے اہم کردار ادا کیا:قمر
طارق شال
تھنہ منڈی// ممبر اسمبلی راجوری و پی ڈی پی لیڈر ایڈووکیٹ قمر حسین چوہدری نے کہا ہے کہ مرحوم مفتی محمد سعید ریاست کی عوام کے مسیحا تھے جنہوںنے ریاست میں امن قائم کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ڈاک بنگلہ تھنہ منڈی میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے قمر حسین چوہدری نے کہا کہ ریاست بد امنی کا شکار ہوچکی تھی،جب سال 2002 میں مرحوم مفتی محمد سعید نے ریاست کی باگ ڈور سنبھال کرکو امن کے قیام کیلئے کوششیں شروع کیں اورسابق حکومتوں کے دور سے چلے آرہے رشوت خوری کے سلسلے کو ختم کیا۔ان کاکہناتھاکہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے ریاستی عوام کو طبقوں اور فرقوں میں تقسیم کر کے ووٹ بٹورنے کی کوشش کی لیکن 2014 میں ہونے والے انتخابات میں ان جماعتوں کو کرارا جواب ملا اورلوگوں نے ان کی پالیسیوں کو مسترد کردیا۔ ممبر اسمبلی نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے دور اقتدار میں ایسے ترقیاتی کام ہوئے جو پچھلے چھ برسوں میں نہیں ہوئے تھے ۔ اس موقعہ پر انہوں نے بلاک ڈیولپمنٹ افسر کو ہدایت دی کہ وہ سوئوچھ بھارت مشن کے تحت تعمیر ہوئے بیت الخلائوں کی رقومات جاری کریں ۔اس موقعہ پر زونل صدرمحمد اقبال شاہ، محمد اقبال رینہ،عبدالرشید شال، شوکت شال، شمشیر لون، زبیر شاہ، جنگباز چوہدری، حاجی لال حسین، آفتاب خواجہ، سلیم جو، نظر منیال، لیاقت چوہدری، علی محمد میر،مشتاق چوہدری، مختار چوہدری،بشیر احمد میروغیرہ بھی موجو دتھے۔
ناجائز قبضہ کیخلاف کارروائی
محکمہ اینمل ہسبنڈری کی 1ہزار کنال اراضی بازیاب
رمیش کیسر
نوشہرہ//محکمہ اینمل ہسبنڈری کے لام کے ونڈ موہڑہ میں واقع ایک ہزار کنال کے فارم پر مقامی لوگوں نے ناجائز قبضہ کیاہواتھا جسے پولیس و سی آر پی ایف کی بھاری نفری کی موجودگی میں قابضین سے خالی کروالیاگیا۔واضح رہے کہ نوشہرہ کے وند موہڑہ میں محکمہ مویشی پروری کی 2880کنال زمین ہے جس کے کچھ حصے پر مقامی لوگوں نے قبضہ کرلیاتھا جس کو پولیس و سی آر پی ایف کی بھاری نفری کی موجودگی میں چھڑالیاگیا۔ ذرائع نے بتایاکہ ایک ہزار کنال اراضی سے ناجائز قبضہ چھڑا کراسے متعلقہ محکمہ کے حوالے کیاگیاہے ۔ اس کارروائی کے دوران ایڈیشنل ایس پی نوشہرہ، تحصیلدار نوشہرہ و قلعہ درہال سمیت انتظامیہ و پولیس کے کئی افسران بھی موقعہ پر ہی حاضر رہے ۔