آفیسران نے پونچھ مارکیٹ کا معائینہ کیا
حسین محتشم
پونچھ //60گھنٹوں کے کورونا کرفیو کے بعد اضافی ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ بشارت حسین انقلابی نے ایس پی خالد امین، اے سی آر پونچھ اور دیگر افسران کے ہمراہ پونچھ بازار کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے دوکانداروں اوربازار میں موجود صارفین کو ہدایت کی کہ وہ کوڈ 19کے چلتے محکمہ صحت کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔اس دوران جو لوگ احتیاظی تدابیر پر عمل نہیں کرتے ہوئے پائے گئے ان کے خلاف پولیس کاروائی بھی کی گئی۔اے ایس پی خالد امین نے دوکانداروں اور بینک افسران کو بھی ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو احتیاط برتنے کی تلقین کریں اور اگر کوئی شخص ان کے پاس بغیر ماسک کے آتا ہے تو اس سے سختی سے پیش آئیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا ملک مشکلات سے دوچار ہے اس لئے ہم سب کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔اضافی ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ ڈاکٹر بشارت حسین انقلابی نے کہا کہ انہوں نے بازار کا دورہ کیا اس دوران انہوں نے کوشش کی کہ لوگوں کو سمجھایا جا سکے کہ وہ احتیاط تدابیرپر عمل کریں۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بازار نہ آئیں زیادہ وقت گھروں کے اندر رہیں، اگر مجبوری ہے تو گھر سے ایک شخص بازار آئے وہ بھی پوری طرح احتیاط کرے۔انہوں نے کہا کہ پونچھ میں روزانہ کوڈ 19کے مثبت معاملات میں اضافہ ہو رہا ہے اس چین کو تورنے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ سماجی دوری اختیار کریں۔
پونچھ میں جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا گیا
حسین محتشم
پونچھ//کوروناوائرس سے لوگوں کو محفوط رکھنے کے لیے میونسپل کونسل کی جانب سے لگاتار جراثیم کش دوا کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔اس سلسلہ میں پیر کے روز ضلع عدالت پونچھ اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں جراثیم کش دوا کا چھڑکاؤ کیا اس موقع پر چیف ایگزیکٹو افسر میونسپل کونسل پونچھ مشتاق احمد نے بتایا کہ ان کا محکمہ پوری کوشش کر رہاہے کہ اس جان لیوا کورونا وائرس کو حتم کیا جائے اور اس سلسلے میں آج ضلع عدالت پونچھ اور اس کے گرد نواح علاقوں میںجراثیم کْش دوا چھڑکاؤ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس جان لیوا کورونا وائرس کو جڑ سے ختم کیا جائے اس کی پوری کوشش ہو رہی ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کہ وہ صاف صفائی کا خاص خیال رکھیں اور اپنے اپنے گھروں میں رہیں۔گھر سے باہر نکلنا ہو تو احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی جانوں کو تحفظ فراہم کریں۔
۔3دن بعد کچھ دکانیں کھولی گئیں
تاجروں و صارفین نے راحت کی سانس لی
سمت بھارگو +رمیش کیسر
راجوری //راجوری اور نوشہرہ قصبوں میں عائد بندوشوں کے بعد مارکیٹ جزوی طور پر کھولی گئی جس سے صارفین و تاجروں نے راحت کی سانس لی ۔کووڈ کے بڑھتے ہوئے کیسوں کو دیکھتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس کے تحت ضلع میں گزشتہ تین دنوں سے بندشیں عائد رہی ۔ان بندشوں کے دوران نہ تو دکانیں کھولی گئی اور نہ ہی عام لوگوں کو کھلے عام گھومنے کی اجازت دی گئی تھی جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور رہے ۔مقامی لوگوں و تاجروں نے راحت کی سانس لیتے ہوئے کہاکہ کاروبار بھی ضروری ہے تاہم کووڈ کے پھیلائو کو کم کرنے کیلئے سماج کے ہر ایک شخص کو اپنا رول ادا کرنا ہو گا ۔تاجر طبقہ نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ ضروری ساز و سامان کی خرید اری کرتے وقت ضروری ایس او پیز کا دھیان رکھیں تاکہ ہر کوئی محفوظ رہ سکے ۔
سنگیوٹ گائوں کی سڑک انتہائی خستہ، انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام
پونچھ// ضلع پونچھ کے بلاک بالاکوٹ کے سنگیوٹ گائوں کی سڑک انتہائی خستہ حال ہوگئی ہے۔، سڑک کے گڑھے راہگیروں کیلئے پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق برسات کے دنوں میں اس سڑک سے گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسکول پڑھنے کیلئے جانے طلبہ وطالبات ہو یاں مریض یا پھر بزرگ سب کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حلقہ پنچایت سنگیوٹ کے سرپنچ مختیاز خان نے بتایا کہ گائوں کی عوام کی بد قسمتی ہے جس کی وجہ سے آج تک یہاں کی سڑک بدحال ہے۔انہوں نے کہا کہ1970ء میں اس سڑک کی تعمیرات کا کام شروع کیا گیا ہے جو تاحال مکمل نہ ہو پایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے سیاسی لیڈران نے اور اب لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ ان کے علاقوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بھلے ہی ان علاقہ کو بلاک اور تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے لیکن ترقیاتی کام بالکل نہیں ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں کہ ان کی سڑک کی بھی قسمت چمکے لیکن ہو تا کچھ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سڑک کے درمیان بڑے بڑے گڑھے ہیں جس کی وجہ سے دن میں تو کسی طرح بچ کر لوگ اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں لیکن رات میں اگر اس راستہ سے غلطی سے کوئی بھی گزر گیا ہے تو اسکا زخمی ہوناطے ہے۔ انہوں نے کہاکہ چاہے ایم پی کا الیکشن ہو یا ایم ایل اے کا جب نیتا آتے ہیں تو وعدہ کر کے چلے جاتے ہیں کرتے کچھ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف گائوں کے لوگ اس سڑک سے آمدورفت کرتے ہیں لیکن انتظامیہ کے متعصبانہ کی رویہ کی وجہ سے آج تک سڑک نہیں بن پائی ہے۔انہوں نے کہا کہ بدحال اور خستہ حال سڑک کی وجہ سے کوئی بھی ڈرائیور اس طرف چلنا پسند نہیں کرتا ہے جس کی وجہ سے حاملہ خواتین اور مریضوں کو پریشان ہونا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سڑک کے متعلق کئی مرتبہ اعلیٰ حکام سے بات چیت کی گئی ہر بار وہ یہی کہتے تھے کہ ٹینڈر ہوگیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس سڑک کے لئے ہر بار لاکھوں کی رقومات نکالی جاتی ہے لیکن اسے زمینی سطح پر خرچ نہیں کیا جاتا۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے سڑک کی تعمیرات کا کام جلد از مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے اپیل کی کہ جو سڑک کا حصہ تیار ہے اور خستہ حالی کا شکار ہے اس پر تارکول بچھائی جائے تاکہ لوگ تھوڑی راحت حاصل کر سکیں۔
ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کیلئے2 اے ٹی ایم مشینیں
کووڈ کے دوران صارفین پریشان ،انتظامیہ عدم توجہی کا شکار
بختیار حسین
سرنکوٹ//سرنکوٹ قصبہ میں انتظامیہ کی جانب سے صارفین کو معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے محض 2اے ٹی ایم مشینیںکام کررہی ہیں جبکہ دیگر چار مشینیں اکثر خراب رہتی ہیں جس کی وجہ سے ہر وقت صارفین کا ہجوم جمع رہتا ہے جبکہ سماجی دوری کا بھی کوئی بندوبست نہیں کیاگیا ہے ۔صارفین نے بینک منتظمین پر الزام عائد کرتے ہو ئے کہاکہ سرنکوٹ کی ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کیلئے سٹیٹ بینک آف انڈیا اور جموں وکشمیر بینک کی جانب سے اے ٹی ایم مشینیں نصب کی گئی ہیں جن میں کبھی کیش اور کبھی دیگر خلل رہنے کی وجہ سے صارفین کو ہر وقت مشکلات درپیش رہتی ہیں ۔صارفین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ بینک حکام کی جانب سے سرنکوٹ کی عوام کو معیاری سہولیات ہی فراہم نہیں کی جارہی ہیں جبکہ کووڈ کے دوران صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ سے زائد کی آبادی کیلئے صرف دو اے ٹی ایم مشینیں نصب کی گئی ہیں جو کہ ہر وقت کسی نہ کسی وجہ سے خراب رہتی ہیں جبکہ پیسے ہونے کی صورت میں ہر وقت صارفین کو ہجوم جمع رہتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کورو ناوائرس کے شروع ہونے کے بعد بینک نظام بھی متاثر ہو ا ہے لیکن اے ٹی ایم مکینوں کیلئے درد سر بن چکے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت سرنکوٹ میں چھ مشینیں نصاب کی گئی جن میں سے صرف 2ہی صارفین کیلئے کارآمد ثابت ہو رہی ہیں ۔صارفین نے مانگ کرتے ہو ئے کہاکہ سرنکوٹ میں اے ٹی ایم مشینوں کو معیاری بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔