ایجنسیز
سیول//چین کے صدر شی پنگ پیر کے روز ایک نایاب سرکاری دورے پر شمالی کوریا پہنچ گئے۔ ماہرین کے مطابق اس دورے کا مقصد شمالی کوریا پر چین کے منفرد اثر و رسوخ کو دوبارہ مضبوط کرنا اور اس کے بدلے میں پیانگ یانگ کو اقتصادی و سیاسی فوائد فراہم کرنا ہے۔دو روزہ دورے کے دوران، جو گزشتہ سات برسوں میں شمالی کوریا کا ان کا پہلا دورہ ہے، شی جن پنگ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گزشتہ ستمبر کے بعد پہلی سربراہی ملاقات ہوگی، جب انہوں نے بیجنگ میں ایک فوجی پریڈ دیکھی تھی جس میں روسی صدر اور دیگر عالمی رہنما بھی شریک تھے۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق شی جن پنگ پیر کو پیانگ یانگ پہنچے۔ ان کے وفد میں ان کی اہلیہ پینگ لی یوان، وزیر خارجہ وانگ یی اور کمیونسٹ پارٹی کے سینئر رہنما کائی چی بھی شامل ہیں۔اگرچہ مذاکرات کا کوئی باضابطہ ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ چین اور شمالی کوریا دونوں امریکہ کے ساتھ الگ الگ محاذوں پر کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں۔سیول کی وو منزیونیورسٹی کے پروفیسر لیف ایرک ایزلی کے مطابق،’’چینی صدر صرف رسمی دورے کے لیے شمالی کوریا نہیں جاتے۔ شی جن پنگ کا یہ دورہ چین اور شمالی کوریا کے تعلقات پر حقیقی اثرات مرتب کرے گا۔‘‘شی جن پنگ کا یہ دورہ گزشتہ ماہ بیجنگ میں امریکی صدرار ولادیمیر پوتن کے ساتھ مسلسل سربراہی ملاقاتوں کے بعد ہو رہا ہے۔ توقع ہے کہ شی رواں سال ستمبر میں امریکہ کے دورے کے دوران دوبارہ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ماہرین کے مطابق شمالی کوریا پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر چین امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایک اضافی سفارتی کارڈ حاصل کرنا چاہتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹرمپ بارہا کم جونگ اْن کے ساتھ سفارت کاری بحال کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔چین طویل عرصے سے شمالی کوریا کا سب سے بڑا معاشی معاون اور سفارتی حامی رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے اکثر شمالی کوریا کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں پر مکمل عمل درآمد سے گریز کیا اور خفیہ امداد کے ذریعے اپنے غریب ہمسایہ ملک کی مدد جاری رکھی۔رواں سال دونوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کے 65 سال مکمل ہو رہے ہیں۔تاہم حالیہ برسوں میں تعلقات کے حوالے سے سوالات بھی اٹھے ہیں کیونکہ شمالی کوریا نے روس کے ساتھ تعاون کو ترجیح دی، یوکرین جنگ میں روس کی مدد کے لیے فوجی دستے اور اسلحہ فراہم کیا، جبکہ بدلے میں روس سے اقتصادی اور عسکری معاونت حاصل کی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ شمالی کوریا کو چاول، کھاد، سیاحتی سرگرمیوں کی بحالی اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی صورت میں امدادی پیکج پیش کر سکتے ہیں۔