لاپتہ شخص کی نعش جنگل سے برآمد
لواحقین کا قتل کا الزام ،تحقیقات کا مطالبہ
منیر خان
راجوری //درہال کے ڈھنہ چوکیاں علاقے سے دوروز قبل لاپتہ ہونے والے شخص کی نعش جنگل سے برآمد ہوئی ہے جبکہ لواحقین کا الزام ہے کہ اسے قتل کیاگیاہے ۔ 35سالہ گلزمان ملک ولد محمد اقبال ملک کی نعش پراسرار حالت میںجنگل سے برآمد ہوئی جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لیکرتحقیقات شروع کردی ہے ۔بتایاجاتاہے کہ یہ شخص چند روز قبل گھر سے لاپتہ ہوگیا تھا جس پر لواحقین نے پولیس کے پاس بھی شکایت درج کروائی تاہم اتوار کی صبح اس کی نعش نزدیکی جنگل سے برآمد ہوئی جسے پولیس نے اپنے قبضہ میں لیکر تحقیقات شروع کردی ۔ نعش کا پوسٹ مارٹم بھی کروایاگیاہے ۔ایس ایس پی راجوری یوگل منہا س نے بتایاکہ پوسٹ مارٹم کروایاگیاہے اور پولیس تحقیقات کررہی ہے ۔ایس ایچ او درہال نے کہاکہ تحقیقات کے بعد ہی پتہ چل پائے گااوراس بارے میںابھی سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔دریں اثناء نوجوان کے لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ اس کا قتل کیاگیاہے جس پر پولیس کارروائی کرے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے ۔ان کاکہناہے کہ اس معاملے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ سچائی سامنے آسکے ۔ذرائع کاکہناہے کہ گلزمان پر چند روز قبل کسی نے حملہ بھی کیاتھا۔
پہاڑی ریزرویشن کا خیر مقدم
مینڈھر//جا وید اقبال//لیبر یو نین کے صدر عبدالمجیدچوہد ری نے پہا ڑی طبقہ کوحکومت کی طرف سے تین فیصد ریزرویشن دینے کا خیر مقدم رکتے ہوئے ریا ستی وزیر اعلیٰ محبو بہ مفتی ، نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نر مل سنگھ اور سماجی بہبو د کے وزیر سجا د غنی لو ن کاشکریہ اد اکیاہے ۔اپنے ایک پریس بیان میں انہوںنے کہاکہ وہ ان تمام پہاڑی لیڈران کابھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوںنے اس جدوجہد میں حصہ لیا اور ریزرویشن دلانے میں اہم رول اداکیا ۔ان کاکہناتھاکہ ا س فیصلے سے پہاڑی طبقہ کی پہچان قائم ہوئی ہے اورطبقہ کو کسی حد تک انصاف ملاہے ۔ انہوںنے کہاکہ اب مرکزی حکومت کو پہاڑی طبقہ کو شیڈیول ٹرائب کادرجہ دیناچاہئے جو اس طبقہ کی دیرینہ مانگ ہے ۔انہوںنے تمام پہاڑی قوم کو مبارکباد پیش کی ہے ۔لیبر یو نین کے جنرل سیکر یٹری مشتاق فا نی، نائب صدر شیر محمد ، سفیر احمد خان ، حا جی محمد حنیف قریشی، شمیم احمد وغیرہ نے بھی اس فیصلہ کا خیر مقدم کیاہے ۔
۔’71سال بعد پہاڑی قوم کو شناخت ملی ‘
راجوری//منیر خان //پہاڑی زبان بولنے والوں کیلئے 3فیصد ریزر ویشن کے فیصلہ کی سراہنا کرتے ہوئے پہاڑی ایڈوائزری بورڈ کے ممبر دیوا راج شرما ،محمد ایوب پہلوان، شفیق راز، شیر باز، نصیب سنگھ،تاج ٹھاکراور بشارت راتھر نے کہاکہ 71سال بعد پہاڑی قوم کو شناخت ملی ہے ۔ کوٹرنکہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ وہ اس تاریخی فیصلہ کیلئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اورسماجی بہبود کے وزیر سجاد غنی لون کے علاوہ قانون و انصاف کے وزیر عبدالحق خان و پہاڑی لیڈران کے شکرگزار ہیں جنہوںنے اہم رول اد اکیا ۔انہوںنے کہاکہ 3 فیصد ریزرویشن سے شیڈول ٹرائب درجہ کے لئے کی جا رہی جدوجہد میں آسانی ہو گی اوراب مرکزی سرکار کو چاہئے کہ وہ پہاڑی بولنے والے پندرہ لاکھ عوام کی دیرینہ مانگ پوری کرتے ہوئے ایس ٹی کادرجہ دلائے ۔انہوںنے کہاکہ پہاڑی قوم کو ظلم کی چکی میں پساگیاہے اور اب وقت آگیاہے کہ اس کے ساتھ انصاف کیاجائے ۔
سپورٹس سٹیڈیم پونچھ کو شام لعل کے نام سے
منسوب کرنے کی مانگ
پونچھ//حسین محتشم // ہاکی کوچ شام لال شرما کے انتقال پر پونچھ کے لوگ ان کے لواحقین سے تعزیت پیش کررہے ہیں۔ اتوار کو مختلف قسم کے کھیل کود سے جڑے نوجوان کھلاڑیوں نے سپورٹس سٹیڈیم پونچھ سے ایک کینڈل مارچ نکالاجوپونچھ بازار سے صدر بازار تک گیا جس دوران نوجوانوں نے شام لال شرما کے حق میں نعرے بازی کی۔ نوجوانوں سمیت کئی کھیلوں کے کوچوں نے بھی اس ریلی میں شرکت کی ۔ انہوں نے حکومت سے گزارش کی کہ پونچھ سپورٹس سٹیڈیم کے نام کو شام لال شرما کے نام سے منسوب کیا جائے جنہوں نے پونچھ کے نام کو نہ صرف کھیل کے میدان میں بلکہ ہر میدان میں ملک بھر میں روشن کیا ۔ واضح رہے کہ شام لال شرما 5فروری کو راجوری میں گاڑی حادثہ میں انتقال کر گئے تھے۔
پونچھ میں محکمہ لیبر کے خلاف احتجاج
پونچھ//حسین محتشم // لیبر سرائے کی دیوار اکھاڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پونچھ کے مزدوروں نے محکمہ لیبر کے خلاف احتجاج کیا ۔ مزدوروں نے الزام لگایا کہ ان کیلئے بتایا گیا ہال اکھاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے جسے وہ کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریںگے ۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایاکہ مزدوروں کو حراساں کیا جارہا ہے جبکہ یہاں متعلقہ محکمہ کا دفتر نہیں بلکہ یہ لیبر سرائے ہے۔ اس دوران اسسٹنٹ لیبر کمشنر زحمود احمد موقعہ پر پہنچے اور بتایاکہ مزدور سرائے کو منہدم نہیں کیاجارہا بلکہ بیت الخلاء بناکر اس علاقہ کو صاف و ستھرا بنا نے کا منصوبہ ہے اور مزدوروں کو اندر کا ایک ہال دیا جائے گا۔ اسسٹنٹ لیبر کمشنر کی وضاحت کے بعد مزدوروں نے احتجاج ختم کیا۔
سماج سیوا سوسائٹی کا احتجاجی مظاہرہ
پونچھ//حسین محتشم // سماج سیوا سوسائٹی کی جانب سے پونچھ میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران پاکستان، آئی ایس آئی، نیشنل کانفرنس اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ پرانی پونچھ چوک میں چند لوگوںنے جمع ہوکر نعرے بازی کی اور کہا کہ پاکستان ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہاہے اور دہشت گردانہ واقعات انجام دیئے جارہے ہیں اس لئے اس کے ساتھ تعلقات منقطع کئے جائیں ۔ امت گپتا نامی شخص نے کہاکہ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی اکبر لون ایوان میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہے ہیں اور حکومت خاموش بیٹھی ہوئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ پارٹی کو ممبراسمبلی کی رکنیت ختم کرنی چاہئے ۔سوسائٹی کے صدر جوگل کشور نے کہاکہ وزیر اعظم چار سال سے بیرون ملک کے دورے کررہے ہیں جنہیں اندرونی حالات پر توجہ دینی چاہئے ۔
ریزرویشن کی بنیاد پر ترقی عائد پابندی ہٹانے کا مطالبہ
کوٹرنکہ // وزیر برائے خوراک ،شہری رسدات وامور صارفین چوہدری ذوالفقار علی سے ایک وفد نے ملاقات کرکے مانگ کی کہ ریزرویشن کی بنیاد پر ترقی پر لگی پابندی ہٹائی جائے ۔وفد کی قیادت مشتاق پسوال کررہے تھے جنہوںنے کہاکہ اگر ریزرویشن کی بنیاد پر ترقی نہیں ملے گی تو مزید نوجوانوں کو روزگارنہیں ملے گا اس لئے اس پر عائد پابندی ختم کی جائے ۔ انہوںنے کہاکہ خالی پڑی اسامیوں کو پُر کیاجائے اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیداکئے جائیں ۔ذوالفقار نے وفد کو یقین دلایاکہ حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرے گی اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیںگے ۔وفد میں دلشاد احمد بھی شامل تھے ۔
سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار
طلباء کی تعلیم بری طرح سے متاثر :ڈاکٹر شہزاد
جاوید اقبال
مینڈھر//سرحدی کشیدگی پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سائیں ناتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد ملک نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس سلسلے پر روک لگاکر بات چیت کاراستہ اختیار کیاجائے تاکہ سرحدی مکینوں کو آرام سے زندگی بسر کرنے کا موقعہ مل سکے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقہ کے نزدیک رہ رہے طلباء کیء پڑھائی کا خیال رکھاجائے اور انہیں اس جنگ میں نہ دھکیلا جائے ۔انہوںنے کہاکہ مسلسل فائرنگ اور گولہ باری سے بچوں کی پڑھائی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے لیکن حکومت اس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہی ۔ ان کا کہنا تھا کہ خطہ پیر پنجال کے سرحدی علاقوں کے سکول بند پڑے ہیں اورفائرنگ و گولہ باری کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہااور نہ ہی دونوں حکومتیں بات چیت کیلئے سنجیدہ ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ سرکار کو فوری طور پرسرحدی علاقہ میں پر امن جگہ پر ہوسٹل تعمیرکرنے چاہئے جہاں طلباء اپنی تعلیم جاری رکھ سکیںنہیں تو ان کا مستقبل تباہ ہوجائے گا۔ان کاکہناہے کہ امتحانا ت سر پر ہیں اور طلباء کی پڑھائی مکمل نہیں ہوپائی جس کا ان کے مستقبل پر خطرناک اثر پڑے گا۔
انجم کا آبائی گائوں پہنچنے پر والہانہ استقبال
بختیار حسین
سرنکوٹ // حالیہ کے اے ایس امتحان میں اول مقام حاصل کرنے والے انجم بشیر کھٹک اپنے آبائی گاؤں موہڑہ بچھائی پہنچے جہاں لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور ان کے اعزاز میں ایک تقریب بھی منعقد کی ۔اس موقعہ پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ انجم نے سرنکوٹ کا نام روشن کیاہے اور اس علاقے کیلئے باعث فخر ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ نوجوانوں کو ان سے تحریک لینی چاہئے اور مسابقتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرناچاہئے ۔ اپنے خطاب میں انجم نے کہاکہ ان کی کامیابی کا سہرا سرنکوٹ اور خاص کر موہڑہ بچھائی کے لوگوں کے سر جاتاہے جنہوںنے ان کی خاطر دعائیں کیں۔انہوںنے کہاکہ ضلع پونچھ کے نوجوان صلاحیتوںسے مالامال ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کا صحیح استعمال کریں ۔انہوںنے کہاکہ نوجوانوں کو سماجی برائیوں میں شریک ہونے کے بجائے ان کے خاتمے کیلئے کام کرناچاہئے ۔تقریب میں تحصیلدار سرنکوٹ روہت شرما،ایس ایچ او سرنکوٹ انظر میر وغیرہ بھی موجو دتھے۔
ریزرویشن کافیصلہ سنگ میل ثابت ہوگا:پہاڑی ایکشن فورم
جاوید اقبال
مینڈھر//پہاڑی ایکشن فورم مینڈھر نے پہاڑی زبان بولنے والوں کو تین فیصد ریزرویشن دینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی فیصلہ قرار دیا۔ فورم کے صدر ایڈووکیٹ شوکت چوہدری،جنرل سکریٹری محمد اعظم فانی و دیگر ارکان حاجی خورشید میر،حاجی صدیق میر،ماسٹر عنایت اللہ خان ،گل صید خان، حاجی محمد صادق خان، خورشید احمد،محمد معروف مغل نے کہاکہ کا بینہ سے منظوری کے بعد قانون ساز اسمبلی سے بھی بل کا پاس ہونا تاریخی فیصلہ ہے اور اگرچہ اس سے پہاڑی عوام کی مجموعی ترقی نہیں ہو سکے گی لیکن یہ اقدام ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہاڑی قوم کی شناخت قائم ہو گئی ہے جس کے لئے کئی دہائیوں تک جدوجہد کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پہاڑی طبقہ کے ساتھ ہمیشہ زیادتی ہوتی رہی کیونکہ مرکزی اور ریاستی سرکار نے بھی بار بار یقین دہانیاں دینے کے باوجود شیڈیول ٹرائب کا درجہ التوا میں رکھا تاہم اب بیکورڈ کمیشن کی طرف سے طبقے کی سماجی واقصادی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس کے لئے ریزرویشن کی سفارش ،ریاستی کابینہ سے منظوری اور پھرقانون ساز اسمبلی سے بل پاس کئے جانے کے بعد اب مرکز کے پاس کوئی جواز باقی نہیں رہنا چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ شیڈیول ٹرائب کا درجہ بہت جلد مل جائے گا جو پہاڑ ی قوم کا اصل ہدف ہے۔انہوں نے ریاست کی لاکھوں پہاڑی عوام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آگے چل کر سنگ میل ثابت ہو گا۔انہوں نے ریاستی حکومت پر زور دیاکہ وہ مرکز سے معاملہ اٹھاکر طبقہ کو ایس ٹی درجہ دلائے جس کا اس نے وعدہ بھی کیاہے۔
مرکزی جامع مسجد منڈی میں سنی یوتھ کا اجلاس
عشرت بٹ
منڈی//سنی یوتھ ونگ شاخ منڈی کی طرف سے مرکزی جامع مسجد منڈی میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت تنظیم کے صوبائی صدر اعجاز احمد مدنی نے کی۔ اس موقعہ پر کئی امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اپنے خطاب میں مدنی نے کہا کہ موجودہ دور مسلم نوجوانوں کے لئے سب سے بڑی آزمائش کا دور ہے اس لئے ایسے ماحول میں نوجوانوں کو اخلاص کے ساتھ سیرت نبوی ؐپر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے مسلم نوجوانوں کو چاروں طرف سے گھیر نے کے لئے محاذ کھول رکھے ہیں لیکن انہیں چاک و چوبند رہنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اورطاغوطی طاقتوں کے خلاف ہر طرح سے مقابلہ کیلئے تیار رہیں۔ان کاکہناتھا کہ مسلم دشمن قوتیں نوجوانوں کو منشیات کے ذریعہ تباہی کی طرف لے جانے کیلئے کوشاں ہیں جس سے دور رہنے کی کوشش کی جائے ۔تنظیم کے تحصیل صدر عبدالغنی پٹھان نے کہا کہ حکومت عوام کے ووٹ سے بنتی ہے اوراس کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانا بھی عوام کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں اور اپنے حق کی خاطر آواز اٹھانا ان کا آئینی حق ہے ۔انہوںنے کہاکہ موجودہ دو رکے سیاسی رہنما اس تاک میں رہتے ہیں کہ کب کہیں کوئی دہشت گردانہ حملہ ہوجائے تو وہ مسلمانوں کے خلاف اپنا زہر اگل سکیں ۔اس موقعہ پر تحصیل نائب صدر تسنیم احمد ہمدانی نے بھی خطاب کیا اور منشیات کے خاتمے پر زور دیا۔اجلاس میں حاجی فاروق مدنی، عادل ہمدانی، محمد دین ،نیاز گنائی، عدنان غفور، فاروق احمد لون اور محمد طارق خان بھی موجو دتھے۔
تھنہ منڈی میں لوک عدالت کا اہتمام
۔ 205 مقدمات کا نپٹارا،25ہزارروپے جرمانہ وصول
طارق شال
تھنہ منڈی // قومی لوک عدالت پر احاطہ منصف کورٹ تھنہ منڈی میں لوک عدالت کا اہتمام کیا گیا جس میں 205 مقدمات کو موقعہ پر افہام و تفہیم سے حل کیاگیا جبکہ 25500 روپے بطورجرمانہ وصول کیاگیا۔ چیئرمین تحصیل لیگل تھنہ منڈی و منصف راجہ منظور احمد خان نے لوک عدالت کے دوران تحصیل تھنہ منڈی کے دور دراز علاقوں سے آئے لوگوں پر زور دیاکہ وہ اپنے مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے معاملات کا جلد سے جلد حل کیاجاسکتاہے اور اس پر کوئی خرچہ بھی نہیں آتا۔انہوں نے عوام پر واضح کیاکہ اس طرح سے ایسے لوگوں کو جلد معاملات سے باہر نکالاجاسکتاہے جنہیں بے گناہ طور پر الجھایاہوتاہے ۔اس موقعہ پر ایڈووکیٹ ساجد قیوم شال ،ایڈووکیٹ ظہوراحمد، ایڈووکیٹ میرباز چوہدری، ایڈووکیٹ قمر زمان، ایڈووکیٹ شاہین اعجاز بھٹی،ایڈووکیٹ نوید انجم شال،ایڈووکیٹ ارشد سمیال، ایڈووکیٹ بابر مرزا،ایڈووکیٹ محمد رزاق بھی موجو دتھے ۔مقامی لوگوںنے لوک عدالت کے انعقاد کی سراہنا کی ہے ۔
پونچھ میںیک روزہ گوجری کانفرنس کا انعقاد
سیاسی ریزرویشن،بین ضلعی بھرتی اور ریزرویشن ان پرموشن کا مطالبہ
پونچھ//پونچھ میں آل جموں کشمیر گجر بکروال کانفرنس کی جانب سے یک روزہ گوجری کانفرنس کا انعقاد کیا گیاجس میں گوجر بکروال ایمپلائز ایسو سی ایشن اور گوجر بکروال یوتھ ایسو سی ایشن نے بھی شرکت کی ۔حاجی محمد یوسف مجنو کی صدارت میں منعقدہ اس کانفرنس میںیہ فیصلہ لیاگیاکہ تمام اضلاع میں ایسے پروگرام منعقد کرکے حکومت پر سیاسی ریزرویشن کیلئے دبائو بڑھایاجائے گا۔اپنے خطاب میں حاجی یوسف مجنو نے کہا کہ سیاسی ریزرویشن طبقہ کا حق ہے اور یہ اس طبقہ کو مل کر رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ عام لوگ اس معاملہ پر تحریک چلائیں اور تنظیم کا ساتھ دیں۔انہوںنے کہاکہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی اس مدعے پر بات کریں اور ساتھ ہی بین ضلع بھرتی و ریزرویشن کی بنیاد پر ترقی پر عائد پابندی کو بھی ختم کروایاجائے ۔تنظیم کے جنرل سیکریٹری یٰسین پسوال نے فارسٹ ایکٹ کو لاگو کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ جب ملک کی دیگر ریاستوں میں یہ ایکٹ لاگو ہے تو یہاں کیوں نہیںکیاجارہا۔سلام دین بجاڑ نے گوجری زبان کو آٹھویں شیڈیول میں شامل کرنے کی مانگ کی جبکہ ذاکر چوہدری اور غلام رسول چوہدری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔مولانا علی نے گوجر ریجمنٹ کی مانگ کی جبکہ صوبائی صدر چوہدری اسلم گورسی نے صوبہ میں گوجر بکروال طبقہ کو ہراس کئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک منظم سازش قرار دیا۔اپنے خطاب میںگوجر بکروال ایمپلائز ایسو سی ایشن کے صدر چوہدری محمد اسد نعمانی نے ریزرویشن ان پرموشن اور بین ضلع بھرتی پر عائد پابندی ہٹانے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ جموں کے گوجر قبیلہ کو ہراساں نہ کیاجائے ۔کانفرنس میںسرپنچ بشیر بجران،سرپنچ خادم حسین،اے ای ای حنیف چوہدری،مولانا آزاد چوہان،ایڈووکیٹ سجاد احمد،محمد فاروق خلیفہ،عباس چوہدری،سلیم کھاری،ریٹائرڈ بی ڈی او محمد صدیق چوہان،رزاق گلشن،کوثر نیازی،طارق محمود کوہلی،محمد طارق،عثمان چوہدری،محمد یونس وغیرہ بھی موجو دتھے ۔اس دوران مقدم عزیز اور لیکچرار رفیق نے گوجر قوم کے مسائل پر نظم پیش کی۔کانفرنس میں نظامت کے فرائض گوجر بکروال ایمپلائز ایسو سی ایشن کے چیئرمین حاجی فاروق دیدڑ اور نائب صدر لال حسین تیڑوا نے انجام دیئے۔