ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ بڑھانے کامطالبہ
مقامی لوگوں نے جائزمانگ پوری کرنے کی استدعاکی
جموں//ریاسی کے گائوں کنڈرہ کے ہائی سکول کادرجہ ہائرسکینڈری کرنے کی مانگ کولے کرمقامی لوگوں اورسکول کے بچوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس دوران مظاہرین نے کہاکہ جب تک ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ نہیں بڑھایاجائے گاتب تک عوام اپنی جدوجہدجاری رکھے گی۔انہوں نے کہاکہ کنڈرہ سکول سے منسلک چارپنچایتوں کے لوگوں نے متعلقہ حکام کوپہلے ہی کئی بارمطلع کیاہے کہ یہ عوام کی جائزمانگ ہے لیکن اس پرحکام کوئی توجہ نہیں دے رہاہے جس کی وجہ سے کنڈرہ ،ڈیرہ بابابندہ ،وغیرہ پنچایتوں کے لوگوں حکام سے مایوس ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ آخرکب تک ظلم سہتے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے بچوں کوہرروزتیس کلومیٹرکاسفرکرکے ریاسی ہائرسکینڈری سکول جاناپڑتاہے جوکہ غریب عوام کیلئے پریشانی کاباعث ہے۔انہوں نے کہاکہ بچوں کاکافی ساراوقت سکول آنے جانے میں ضائع ہوجاتاہے جس کی وجہ سے ان کی تعلیم بری طرح متاثرہوتی ہے اوران کامستقبل دائوپرلگ جاتاہے۔ لوگوں نے کہاکہ یہاں پرلیڈرانتخابات کے دوران ہی آتے ہیں اورووٹ حاصل کرکے دوبارہ نہیں آتے جس کی وجہ سے عوام کے مسائل اورجائزمانگیں جوں کی توں ہی پڑی رہتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ بڑھاناعوام کی جائزمانگ ہے جس کوحکومت کوبلاتاخیرپوراکرناچاہیئے۔ لوگوں نے ریاستی حکومت اورمتعلقہ حکام سے پرزورمانگ کی ہے کہ ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ بڑھاکرہائرسکینڈری کیاجائے تاکہ علاقہ کے بچوں کی تعلیم متاثرنہ ہواوروہ دسویں کے بعدکی اعلیٰ تعلیم جاری رکھ سکیں۔
ویٹرنری ڈاکٹروں کی کمی پوری کی جائے
شائننگ سٹارسوسائٹی کاحکومت سے پرزورمطالبہ
جموں/شائننگ سٹارسوسائٹی جموں نامی غیرسرکاری تنظیم نے وزیر برائے پشوپالن وخزانہ سے محکمہ پشوپالن میں ویٹرنری ڈاکٹروں کی کمی کوپوراکرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کامطالبہ کیاہے۔یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق تنظیم کے صدر محمدعارف نے کہاہے کہ جموں وکشمیرمیں حالات نافتہ بہہ ہونے کے باوجود بے بس ومجبور کھیتی باڑی ،مال مویشی ،باغبانی پیشہ سے جڑے ہوئے لوگ گوناگوں مشکلات میں بھی اپنے طرز پر روزگارنہ ہونے کے سبب گزربسرکررہے ہیں۔آج سائنسی دورمیں ذی ہوش اور دانشور طبقہ سائنس اورٹیکنالوجی کی باتیں کررہے ہیں۔محمدعارف نے کہاہے ہمارے رہنمابھی بنک کھاتوں میں رقم جمع کرنے میں مصروف ہیں لیکن کیا ٰیہ سچ نہیں ہے کہ ہوائی سفراچھی سڑک اچھی تعلیم بڑے ہسپتال وغیرہ انسان اورانسانیت میں محنت کش کسان ، زمینداری مال مویشی پیشہ سے جڑے ہوئے کامقابلہ کرسکتے ہیں۔اگریہ محنت کش طبقہ زمین کی آبیاری کرناچھوڑدے، مالدار مال پالناچھوڑ دے توسب کوجان کے لالے پڑجائیں گے جن کے چولہے بجھ گئے ہیں جن کے پیٹ جل رہے ہیں۔ان کے لئے حکومت تماشائی بنے ہوئے ہیں۔کروڑوں کی مالیت میں شہروں میں فلائی اورو بچوں کوبہترین تعلیمی سہولیات اور دوردرازعلاقہ جات جن میں بنی بسوہلی، ڈوڈو بسنت گڑھ، کرناہ، گریز ، زانسکار ، مڑواہ، ناگسینی ، دچھن، پاڈرمڑواہ ، واڑون، اندرواہ ، بجواہ سروڑ، ٹاپ نیل ، بانہال ،دیسہ ،بھرت ، راجوری پونچھ کے پسماندہ مالدار زمیندار خاص کر گدی بکروال جو حکومت سے بجلی پانی، سکول، مکان، سڑک کچھ نہیں مانگتے مگرریاست کے لوگوں کیلئے دودھ، گوشت ، اشیاء خوردنی پیداکرتے ہیں ان کے لئے ان کاحق کہاں غائب ہوگیاہے ۔کیایہ صرف ووٹ بنک ہے۔ ملہ گذشتہ حکومت کاہویا موجودہ حکومت کا حال ایک جیساہے ۔ مثال کے طورپر مالدار لوگ اچھے ڈاکٹرڈھونڈتے ہیں ۔حکومت ہندنے سال 2010 میں 845 ڈاکٹرپشوپالن 1100 ویٹرنری فارمسٹ کی منظوری دی لیکن آج کے دورمیں ایڈمنسٹریٹیو یونٹ کوترجیح دی ہے لیکن ان مالداروں کیلئے ویٹرنری ڈاکٹرنداردہیں۔محکمہ جات میں آفیسران صرف اپنی اپنی کرسیوں کی پہرہ داری میں کوئی سکیم ہی نہیں بناتے مالدارگدی بکروالوں کا روزگارپہاڑوں ،چراگاہوں میں محکمہ جنگلات کی بے وجہ ستم ظریفی سب اس مالدار پرہی ڈھائی جاتی ہے ۔شائننگ سٹارسوسائٹی کے صدرنے مزید کہاکہ سیکرٹریٹ کے عالی شان دفترمیں بیٹھنے والے افسران اوروزراء غریب مزدورکی مجبوری ، اسکی محنت پرکیسے دھاوابولاجائے اسی تاک میں رہتے ہیں۔قصہ کرسی کا۔ خدانے اگرقلم کی طاقت دی ہے توغریب پروری میں اپنارول نبھائیں۔اب کی بار محکمہ پشوپالن بوساطت محکمہ جنگلات بشمول محکمہ مال ومحکمہ خزانہ کے وزراء سے امیدکی جاسکتی ہے کہ وہ غریب دیہاتی محنت کش مالدار لوگوں کے مال کی حفاظت کیلئے ویٹرنری ڈاکٹروں کی آسامیاں ، ویٹرنری فارمیسٹ کی تعیناتی اوردیگرادویات فراہم کرکے اس پچھڑے طبقہ کی دستگیری کریں ۔وقت کی ضرورت ہے جہاں ہمارے وزرا خاص کر وزیر خزانہ ایک ماہر اقتصادیات کی صنف میں اپنی مثال آپ ہیںترجیحی بنیادوں پرمحکمہ پشوپالن کی دیرینہ مانگ جومعقول بھی ہے اس کوعملی جامہ پہنائیں کیونکہ وقت بے رحم ہے کل تیرانہ میراہوگا ۔ اس ضمن میں شائننگ سٹارسوسائٹی نے محکومت وقت سے پرزور اپیل کی ہے کہ محکمہ پشوپالن میں فی 700 جانوروں پرکم از کم ایک ڈاکٹر اوردوفارمیسٹ نئی اسامیاں وجودمیں لاکران پرعملہ کوتعینات کریں تاکہ مال مویشی ،بھیڑبکریوں کی تعداد اوربہترین نسل کی افزائش ممکن ہوسکے۔
صوبائی کمشنرنے ادہم پورمیں ترقیاتی کاموں کاجائزہ لیا
ادہم پور//صوبائی کمشنرجموں ہیمنت کمارنے ادہم پورمیں ضلع افسران کے ساتھ ایک میٹنگ منعقدکرکے جاری ترقیاتی کاموں کاجائزہ لیا۔اس دوران میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنررویندرکمار ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکرشن لال، پی اوآئی سی ڈی ایس رمپی اوہری، اسسٹنٹ کمشنرریونیوسبھاش ڈوگرہ، اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ نورعالم ، اے ایس پی فیصل قریشی، ایگزیکٹیوانجینئر پی ایچ ای ،پی ڈبلیوڈی ،آراینڈبی ودیگرآفسران موجودتھے۔اس دوران صوبائی کمشنرکو نیشنل ریورکنزرویشن پلان کے تحت متبرک دیویکاپروجیکٹ ، سپورٹس سٹیڈیم ،نیشنل ہائی وے کی فورلیننگ ادہم پورتاچہنینی ، پالی ٹیکنک کالج جکھار، ٹرانسپورٹ یارڈکے قیام ، ویرہائوس ،نبارڈکے تحت کینتھ گلی بماگ روڈکی بلیک ٹاپنگ ،ٹولڈی نالہ پل سے سڑک کی تعمیروغیرہ پروجیکٹوں کے کام کی پیش رفت کے بارے میں جانکاری دی گئی۔اس موقعہ پر صوبائی کمشنرنے متعلقہ تعمیراتی ایجنسیوں کوکام میںسرعت لانے اور کاموں کووقت مقررہ کے اندرمکمل کرنے کی ہدایت دی۔اس دوران انتظامیہ کوہدایات دی گئیں کہ لوگوں کوبجلی ،پانی ودیگربنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ لوگوں کی مشکلات دورہوسکیں۔
آرین گروپ آف کالجزمیں ڈپلومااِن اگریکلچرمتعارف
جموں//آرین گروپ آف کالجز راج پورہ نے نئے اکیڈمک سال 2018-19 کے لیے ڈپلومااِن اگریکلچرکورس شروع کرنے کااعلان کیاہے۔یہ نیاکورس پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ کے ساتھ منسلک ہوگااوراس کیلئے 50سیٹیں آرینز کالج کوالاٹ کی گئی ہیں۔ دسویں جماعت کاامتحان تسلیم شدہ بورڈسے پاس کرنے کے بعد طالب علم یہ کورس کرسکتے ہیں۔ ایس سی /ایس ٹی /اوبی سی طلباء سکالرشپ بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔خواہشمندطلباء 098762-99888 or 98765-99888 یا ۔aryans.edu.inپروزٹ کرکے بھی مزیدتفصیلات حاصل کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر انشوکٹاریہ ،چیئرمین آرینز گروپ کاکہناہے کہ زراعت کے شعبے میں مانگ کی کی بناء پر یہ کورس شروع کیاجارہاہے اورریجن میں اس کورس کیلئے پہلی منظوری ملی ہے۔پروفیسربی ایس سدھو ،ڈائریکٹرآرین گروپ نے کہاکہ ہمارے پاس پہلے سے چارسالہ پروگرام اِن اگریکلچرچل رہاہے یعنی بی ایس اِن اگریکلچر جن میں چندی گڑھ،پنجاب،ہریانہ ،نارتھ ایسٹ کے طلباء زیرتعلیم ہیں۔
ایس ایس اے ٹیچروں کی مانگیں پوری کی جائیں:لوپیڈایمپلائزفیڈریشن
جموں //لو پیڈایمپلایز فیڈریشن کے صدر عبدالمجید خان نے ایس ایس اے اور رمسا کے تحت تعینات شدہ اساتذہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکار کو فوری طور پر ان ملازمین کے جائزمطالبات کو پورا کرنے چاہیئں۔یہاں جاری پریس بیان کے مطابق عبدالمجیدخان نے کہا کہ حال ہی میں ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ان کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی تنخواہوں کے لئے فنڈ دستیاب ہو چکے ہے اور جلد از جلد ان اساتذہ کو تنخواہیں وا گزار کی جائیں گی جس کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے اور ان اساتذہ کے باقی مسائل بھی زیر غور لائے جائے گے۔عبدالمجید خان نے مزید کہا کہ سرکار کو نئی پنشن سکیم کے تحت لگائے گئے ملازمین کی طرف بھی توجہ دینی چاہیئے جن کو تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہیں حالا نکہ ان محکموں کے پاس گرانٹ بھی موجود ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ آنگن واڑی ملازمین اورپٹواریوں کے مطالبات بھی فوری طور پر پورے کئے جانے چاہئے اور ان کے ساتھ ساتھ ڈیلی ویجروں کو بھی ان کی اجرتیں دی جانی چاہیئے کیوں کہ آج کے اس مہنگائی والے دور میں یہ طبقہ کافی پریشان ہے۔
نٹراج ناٹیہ کنج کے زیراہتمام تھیٹرورکشاپ کاآغاز
جموں // نٹراج ناٹیہ کنج کلچرل سوسائٹی جموںنے رنگلوک سٹیڈیو بخشی نگر میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا ۔ یہ تھیٹر ورکشاپ ایک مہینہ تک چلے گا۔یہ ورکشاپ ریاستی کلچرل اکاڈمی کی مدد سے منعقد کیا جا رہا ہے۔اس ورکشاپ کا مقصد ڈوگری کلچر کو قایم رکھنا ہے ۔ ورکشاپ کے ابتدائی مرحلے میں ملک کے بہت سارے ماہرین نے شمولیت کی ۔ اس دوران انہوں نے ریاست کے نوجوان کلا کاروں اور مختلف اسکولوں سے آئے ہوئے بچوں سے خطاب کیا۔انڈین تھیٹر سے وابستہ ادیتیا بھارتی ورکشاپ کے تجویز نگار تھے انہوں نے حاضرین سے کہا کہ ایسے ورکشاپ کی وجہ سے نئے کلاکاروں کے لئے ایک پلیٹ فارم تیار ہوگا اور نوجوان طبقہ میں اعتماد پیدا ہوگا۔نٹراج ناٹیہ کنج تھیٹر کے صدر کمار نے کہا کہ تھیٹر گروپ اس طرح کے ورکشاپ اس لئے منعقد کرتا ہے تاکہ سماج میں رہنے والے چھوٹے اور بڑے سب اپنے کلچر کے بارے میں کچھ سیکھے۔اس دوران ابھی شیخ بھارتی نے بھی حاضرین کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور انہیں اپنی مہارت کے بارے میں بھی بتایا ۔اس دوران گروپ صلاح کار رنجندر تھاپا نے حاضرین کو یاد دلایا کہ اس ورکشاپ کے تحت نوجوانون کو کہانی مربوط کرنے کے ساتھ ساتھ ناچ گانا اور دوسری ٹکنیک بھی سکھائی جائیں گی اور ورکشاپ کے اختتام پر طلاب کو سند سے نوازہ جائے گا۔
جوڑیاں میں پیڈی ڈرم سیڈرسے متعلق بیداری پروگرام
جموں //جوڑیاں میں محکمہ زرات نے کسان ایڈوائزری بورڈکے وائس چیر مین دلجیت سنگھ چب کی موجودگی میںکسانوں کو پیڈی ڈرم سیڈر کے بارے میں جانکاری دی۔ موقع پر موجود دلجییت سنگھ چب نے محکمہ کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرکزی سرکار کا ہدف ہے کہ وہ کسانوں کی موجودہ آمدنی 2022تک دوگنی چاہتے ہیںاور مرکزی سرکار چاہتی ہے کہ ہمارے کسان کھیتی باڑی کے لئے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرے۔ انہوں نے کہا پیڈیڈرم سیڈر کی وجہ سے کسانوں کا وقت بھی بچے گیا اور پھسل پر کم سے کم اجرت لگے گی۔اس دوران اگریکلچر اکسٹنشن آفیسر ارن جرال نے کسانوں کو پیڈی ڈرم سیڈر کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اس کی مدد سے پھسل کم سے کم 7روز پہلے ہی تیار ہوگی اور محنت اور پانی کی بھی بہت کم ضرورت پڑے گی۔اس دوران علاقہ کے متعدد کسانوں نے پیڈے ڈرم سیڈر کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔
جے ڈی اے ملازمین کوجون سے
ساتویں تنخواہ کمیشن کے مطابق تنخواہیں ملیں گی:ست شرما
جموں//احتجاج کررہے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین کورواں ماہ یعنی جون سے تنخواہیں ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کے مطابق ملیں گی۔وزیربرائے مکانات وشہری ترقیاتی ست شرمانے گذشتہ 18دنوں سے احتجاج کررہے جے ڈی اے ملازمین سے خطاب کیا۔وزیرموصوف نے کہاکہ جے ڈی اے ملازمین کوساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کے مطابق تنخواہیں جون مہینے سے ملیں گی۔انہوں نے کہاکہ ملازمین کوکسی پروپیگنڈہ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ لیبرڈیپارٹمنٹ کی نوٹیکفیشن کے مطابق روزانہ اجرت کے نرخ طے ہوں گے اوراس معاملہ کوجلدہی متعلقہ محکمے کے ساتھ زیربحث لایاجائے گا۔قابل ذکرہے کہ جے ڈی اے ملازمین وائس چیئرمین جے ڈی اے کوتنخواہیں واگذارنہ کرنے کیلئے ذمہ دارٹھہرارہے تھے۔