اردو یونیورسٹی میں پالی ٹیکنیک کی کونسلنگ 26 اور 27 ؍ جون کو اہتمام
حیدرآباد//مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میںداخلوں کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں پالی ٹیکنیک کے لیے پہلے رینک سے 768 تک کونسلنگ 26؍ جون 2018 کو صبح 8 بجے سے حیدرآباد، دربھنگہ، بنگلورو، کڑپہ اور کٹک میں ہوگی۔ مابقی تمام رینکس کے لیے 27؍ جون کو کونسلنگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ پروفیسر پی فضل الرحمن ، ڈائرکٹر، نظامت داخلہ نے بتایا کہ امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہمراہ تنقیح کے لیے اصل اسناد کے ساتھ دو عدد نقول کے سیٹ ساتھ لائیں۔ کونسلنگ میں منتخب ہونے والے طلبہ کو اسی وقت فیس ادا کرنی ہوگی۔ حیدرآباد میں لڑکوں کے لیے 2750 روپئے اور لڑکیوں کے لیے 1150 روپئے فیس بذریعہ آن لائن بینکنگ یا کریڈٹ، ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ ادا کرنی ہو گی۔ دیگر پالی ٹیکنیک کالجس کے لیے لڑکوں کے لیے 2550 روپئے اور لڑکیوں کے لیے 950 فیس ہوگی۔ رینک کی فہرست و دیگر تفصیلات یونیورسٹی ویب سائٹ www.manuu.ac.in سے یا حیدرآباد میں داخلے کے خواہشمند طلبہ فون نمبر 040-23008413، دربھنگہ (بہار) 06272-210053، بنگلورو 080-23181062 ، کڑپہ 8374116768 اور کٹک (اڈیشہ) کے طلبہ 9868521777 سے تفصیلات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی، پی ایچ ڈی پروگرامس میں داخلے کے لیے ایسے امیدوار جنہوں نے آن لائن فارم داخل کیا ہو اور یوجی سی / سی ایس آئی آر جے آر ایف/ نیٹ / سلیٹ یا GATE کامیاب یا متعلقہ مضمون میں ایم فل کی تکمیل کی ہو کے لیے راست انٹرویو کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ انٹرویو 14 تا 18؍ جولائی کو منعقد ہوں گے۔ امیدواروں کی فہرست یونیورسٹی ویب سائٹ پر جاری کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن داخلہ فارم میں تصحیح یا تبدیلی کی سہولت 5؍ جولائی تک فراہم کی گئی ہے۔ درخواست گزار میرٹ کی اساس کے کورسز کے لیے حالیہ عرصہ میں حاصل کردہ نشانات کو بھی پہلے سے داخل کردہ فارم میں درج کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بی ایڈ / ایم ایڈ (ریگولر) طلبہ اپنے کونسلنگ مراکز میں تبدیلی بھی کرسکتے ہیں۔
ریاسی کے مرادعلی کھٹانہ کی وفات پر
قاری علی اکبرقادری کالواحقین کے ساتھ اظہارافسوس
جموں//جامعہ اسلامیہ غوثیہ اسمٰعیل آبادرانجن جموںکے مہتمم قاری علی اکبرقادری نے ریاسی ضلع کی معروف سماجی شخصیت چوہدری مرادعلی کھٹانہ کی وفات پرگہرے رنج ودُکھ کااظہارکیاہے۔ یہاں جاری تعزیتی پیغام میں جامعہ اسلامیہ غوثیہ اسمٰعیل آبادرانجن جموںکے مہتمم قاری علی اکبرقادری نے کہاکہ چوہدری مرادعلی کھٹانہ نہ صرف ریاسی ضلع بلکہ پورے صوبہ جموں کی معروف شخصیت تھے اوران کے انتقال سے سماجی حلقوں میں جوخلاپیداہواہے اس کاپُرہوناممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرادعلی کھٹانہ نے مختلف پلیٹ فارموں سے خدمت خلق کے فریضہ کوبحسن خوبی انجام دیااورسماج میں اپنی منفردشناخت قائم کی۔ انہوں نے کہاکہ موصوف بین مذاہب بھائی چارے کے حامی تھے اورسماج میں پھیلے انتشار،برائیوں کے خاتمے کے خواہاں تھے۔انہوں نے کہاکہ مرادعلی کھٹانہ قاری عبدالنبی قادری ؒ رانجن والے کے ساتھ مل کردین کی خدمت اورسماج کی رہنمائی کیلئے بھی پیش پیش رہتے تھے۔قاری علی اکبرقادری نے کہاکہ چوہدری مرادعلی کی وفات سے ریاسی ضلع سماجی طورپریتیم ہوگیاہے ۔انہوں نے موصوف کوایک نیک سیرت اورخدمت خلق سے سرشارانسان دوست شخصیت قراردیتے ہوئے مرحوم کے لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی کااظہارکیااور مرحوم کیلئے اللہ تعالیٰ سے دُعائے مغفرت فرمائی۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہم دُکھ کی گھڑی میں لواحقین کے غم میں برابرکے شریک ہیں ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعافرمائی کہ مرحوم مرادعلی کھٹانہ کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام وبلددرجہ بلندعطافرمائے اورلواحقین کوصبرکرنے کی توفیق دے۔قابل ذکرہے کہ چوہدری مرادعلی کھٹانہ جوکہ گوجربکروال فیڈریشن کے ریاستی صدرتھے گذشتہ منگل کودارفانی سے کوچ فرماگئے تھے ،موصوف گذشتہ کچھ مہینوں سے علیل تھے اوران کی نمازجنازہ میں بھاری تعدادمیں سیاسی وسماجی شخصیت نے شرکت کی اورلواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی کااظہارکیا۔
ترکوٹا پہاڑیوں وویشنودیوی بھون پر آفاتِ سماوی کے خطرات
شرائن بورڈنے ڈیزاسٹرم منیجمنٹ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا
کٹرہ/ شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کے ممبر میجر جنرل ( ر) شو کمار شرما ، اے وی ایس ایم کی سربراہی میں ورکشاپ کم ڈسکشن کاا ہتمام کیا گیا جس میں ترکوٹا پہاڑیوں پر شری ماتا ویشنودیوی بھون پر ہر قسم کے آفاتِ سماوی سے نمٹنے کے لئے چوکنا رہنے سے متعلق شراکت داروں کی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ورکشاپ میں بھون کے اعلیٰ اہلکار جن میں ایس ڈی ایم بھون جگدیشن سنگھ ، اسسٹنٹ کمانڈنٹ سی آر پی ایف اُتم کمار ، ایس ایچ او بھون راجیش کمار،ڈپٹی منیجر شرائین بورڈ سنیل گپتا کے علاوہ شرائین بورڈ کے مختلف یونٹوں کے سربراہاں نے حصہ لیا۔مختصر پریذنٹیشن پیش کرنے کے بعد میجر جنرل شرما نے بھون پر کسی بھی ایمرجنسی جن میں جنگل میں آگ رونما ہونا،پتھروں کا گرنایا تودے گرنا ، بھیڑ کے دوران بھگدڈ کے حالات وغیرہ شامل ہیں،سے نمٹنے کے لئے شرائین بورڈ کے مختلف وِنگوں اور ایجنسیوں کو آپس میں تال میل بنائے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔شرائین بورڈ کے ممبر نے ٹریک پر مواصلاتی نظام کو مستحکم بنانے کے علاوہ افرادی قوت کو اس ضمن میں موک ڈرل کے ذریعے تربیت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس دوران آفات سماوی سے نمٹنے کے لئے شراکت داروں کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے آئندہ دنوں میں ایک جامع موک ڈرل کا اہتمام کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا ۔بعد میں میجر جنرل شرما نے دیگر آفیسران کے ساتھ بھو ن میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ سٹور کا معائینہ کر کے کلیدی آلات کے رکھ رکھائو اور سٹور میں دستیاب سازو سامان کی فہرست کو اَپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت دی۔اسی نوعیت کی مشق کااہتمام ادھکوری میں بھی کیا جس میں سی آر پی ایف ، جموں وکشمیر پولیس ، فائر اینڈ ایمرجنسی سروس اور شرائین بورڈ کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔
پالی ٹیکنک کے چھٹے سمسٹر کا امتحان ملتوی
سرینگر/ جے اینڈ کے سٹیٹ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے سیکرٹری کے مطابق پالی تکنیکس کے سہ سالہ ڈپلوما کورسز کے چھٹے سمسٹر کا امتحان جو 23؍ جون 2018ء ( سنیچروار) کو لیا جانے والا تھا ملتوی کیا گیا ہے۔اس امتحان کی اگلی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
نگروٹہ کی محکمہ جنگلات کی رکھوں میں غیرقانونی قبضے کاالزام
صاف ستھرامومنٹ کاقابضین سے اراضی بازیاب کرانے کامطالبہ
جموں//جموں وکشمیرصاف ستھرامومنٹ کے ریاستی صدرشوکت چوہدری نے نگروٹہ کے مختلف دوردرازعلاقوں کادورہ کیا۔اس دوران شبا، دھمونی ،سمبل۔لیہڑ ،کھوئی، پنج گرائیں، پنگالی، کٹل بٹال نے شوکت چوہدری کومختلف مسائل کے بارے میں جانکاری دی۔ اس دوران لوگوں نے بتایاکہ سال 2016-17 اور2017-18 میں محکمہ جنگلات نے لینڈمافیہ کی طرف سے قبضہ کی گئی کچھ زمین کوخالی کروایاتھا لیکن خالی کروائی گئی زمین کی تاربندی نہ کی اورنہ ہی اس زمین پرپھلداردرخت وغیرہ لگائے جس کی وجہ سے کچھ لوگوں نے رکھ دھمونی ، رکھ پنگالی وغیرہ میں کچھ اراضی پرقبضہ کرلیاہے ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ جنگلات کوغیرقانونی طورپررکھ دھمونی،رکھ پنگالی وغیرہ میں جنگلات اراضی پرگذشتہ دوسالوں کے دوران کئے گئے قبضے کوچھڑانے کیلئے ٹھوس کارروائی عمل میں لانی چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ جنگلات کوچاہیئے آنے والے برسات کے موسم میں ان رکھوں کی جنگلاتی اراضی پرپھلدارپودے لگائے جائیں ۔شوکت چوہدری نے کہاکہ رکھوں کوجنگلی جانوروں کیلئے مخصوص رکھاجاناچاہیئے تاکہ وہاں مرغیاں ،مور، ہرن، خرگوش، بندر، کبوتر،ودیگرجنلی جانوررہیں اورنگروٹہ میں ماحولیاتی توازن برقراررہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ جنگلاتی رکھوں پرقبضہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے اورجنگلاتی زندگی کوتحفظ دینے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ جنگلات میں تالابوں ،پانی کے ٹینکوں ، نالوں کے تحفظ، جھیلوںوغیرہ کوبھی تعمیرکیاجائے تاکہ پودوں اورجانوروں کوفائدہ پہنچ سکے۔