نئی دہلی سفارتکاروں سے کشمیریوں کے خوش ہونے کی سند حاصل کررہی ہے
بارہمولہ //مرکزی قوانین کے اطلاق کو جموںوکشمیر کے لوگوں کی کمر توڑنے کی تیاریاں قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہاکہ اگر حالات ٹھیک ہیں تو10لاکھ فوج یہاں کیا کررہی ہیں؟ ڈاک بنگلہ بارہمولہ میں پارٹی کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہاکہ ’جموں کشمیر میں ایک سازش کے تحت 2019 سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں ، وہ کافی خراب ہیں، لوگ ڈرے ہوئے ہیں اسلئے ہمیں مسئلہ کشمیر کا حل دفعہ 370 اور 35 اے کی واپسی کیلئے ایک پُرامن جدوجہد شروع کرنی چاہئے‘۔ محبوبہ مفتی نے کہا ’’ اگر جموں کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو پوری دنیا سے نمائندوں کو کیوں لایا جارہا ہے ؟اور اُن کو پھر یہاں گماتے ہیں،اُن کو دکھاتے ہیں کہ یہاں بنکر نہیں ہیں تو پھر یہاں دس لاکھ فوج کیا کرہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اسی لئے بیرون ممالک کے سفارتکاروں کویہاں بھیج کریہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کشمیری عوام بھارت سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ خوش ہیں‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ’ہم جموں و کشمیر کی کھوئی ہوئی شناخت کی بحالی کے لئے لڑ رہے ہیں اور اگر مرکز جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس نہیں دینا چاہتا ہے تو ہم اُن سے بھیک نہیں مانگیں گے ،یہ ہمارا حق ہے‘ ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر جموں کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو 10لاکھ فوج یہاں کیا کررہی ہے؟۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی کا ایجنڈا مسئلہ کشمیر حل کرنا ہے، جس طرح نئی دہلی میں کسانوں نے کیا ہے اور پوری دنیا اُن کی ساتھ ہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ پراپرٹی ٹکس ، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور اقامتی قانون ، ملازموں کی عمر اور دیگر جو قوانین یہاں لائے جارہے ہیں ، کہی نہ کہی جموں کشمیر کے لوگوں کی کمر توڑنے کی تیاری ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار چاہتی ہے کہ یہاں کے لوگ مفلس اور غریب ہوجائیں تاکہ وہ مسئلہ کشمیر اور 370 بھول جائے ۔