فرانس کے مذموم اقدام کے خلاف عالمِ اسلام کا احتجاج جاری ہے۔گذشتہ ماہ ِ اکتوبرکی سولہ تاریخ کو ایک گْستاخِ رسولؐ اسکولی ماسٹر کاچیچن مسلم نوجوان کے ہاتھوں سَر قلم کے واقعے کے بعد فرانسیسی صدر کے منافرانہ اور غیر ذمہ دارانہ کردار سے فرانس میں جو صورت حال پیدا ہوئی ہے،وہ اْمتِ مسلمہ کے لئے قابلِ تشویش ہے اوریہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ دنیا بھر کی اسلام دشمن طاقتیں،جو پہلے صرف مسلم دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کی سازشوں اور کوششوںمیں رہی تھیں ، اب مسلمانوں کے ایمان اور عقائد پر بھر پور حملے کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ یہ صورت ِ حال اْس طرف جاری ہے جو صلیبی اور مذہبی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔کیونکہ صلیبی اور مذہبی جنگوں کے دور میں کھلے میدانوں میں فوجیں لڑا کرتی تھیں لیکن اب اگر یہ خطرناک صورتِ حال طول پکڑگئی تو جنگ میدانوں میں ہی نہیںبلکہ فسادات کی آگ ساری دنیا کے شہروں،محلوں اورگلیوں میں بھڑک جائے گی۔اب تک کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اس بار یہ معاملہ صرف مذمتی قراردادوں،بیانات اور معافی تلافی سے ختم نہیں ہوگا۔ممکن ہے کہ اس واقعہ کے نتائج سنگین صورتحال کا پیش خیمہ ثابت ہو جائیں۔ کیونکہ فرانسیسی صدر میکرون دنیا کو جس انداز سے نفرت،مذہبی تعصب اور انتہا پسندی کی طرف لے جا رہا ہے اور اپنے اسلام دشمن بیانات سے دہشت گردی،نفرت اور تعصب کی جو دھماکہ خیز سرنگیں بچھا رہا ہے۔وہ ایک آتش فشان کی شکل اختیار کررہا ہے۔ملعون میکرون نے نہ صرف مقتول گْستاخ کو قومی ہیرو قرار دے کر آزادیٔ اظہار کے نام پر گستاخانہ خاکوں کی حمایت کی ہے بلکہ ان خاکوں کی سرِعام تشہیر کی اجازت بھی دی ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے بیان اور خاکے بنانے والے شیطانوں کے ناپاک اقدام پر مسلمانوں کا کیا ردِ عمل ہوگا،اْس نے کھلے عام مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کی غیرت و حمیتِ اسلامی کو للکارا ہے۔
فرانسیسی صدر کی طرف سے ایسے گھنائونے اقدام کی حمایت اور تشہیر کی اجازت کا کیا مطلب ہے،جس کے سنگین نتائج کا بھی اْس ملعون کو علم ہے۔کیا فرانسیسی صدر کسی منظم منصوبے پر عمل پیرا ہے اور دنیا کو ایسی آگ اور مصیبت کی طرف دھکیل رہا ہے جس کے نتائج نہایت خطرناک اور خوفناک ہی ہو سکتے ہیں۔اْس کے بیانات سے فرانس میں مقیم 64لاکھ مسلمانوں کی زندگی خطرات سے دو چار ہو سکتی ہے اور پھر یہ آگ پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے۔ جس کے ردِ عمل میں دنیا کے تمام مسلم ممالک میں مقیم فرانس کے شہریوں اور املاک کو بھی شدید خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے اور فرانس کی معیشت کو بھی بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس صورتِ حال پر قابو پانے کے لئے جہاں خاص طور سے امریکہ ،برطانیہ ،چین،روس کو آگے آنا ہوگا وہاں مسلم ممالک کے حکمرانوں کو جاگنا ہوگا اور اپنا دفاع مضبوط بنانا ہوگا۔مسلم اْمہ کواپنے دفاع میں اپنے اندر اتحاد کے ساتھ ساتھ عالمی فورمز پر اپنا مقدمہ ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ایک طرف دنیا بھر میں احتجاج جاری رکھنا ہوگا تو دوسری طرف آئینی و قانونی اقدامات کے لئے ان ممالک میں جہاں یہ کارٹون شائع ہوئے ہیں ،عالمی عدالت سے رجوع کرنے میں پیش پیش رہنا ہوگا۔ گوکہ یہ معاملہ خالصتاً جذباتی ومذہبی نوعیت کا ہے لیکن فی زمانہ صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ مسلم اْمہ کوجوش سے زیادہ ہوش سے کام لینا ہوگا اور جو بساط مغرب اور دوسری مسلم دشمن طاقتوں نے مسلمانوں کے لئے بچھائی ہے ،اس میں اْلجھنے کے بجائے اپنے طریقے سے کھیل کو کھیلنا ہوگا۔ایک جانب علم و عقل سے مقابلہ کرنا ہوگا ،ضرورت پڑے تو دوسری جانب جذبات اور جوش کو زندہ رکھنا ہوگا۔مسلم اْمہ آپسی تنائو ،کدورت اور کشیدگی کو بالائے طاق رکھ کے مل جْل کر عالمی عدالت میں جانا ہوگا۔ترکی،پاکستان ،ایران ،ملائشیا، انڈونیشیا،قطر،یمن ،مصروغیرہ کے علاوہ مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو اس معاملے میں اپنے تمام تر وسائل سے استفادہ لینا ہوگا۔تادمِ تحریر اس سلسلے میںاگرچہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس مذموم واقعہ پر شدید رد عمل کا سلسلہ تو جاری ہے اورکئی اسلامی ملکوں نے فرانسیسی اشیا کی خریدو فروخت کا بائیکاٹ کیا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر پاکستان ، ترکی اور ایران کے علاوہ کسی اورمسلمان ملک کے حکمران کی طرف سے اس ناپاک واقعہ پر کوئی ٹھوس بیان یا ردِعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ ملعون فرانسیسی صدر جہاں اپنے ناپاک موقف پر ڈٹا ہوا ہے اور فرانس میں مقیم مسلمانوں کا کریک ڈاون کررہا ہے وہیں بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان اور ترکی کو فرانس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔جبکہ ترکی سے اپنے سفیر کو بھی واپس بْلایا ہے۔ظاہر ہے کہ ترکی کے صدر رجب اردگان نے اْسے دماغی مریض قرار دے کر علاج کرانے کا مشورہ دیا ہے اورپاکستانی صدر عمران خان نے مسلمان حکمرانوں کے نام خطوط ارسال کرکے اپیل کی ہے کہ وہ گستاخانہ اور ناپاک حرکتیں کرنے والوں کے خلاف متحد ہو جائیںتاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی ناپاک حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔
اب اگر ہم فرانس کی تاریخ اور ان کی ثقافت کا جائزہ لیں تو فرانس نے سیکولر اسٹیٹ بننے میں بڑی تگ و دو کی ہے۔ فرانس نے انقلاب کے بعد بارہ جولائی 1790 ء میں چرچ سے آزادی حاصل کی اورمذہب کو ریاست کے تابع کیا۔ 1882 ء میں سکول اور ریاست کو جدا کیا اور اور عوام پر تعلیم لازم کی۔ سن 1905 ء میں چرچ اور ریاست کو جدا کر کے ریاست کو مکمل طور پر سیکو لر ڈکلیئر کر دیا۔ سن 2014 ء میں اپنے تمام سکولوں اور سرکاری اداروں میں سے مذہبی علامات تک کو غیر قانونی قرار دیا، اسی لیے فرانس میں صلیب یا حجاب وغیرہ پر پابندی کا قانون لایا گیا۔چارلی ہیبڈو فرانس کا ایک ہفت روزہ میگزین ہے، جو حضرت عیسی علیہ السلام، مسیحیوں کے پوپ، مختلف سیاسی ومذہبی شخصیات کے کارٹون چھاپتا رہتا ہے۔ فرانس چونکہ مذہب کو دیس سینکالا دے چکا ہے،اْس کا ماضی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے لتڑا ہوا ہے جبکہ اس کی موجودہ راجدھانی پیرس انسانی لاشوں پر کھڑی ہے۔ اس لئے وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور احساسات کو سمجھ نہیں سکتا کہ نبی کریم ؐکا اسم گرامی سنتے ہی مسلمانوں کے دل کی دھڑکنیں کیسے بے قرار ہوجاتی ہیں۔ظاہر ہے کہ مدر پِدر آزاد معاشروں اور اسلامی معاشرہ کی تہذیبوں کے درمیان ایک ایسی خلیج موجود ہے جو وقفہ وقفہ کے بعد گہری ہوتی جارہی ہے اور جوصرف او ر صرف مکالمے سے ہی دور ہو سکتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا ممکن نہیں ہورہا ہے جس کے نتیجہ میںمنافرت اور انتہا پسندی بڑھ جاتی ہے اورحالات کو اس نہج پر لے آتی ہے کہ ہر جگہ مسلمانوں کا قافیہ حیات انتہائی تنگ کیا جاتا ہے۔چنانچہ مسلم اْمہ ایک روشن خیال ،ترقی پسند ،معتدل ،درگْذر اور برداشت کرنے والی کمیونٹی کا کردار ادا کررہی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا احتجاج فوری اور فطری ردِ عمل ہے اس کے باوجود وہ احتجاج کے قانونی ،اخلاقی اور آئینی دائرے سے باہر نہیں جاتے ہیں لیکن9/11کی بعد کی اصطلاح میں وہ بنیاد پرست ہے جو مذہبی منافرت پھیلاکر مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے۔فرانس میںکارٹونز کی اشاعت ایک سوچی سمجھی کوشش ہے جو انتہا پسند اور بنیاد پرست مذہبی ٹولے کی کارستانی ہے کیونکہ ایک مذہب کا انتہا پسند ہی دوسرے مذہب کی نزاکتوں اور حساسیت کو جانتا ہے،اسے پتہ ہوتا ہے کہ’ تیر کہاں چلایا جائے ،وار کہاں کیا جائے‘کہ اس کا شدید ردِ عمل ہو۔کارٹون بنانے اور اس کی تشہیر کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کارٹون دنیا کے پونے دو ارب مسلمانوں جو دنیا کی کْل آبادی قریباً21فیصد ہیں،ان میں اشتعال پیدا کردے گا اور مغرب و اسلام دشمن طاقتیں جو مسلم دنیا کے وسائل پر نظریں جمائے ہوئے ہیں ،وہ اور اس کا میڈیا 9/11کی طرح مشتعل مسلمانوں کو ہی موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کرے گا۔ان پر دہشت گردی کے الزام کو مستحکم کرکے انہیں دنیا میں کمزور حیثیت دینے کی کوشش کرے گا تاکہ وہ من مانی کرتے ہوئے ان کے وسائل کو اپنے مصرف میں لاسکے اور ساتھ ہی ان پر حکمرانی بھی کرسکے۔لیکن مسلم اْمہ کے شدید ،فوری مگر ہوش مند ی کے ساتھ ہونے والے ردِ عمل نے فی الوقت ان قوتوں کی اس سوچ کو عملی جامہ پہنائے جانے سے قبل ہی ختم کردیا ہے ،تاہم بات یہی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ شروع ہوتی ہے کہ مسلمانوں پر بنیاد پرستی اور دہشت گردی کا الزام لگانے والی دنیا اس موقع پر خاموش تماشائی کیوں بنتی ہے اور یہ حقیقت کیوں تسلیم نہیں کرتی کہ جہاں مغربی ممالک کے ان اخبارات کے بنیاد پرستی کا کردار ادا کیا ہے وہاں اب فرانسیسی صدر بھی بنیاد پرستی کا رول نبھا رہا ہے،جس میں امریکہ اور بھارت بھی اس کا ساتھ دے رہا ہے اورجس کے باعث دنیا کے پانچ براعظموں میں اشتعال پھیل گیا ہے۔مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ میں آباد مسلم آبادی بھی اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گْستاخی کرنے والوں کے سامنے ڈٹ گئی ہے۔یہ صورت حال انتشار ،اختلاف اور پھر فساد کی طرف جاتی ہے اور اگر اس صورت حال کا تدارک نہ کیا گیا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو خدشہ موجود ہے کہ ایسے واقعات مذہبی فساد کا باعث بن جائیں گے اور یہ فساد مسلم ممالک میں نہیں یورپ میں ہوں گے۔اس کی تمام تر ذمہ داری ان اخبارات اور ان ممالک پر ہوگی جو نام نہاد آزادیٔ اظہار کی آڑ میں ایسے بیانات اورایسے اخبارات کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں اور اگر ایسا ہوا تو پھر یہ صورت حال ماضی کی صلیبی جنگوں اور حال کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ سے زیادہ خطرناک ہوگی کیونکہ مذہب کا تصادم تہذیبوں کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔یہ اہلِ یورپ کے ساتھ ساتھ اسلام دشمن قوتوںکے لئے سوچنے کی بات ہے۔
توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت و تشہیراور فرانسیسی صدر کے کردار پر دنیا بھر میں ہونے والا احتجاج مسلم اْمّہ کے دل کی آواز ہے۔مسلمانوں کی جانب سے نکالے جانے والے جلوس ،مظاہرے اب تک صرف اور صرف اپنے اعتقاد اور ایمان کے دفاع میں ہیں ،کہیں بھی اس سے بڑھ کر کوئی واقعہ نہیں ہوا جہاں تک بعض ملکوں کے سفارت خانوں یا دیگر جگہوں پر حملوں کے اکا دْکا واقعات ہوئے ہیں وہ مشتعل افراد کا جذباتی ردِ عمل ہے جبکہ مجموعی طور پر اس موقع پر بھی مسلم اْمّہ نے اعتدال پسندی کا بھی مظاہرہ کیا۔جمہوری انداز اختیار کیا۔اب یہ اقوام متحدہ پر منحصر ہے کہ وہ ان ممالک جنہوں نے وقفہ وقفہ کے بعد منافرت ،تشدداور ہٹ دھرمی سے مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا ہے اور یورپی دنیا کو بھی مشکل میں لا کھڑا کیا ہے ،کے خلاف کب تک کوئی کاروائی کرنے سے گریزاں رہے گا۔عالمی اتحاد کو سامنے رکھتے ہوئے وقت کا تقاضا ہے کہ اقوام متحدہ آگے بڑھ کر اپنا موثر کردا ر ادا کریں۔