جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے محکمہ خزانہ کی ’’ سالانہ رپورٹ ۔ گُڈ گورننس کو فروغ دینا ‘‘ جاری کی جس میں 2020-21 کے دوران عوامی کاموں پر عملدرآمد میں شفافیت اور احتساب لانے کیلئے اٹھائے گئے اہم اقدامات کی نمائش کی گئی ہے ۔ محکمہ خزانہ کی جانب سے ای بُک کی شکل میں یہ رپورٹ جموں و کشمیر میں اصلاحات ،مالیاتی انتظام میں تدبر کو ادارہ سازی کیلئے نافذ کئے جانے والے اقدامات کی بصیرت کرتی ہے جس نے واقعی یونین ٹیر ٹری کو تبدیل کر دیا ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’’ مالیاتی انتظام میں اچھی حکمرانی کو فروغ دینا حکومت کا بنیادی مقصد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مالی نظام انتہائی شفاف نظاموں میں سے ایک ہے اور ان اہم تبدیلیوں میں شامل ہے جنہوں نے یونین ٹیر ٹری میں اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں ۔ مالیاتی نظام میں شفافیت لانے اور اس کو مزید مضبوط بنانے کیلئے حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے بڑے اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بی ای اے ایم ایس اصلاحات ( بجٹ تخمینہ اور الاٹمنٹ مانیٹرنگ سسٹم )جیسے تعمیراتی اصلاحات کا نفاذ ، جو آان لائین بجٹ کے عمل کو قابل بناتا ہے اور بروقت اجراء کرتا ہے ، منظور شدہ کاموں کیلئے فنڈز ، جے اینڈ کے پے سیس ، لازمی انتظامی منظوری ، تکنیکی پابندیوں اور ای ٹینڈرنگ ڈیجیٹل ادائیگیوں ، جی ایف آر ، جی ای ایم وغیرہ کے ذریعہ بلوں کو آن لائین جمع کروانے سے ملک میں کسی بھی ترقی پسند نظام کے مساوی طور پر جموں و کشمیر میں مالیاتی نظام لایا گیا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ میری حکومت جموں و کشمیر میں جامع ترقی اور اس کو آتم نربھر بنانے کیلئے امن ، ترقی ، خوشحالی اور سب سے پہلے لوگ کے منتر پر یقین رکھتی ہے ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ مالی سال 2020-21 کے مالیاتی سال میں سامان اور سروس ٹیکس ( جی ایس ٹی ) کی محصولات کی وصولی میں کووِڈ ۔19 پابندیوں کی وجہ سے مالی سال کے ابتدائی مہینوں کے دوران رکاوٹوں کے باوجود مثبت نمو دیکھی گئی ہے ۔ حکومت جموں و کشمیر نے الیکٹرانک طرزکی ادائیگی کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دینے سے سرکاری کاروبار میں لین دین میں شفافیت ، بروقت اور احتساب اور یونین ٹریٹری کے خطوں میں ادائیگی کے نظام کو مکمل طور پربہتر بنانے کو یقینی بنایا گیا۔ ڈی بی ٹی موڈ میں ادائیگی بھی لازمی کردی گئی ہے جس کی وجہ سے 80 لاکھ سے زائد مستفید اَفراد کو بروقت ادائیگیوں پر بہت زیادہ اثر پڑا ہے۔ ڈی بی ٹی کے ذریعہ وقتی طور پر ادائیگی کا نظام متعارف کرانے کے بعد پی ڈی ایس کے تحت مستفید ہونے والوں کے تقریبا ً2 لاکھ نقلی معاملات کو ختم کردیا گیا ہے اور ساڑھے 4 لاکھ خاموش مستحقین کو غیر فعال کردیا گیا ہے۔ 2020-21ء کے دوران 1353کروڑ روپے کا مجموعی معاشی پیکیج کی جامع نمو کے لئے اعلان کیا گیا۔بزنس سپورٹ لون جنرل کے تحت تقریبا ً289 مستفید اَفراد نے فائدہ اٹھایا جس میں 74.37 کروڑ روپے شامل ہیں۔2020-21 کے دوران 9 ماہ کے لئے زائد اَز 14,000 مستفید افراد کو 1000 روپے ماہانہ مہیا کیا گیا تھا۔نوجوانوں کو بااِختیار بنانے کے لئے روزگار سے متعلق ایک سکیم ’’ممکن‘‘کا آغاز کیا گیا۔بیک ٹو ولیج سوم پروگرام کے تحت ہر گرام پنچایت میں 20,000 روپے سپورٹس کِٹس کے لئے تقسیم کیا گیا اورقریباً 20,000 نوجوانوں کو بینک فائنانس کے لئے اَپنا منصوبہ شروع کرنے کی نشاندہی کی گئی۔
ہر پنچایت میں 5 بستروں کا کوویڈ کیئر سنٹر بنانے کی ہدایات
نیوز ڈیسک
سرینگر //لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز جموں وکشمیر کے ڈپٹی کمشنروں اور محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی ہر پنچایت میں 5 بستروں پر مشتمل کوویڈ کیئر سنٹر کو یقینی بنائیں کیونکہ بہت سے کوویڈ مریضوں کو اپنی اپنی رہائش گاہ میں ائیسولیشن کی سہولیات نہیں ہوسکتیں۔منوج سنہا نے سرکاری ٹویٹر ہینڈل میں لکھا ہے کہ ، "فوری طور پر مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے ہر مرکز میں ایک آکسیجن سے تعاون یافتہ بستر ہوگا۔انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ، "قریبی ہیلتھ سنٹر اور پنچایت نمائندوں کی مشاورت سے اسکول ، کمیونٹی ہال یا پنچایت گھر میں سہولیات کے قیام کے لئے ضلع کے پیکس بجٹ سے 1 لاکھ کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مراکز ضروری میڈیکل کٹ سے لیس ہوں گے اور قریبی صحت مراکز سے منسلک ہوں گے۔ "اس سے دیہی علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان افراد کی شناخت پنچایت اور متعلقہ میڈیکل اسٹاف / ایشا کارکنوں سے کریں گے۔انہوں نے کہا ، "پی آر آئی اور رضاکاروں کی مدد سے دیہات کو جانچنے کے لئے موبائل ٹیسٹنگ وین کا استعمال کیا جائے گا۔