سرینگر // صارفین کو بجلی فراہم کرنے کے دعوئوں سے پلو جھاڑتے ہوئے محکمہ بجلی نے ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو لوگوں کو مزید کٹوتی کیلئے تیار رہنا چاہیے۔فی الوقت وادی بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کی جارہی ہے جس کا کوئی وقت متعین نہیں رکھا گیا ہے اور جس کے دورانیہ کے بارے میں کچھ بھی حتمی نہیں ہے۔کبھی دن میں سات بار تو کبھی اس سے زیادہ بار بجلی کاٹ دی جاتی ہے۔یہ صورتحال شہر کے سیول لائنز علاقوں کی ہے جہاں میٹر لگے ہوئے ہیں۔نان میٹر علاقوں میں تو صورتحال بدترین ہے۔شہر میں کٹوتی شیڈول کو خود محکمہ بجلی نے ہوا میں اڑا دیا ہے کیونکہ اس پر 10فیصد بھی عملدر آمد ممکن نہیں بن رہا ہے۔ دن بھر بجلی کی آنکھ مچوکی کا کھیل جاری ہے جس سے صارفین تنگ آگئے ہیں۔قصبوں اور دیہات میں تو نا قابل یقین صورتحال ہے ۔ دیہات میں بجلی کا صرف دیدار کیا جاتا ہے اسکے علاوہ کچھ نہیں۔ وولٹیج اتنی کم ہے کہ کمرے میں ایک بلب سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔محکمہ بجلی کے حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گذشتہ کچھ روز سے سردیاں بڑھنے کے ساتھ ہی اورلوڈنگ بڑھ گئی ہے کیونکہ لوگ بجلی کا بے تحاشہ استعمال کرنے لگے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ گرمی دینے والے آلات کا استعمال کرنے سے بجلی کی کمی پیدا ہوگئی ہے۔محکمہ بجلی کے چیف انجینئر اعجاز احمد ڈار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں لگا تھا کہ رواں سال بجلی سپلائی میںقدر بہتری آئے گی کیونکہ محکمہ نے گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال300میگاواٹ کا اضافہ کیا لیکن صورتحال پھر بھی جوں کی توں ہے ۔گذشتہ سال اگرچہ محکمہ 1450میگاواٹ بجلی سپلائی فراہم کر رہا تھا، مگر اس سال1600میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں لوگوں کو 10یونٹ بجلی کا استعمال کرنا تھا،وہاں وہ 30یونٹ استعمال کر رہے ہیں۔بجلی چوری پر انہوں نے کہا کہ10 لاکھوں صارفین کے ساتھ محکمہ کے 30ہزار ملازم نہیں لڑ سکتے ،لیکن ان کی کوشش ہے کہ وہ پھر بھی ایسے صارف کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہیں جو بجلی چوری کا مرتکب پایا جاتا ہے ۔ معلوم رہے کہ کشمیر وادی میں سرما کے مصروف ترین اوقات کے دوران2022سے2500میگاواٹ بجلی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن محکمہ صرف 1600میگاواٹ بجلی فراہم کرپاتا ہے کیونکہ زیادہ بجلی تب تک یہاں کیلئے حاصل نہیں کی جا سکتی جب تک یہاں بنیادی ڈھانچہ کی حلاحیت بڑھا دی جائے۔