بلال فرقانی
سرینگر// محکمہ بجلی کے دو ملازمین کی دوران ڈیوٹی موت کے بیچ محکمہ نے بجلی کے کاموں میں بار بار سامنے آنے والی حفاظتی خلاف ورزیوں پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام کارپوریشنوں اور فیلڈ یونٹوں کو معیاری عملیاتی طریقہ کاراور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔محکمہ نے واضح کیا ہے کہ بجلی کے تمام کاموں بالخصوص ان مقامات پر جہاں تنصیبات عوامی علاقے میں واقع ہوں،میں حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ حادثات، بنیادی ڈھانچے کو نقصان اور عوام، ملازمین اور جانوروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔فائنانشل کمشنر محکمہ بجلی شلیندر کمار کی طرف سے جاری سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ حالیہ حادثاتی معاملات کے جائزے کے دوران الیکٹریکل انسپکٹریٹ نے متعدد ایسے واقعات نوٹ کیے جن میں فیلڈ عملے نے لازمی حفاظتی قواعد کی پابندی نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق برقی خرابی کی مرمت( فالٹ کلیرنس) اور معمول کی آپریشن و دیکھ ریکھ( او اینڈ ایم) سرگرمیوں کے دوران کئی جگہوں پر شارٹ کٹ طریقے اختیار کیے گئے اور لازمی حفاظتی اقدامات کو نظرانداز کیا گیا، جو کہ بجلی کی جلد بحالی کے لیے عوامی دباؤ کے نتیجے میں ہو سکتا ہے۔ محکمے نے اس رجحان کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔سرکیولر کے مطابق سب سے زیادہ پائی جانے والی کوتاہیوں میںجائے کام پر مناسب طریقے سے برقی سپلائی بندنہ کرنا اور کام کیلئے اجازت(ورک ٹوپرمٹ) حاصل نہ کرنا شامل ہے۔ اسی طرح حفاظتی سامان،جس میں ہیلمٹ، سیفٹی ہارنیس اور دیگر پی پی ای شامل ہیں،کا عدم استعمال اورلوکل ارتھنگ فراہم نہ کرنا بھی سنگین خطرات کا باعث بن رہا ہے۔ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے، محکمہ نے تمام کارپوریشنوں کو ایک مضبوط نگرانی نظام قائم کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ فیلڈ عملہ معیاری عملیاتی طریقہ کار اور حفاظتی پروٹوکول پر سختی سے عمل کرے۔ مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری یا نجی تمام برقی تنصیبات کو الیکٹرک سپلائی اینڈ سیفٹی ریگولیشنز2023 کے مطابق ہونا چاہیے اور ہر تنصیب کے پاس الیکٹریکل انسپکٹریٹ کی جانب سے جاری ’’فٹنس سرٹیفکیٹ‘‘ہونا لازمی ہے۔اس کے علاوہ، ہر کارپوریشن می’’الیکٹریکل سیفٹی افسر‘‘کی تقرری کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جو قواعد کے مطابق حفاظتی اقدامات کے نفاذ اور الیکٹریکل انسپکٹریٹ کے ساتھ رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔سرکیولر میں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ہر کارپوریشن ماہانہ بنیادوں پر اپنی حفاظتی کارکردگی کا جائزہ لے اور اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات باقاعدگی سے محکمہ کو ارسال کرے، تاکہ مجموعی حفاظتی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔