گول//گھوڑا گلی گول جس قدر علاقے کیلئے اک پہچان کا باعث بنی ہوئی ہے اْسی قدر مقامی لیڈر شپ کی نااہلی ، بے حسی ، مفاد پرستی ، بیگانگی اور ڈھنگ ٹپائو پالیسی کا اک اہم ثبوت بھی بنا ہوا ہے۔ گول بازارسے محض اک کلو میٹر کی دوری پر واقع یہ مقام جہاں قدیم زمانہ میں پتھروں سے تراشے گئے گھوڑے اور مورتیاں جہاں اپنی عظمت ِ رفتہ کی دل لبھانے والی کہانیاں پیش کر رہی ہیں ،وہیں محکمہ آثار قدیمہ ، ضلع انتظامیہ اور مقامی لیڈر شپ کی داستان ِ الم بھی پیش کر رہا ہے۔ یہاں پتھروں پر کی گئی کشیدہ کاری انسان کا دِل محو لیتی ہیں لیکن وہاں مقامی لیڈر شپ ،ضلع انتظامیہ اور محکمہ متعلقہ کی پتھر دلی بھی کمال کی ہے کہ دل ہے مانتا نہیں کہ اِس بیش قیمتی اثاثے کو پچانے کی کوشش کے کچھ اقدامات کئے جاتے۔ واضح رہیصدر مقام کاجموں و کشمیر کے ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول علاقہ میں واقع گھوڑا گلی نام سے مشہور آثار قدیمہ ناپید ہونے کے قریب ہے۔ گو کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے اس کو اپنی تحویل میں لے رکھا ہے لیکن اس جگہ کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا جارہا ہے۔جموں و کشمیر، ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول میں آثار قدیمہ کی ایک منفرد پہچان گھوڑا گلی کے نام سے مشہور ہے لیکن ضلع انتظامیہ رام بن ،محکمۂ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کی وجہ سے تاریخی مقام گھوڑا گلی اس وقت خاتمے کے دہانے پر ہے۔مقامی لوگوں نے اس تاریخی مقام کی خستہ حالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا تاریخی مقام، محکمہ اور انتظامیہ کی لاپرواہی اور عدم توجہی کی وجہ سے ختم ہونے کے قریب ہے۔یہ بھی پڑھیں۔زوال پذیر دستکاری صنعت کے فروغ کیلئے کامن فیسلٹی سینٹر کا قیامانہوں نے کہا کہ محکمۂ آثار قدیمہ اور انتظامیہ کو ایسے تاریخی ورثے کی بقا کی کوشش کرنی چاہیے۔ مقامی سیاح کا مزید کہنا تھا کہ یہاں پر پرانے زمانے میں پتھروں کو تراش کر بنائے گئے گھوڑے اور دیگر مجسمے مٹی میں دفن ہوتے جارہے ہیں۔ اگر انہیں بچانے کے لیے جلد اقدامات نہیں کیے گئے تو یہ آثار قدیمہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائے گا۔واضح رہے کہ گھوڑا گلی کے نام سے مشہور آثار قدیمہ کا یہ منفرد تاریخی ورثہ ضلع رامبن کے سیاحتی نقشے پر کافی اہم کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ اور محکمۂ آثار قدیمہ اس جانب توجہ دیں اور جموں میں آثار قدیمہ کے اس تاریخی ورثے کی شناخت کو دوبارہ بحال کی جائے۔