عظمیٰ نیوزسروس
حیدرآباد//علم سماجیات کی عظیم شخصیت پروفیسر امتیاز احمد مرحوم کے مختلف الجہات کاموں کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی خدمات اور کاموں کو آگے بڑھانے کی غرض سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات کی جانب سے دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ سمینار کے افتتاحی اجلاس میں پروفیسر ہلال احمد نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے بھارتی سماجیات کے لیے پروفیسر امتیاز احمد کی خدمات و افکار پر مفصل روشنی ڈالی۔ مقرر نے امتیاز احمد کے عملی اسلام (lived Islam) کے تصور کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ پروفیسر امتیاز کے مطابق اسلام کو سمجھنے کے دو زاویے ہیں، پہلا تحریری اور رسمی اسلام اور دوسرا عملی اسلام۔ اروندر انصاری، پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ جو کہ پروفیسر امتیاز بذات خود طالبہ بھی رہ چکی ہیں نے مرحوم کی شخصیت کے مختلف گوشوں کو بیان کیا۔شیخ الجامعہ پروفیسر عین الحسن نے اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر امتیاز احمد کے ساتھ کچھ یادگار لمحات کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ان میں پائے جانے والے تنوع کے متعلق گفتگو کی۔ ڈاکٹر وویک کمار، پروفیسر جے این یو نے پہلا امتیاز احمد یادگاری خطبہ پیش کیا۔