رمیش کیسر
نوشہرہ//آنے والے مانسون سیزن کے پیش نظر آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے کے مقصد سے فوج کی جانب سے راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ایک بڑی فوجی و سول مشترکہ مشق ’حفاظت: راحتِ عوام‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس مشق کا مقصد قدرتی آفات خصوصاً سیلاب جیسی ہنگامی صورتحال کے دوران فوری اور مؤثر امدادی کارروائیوں کے لیے مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا تھا۔مشق میں فوج، سول انتظامیہ، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، جموں و کشمیر پولیس، محکمہ صحت، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں نے مشترکہ طور پر شرکت کی۔ اس دوران ہنگامی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، ردعمل کے طریقہ کار کو پرکھا گیا اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔یہ مشق دریائے توی کے کنارے واقع نشیبی اور حساس علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کی نقالی پر مبنی تھی۔
پروگرام کا آغاز ایک مشترکہ ٹیبل ٹاپ مشق سے ہوا، جس میں شریک اداروں نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ منصوبوں، معیاری آپریٹنگ طریقہ کار، وسائل کی فراہمی اور رابطہ کاری کے نظام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ منظرنامہ پر مبنی مباحثوں اور جنگی گیمنگ کے ذریعے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے مختلف پہلوؤں کا عملی جائزہ لیا گیا۔مشق کی خاص بات دریائے توی پر سیلاب سے بچاؤ اور انخلاء کی مشترکہ کارروائیوں کا عملی مظاہرہ تھا۔ اس دوران کشتیوں کے ذریعے ریسکیو، زخمیوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے، رسی کے ذریعے دریا عبور کرنے اور متاثرہ افراد کو ریلیف کیمپوں تک پہنچانے کی مشقیں کی گئیں۔ خواتین، بچوں اور بزرگ شہریوں کے تحفظ اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی گئی۔اس موقع پر جدید امدادی ساز و سامان، ڈرون نگرانی نظام، مواصلاتی ٹیکنالوجی اور طبی سہولیات کی نمائش بھی کی گئی۔ سینئر فوجی افسران، ضلعی انتظامیہ، پولیس، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، سرپنچوں اور مقامی باشندوں نے مشق کا مشاہدہ کیا۔ مقررین نے قدرتی آفات کے دوران کمیونٹی کی شمولیت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تعاون سے ہی مؤثر امدادی کارروائیاں ممکن بنائی جا سکتی ہیں۔