نیشنل پنشن سکیم کے تحت ملازمین کے پنشن فنڈس کی منتقلی میں بھی تاخیر
بلال فرقانی
سرینگر//مالیاتی حسابات 2024-25کے مطابق جموں و کشمیر میں سودی بچت اور ریزرو فنڈز پر واجب الادا سود کی ادائیگی نہ ہونے سے مالی نظم و ضبط پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، کیونکہ مجموعی طور پر 45.32 کروڑ روپے کا سود ادا نہیں کیا گیا ہے۔ سی اے جی رپورٹ کے مطابق سٹیٹ کمپنسیٹری افاریسٹیشن فنڈ میں یکم اپریل 2024 تک 804.56 کروڑ روپے کا بیلنس موجود تھا، جس پر 3.35 فیصد سالانہ شرح کے حساب سے 28.63 کروڑ روپے سود واجب تھا، تاہم اس کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ اسی طرح سٹیٹ کمپنسیٹری افاریسٹیشن ڈیپازٹ میں 499.13 کروڑ روپے کے بیلنس پر 16.69 کروڑ روپے سود ادانہیں کیا گیا۔ یوں مجموعی طور پر 1,303.69 کروڑ روپے کے فنڈس پر 45.32 کروڑ روپے سود ادا نہیں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق نیشنل پنشن سسٹم میں بھی شراکت کی کمی اور فنڈس کی منتقلی میں تاخیر کئی گئی ہے۔ یکم جنوری 2010 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کیلئے نافذ اس سکیم کے تحت ملازمین اپنی تنخواہ کا 10 فیصد جبکہ حکومت 14 فیصد حصہ جمع کرتی ہے، جسے نیشنل سیکیورٹیز ڈیپازٹری لمیٹڈ کے ذریعے پنشن فنڈ میں منتقل کیا جانا لازمی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25میں این پی ایس کے تحت کل 2,296.73 کروڑ روپے جمع ہوئے، جن میں ملازمین کا حصہ 843.08 کروڑ اور حکومت کا حصہ 1,180.31 کروڑ روپے شامل ہے، جبکہ 273.34 کروڑ روپے نقد کی صورت میں الگ سے جمع کیے گئے۔ تاہم اس میں سے 396.22 کروڑ روپے این ایس ڈی ایل کو منتقل نہیں کیے گئے اور پبلک اکاؤنٹ میں ہی پڑے رہے، جس کے باعث سرکاری کیش بیلنس زائد ظاہر ہوا۔2011 سے 2025 کے دوران ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن سکیم کے تحت 12,691.89 کروڑ روپے موصول ہوئے، لیکن صرف 12,242 کروڑ روپے ہی پنشن فنڈ میں منتقل کیے گئے، جس سے 449.89 کروڑ روپے کی مجموعی کمی سامنے آئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فنڈس کی منتقلی میں تاخیر اور کمی کے باعث ملازمین کو ملنے والے منافع (ریٹرنز) متاثر ہو رہے ہیں اور مستقبل میں حکومت پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سابق ریاست جموں و کشمیر کے 53.67 کروڑ روپے بھی اب تک پبلک اکاؤنٹ میں پڑے ہیں اور این ایس ڈی ایل کو منتقل نہیں کیے گئے۔