سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر ، منوج سنہا نے جمعرات کومالی سال کے پہلے دن 50 فیصدمحصول اور(کیپٹل) اخراجات کی واگزاری کو منظوری دی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آمدنی اور کیپٹل جزو کی بروقت اجراء سے مرکزی خطے میں ترقی کی رفتار تیز ہوجائے گی۔ پارلیمنٹ نے حال ہی میں 1لاکھ،8ہزار621 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دی ہے جس میں 39817 کروڑ روپے کے سرمائی اخراج اور 67804 کروڑ روپے کے محصولاتی جزو شامل ہیں۔ حکومت نے مئی کے اختتام سے قبل ٹینڈرنگ کے عمل کو بروقت مکمل کرنے کے لئے سخت ہدایات جاری کیں تاکہ اس بات کا یقین کیا جا سکے کہ جموں و کشمیر میں کام کے محدود سیزن کی وجہ سے کوئی رکاوٹیں نہ ہوں۔ ماتحت دفاتر کو فنڈز کی فراہمی بیم کے ذریعہ آن لائن موڈ میں ہوگی اور تمام محکموں کو مختلف اجزا کے تحت ہونے والی پیشرفت سے متعلق ماہانہ رپورٹس پیش کرنے کی ضرورت ہوگی۔اخراجات کی یکساں رفتار کو یقینی بنانے کے لئے یہ واضح طور پر طے کیا گیا ہے کہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں 30 فیصد سے زیادہ رقم خرچ نہیں کی جاسکتی اور آخری مہینے کے دوران 15 فیصد سے زیادہ رقم خرچ نہیں کی جاسکتی ۔سال کے دوران کئے گئے منصوبوں کو انتظامی منظوری ، تکنیکی منظوری اور ای ٹینڈرنگ کے بنیادی ضوابط کو پورا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ توقع کی جارہی ہے کہ مئی کے مہینے میں پنچایت سطح کے منصوبے ، بلاک ترقیاتی منصوبے اور ضلعی ترقیاتی منصوبے تیار ہوجائیں گے۔ جموں و کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب پنچایت منصوبے بنانے میں پوری طرح شریک ہوں گے۔ اس ضمن میں حکومت کے ذریعہ ضلعی عہدیداروں کی مناسب تربیت کی جائے گی تاکہ وہ لوگوں کی احساسات کی ضروریات کے مطابق مقررہ وقت پر منصوبہ جات تیار کرسکیں۔ اس دوران محکمہ خزانہ نے مالی سال2021-22کیلئے مختص کئے گئے مالی بجٹ میں50فیصد رقومات کی واگزاری کو منظوری دی تاہم تاکید کی گئی کہ12مدوں میں ان رقومات کا تصرف عمل میں نہ لایا جائے۔ محکمہ خزانہ کے فائنانشل کمشنر ڈاکٹر ارن کمار مہتہ نے اس سلسلے میں با ضابطہ طور پر ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا’’مالی سال 2020-21کے لئے مختص آمدنی بجٹ کے تحت 50 فنڈز کے اختیار کو منظوری دی جاتی ہے،تاہم حکم نامہ میں کہا گیا کہ رخصتی کے دوران سفری رعایت،گاڑیوں کی خریداری،فرنیچر و فرنشنگ،تعمیراتی کام(محصولات کے تحت،اگر کوئی ہو)، سود، بجلی کی خریداری،غذائی اجناس کی قیمت خرید،رقومات کی واپسی،برف ہٹانے کیلئے،مشکوک واجبات( سسپنس ڈبیٹ)،محصول کے جزو کے تحت مرکزی زیر انتظام والے خطے کا حصص اورآفات سماویٰ سے متعلق فنڈ کا تصرف ان رقومات سے نہیں کی جائیگی۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے جے اینڈ کے تخصیص (نمبر 2) ایکٹ نمبر9 ، 2021 محررہ2مارچ2021کے مطابق افسراس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام بجٹ مختص گرانٹ اور فنڈز مطالبہ کے مطابق سختی سے بیم کے ذریعے جاری کیا گیا۔ کنٹرولنگ افسران محکمہ خزانہ کے ذریعہ فنڈز کے اختیار کی تاریخ سے ایک ہفتے کی مدت میں فوری طور پر محکموں کو فنڈز واگزار کرے۔ انتظامی محکموں میں بیم کے ایڈمنسٹریٹر ماہانہ بنیاد پر محکمہ خزانہ کو اس سلسلے میں تعمیلی اطلاعات فراہم کرے۔ مزید کہا گیا ہے کہ تصرف سال2017جی ایف آر کے تحت سختی سے عمل میں لائے جائے۔افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ کس بھی صورتحال کے تحت رقومات کو کس دوسری جگہ منتقل نہ کیا جائے،جب تک نہ محکمہ خزانہ کے ذریعہ واضح طور پر اختیار نہ دیا جائے۔ کنٹرولنگ افسراں سے کہا گیا ہے کہ ڈی ڈی ائوزسختی سے نگرانی کریں اورماہانہ بنیاد پر مقررہ اہداف کے مطابق محصول وصول کرنے کی نگرانی کریں جسے سالانہ مالی بیان میں درج کیا جائے۔ڈاکٹر ارن کمار مہتہ کی جانب سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا’’ کیجول،نیڈ بیسز اور ڈیلی ویجر ملازمین کی تعیناتی پر پابندی بدستور جاری رہے گی‘‘۔