بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں مالی سال 2024-25کے دوران سرکاری اخراجات کے انداز نے ایک بار پھر مالی نظم و ضبط پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں مجموعی اخراجات کا بڑا حصہ سال کے آخری مہینوں میں خرچ کیا گیا۔کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق کل سالانہ اخراجات کا 48.76فیصد حصہ آخری سہ ماہی جنوری تا مارچ 2025میں صرف کیا گیا، جس کی مجموعی مالیت 55,807.01کروڑ روپے بنتی ہے۔ اسی طرح صرف مارچ 2025میں ہی 15.35فیصد اخراجات کیے گئے، جو 17,571.70کروڑ روپے کے برابر ہیں۔ یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سال بھر اخراجات میں سست روی رہتی ہے جبکہ مالی سال کے اختتام پر اچانک تیزی آ جاتی ہے، جو مالیاتی اصولوں کے برعکس ہے۔سی اے جی رپورٹ کے اعداد و شمار سے مزید پتہ چلتا ہے کہ 36میں سے 23محکموں نے اپنی سالانہ رقم کا 30فیصد سے زائد آخری سہ ماہی میں خرچ کیا، جبکہ 20محکموں نے مارچ میں ہی 15 فیصد کی مقررہ حد عبور کی۔محکمہ جاتی سطح پر بھی نمایاں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔محکمہ پشو پالن نے اپنی کل رقم کا 33.16فیصد آخری سہ ماہی میں اور 15.87فیصد مارچ میں خرچ کیا۔ اسی طرح محکمہ باغبانی نے 33.98فیصد آخری سہ ماہی میں اور 19.94فیصد صرف مارچ میں خرچ کیے، جو مقررہ حدود سے کافی زیادہ ہیں۔15ذیلی مدات کے تحت 18.84کروڑ روپے کے تمام اخراجات صرف مارچ 2025میں کیے گئے، جو سال کے اختتام پر اخراجات کے غیر متوازن دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت نے اگست 2024 میں ہدایت جاری کی تھی کہ آخری سہ ماہی میں اخراجات 30فیصد اور مارچ میں 15فیصد سے تجاوز نہ کریں، تاہم اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔