احمد آباد//مویشی پروری کے مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر گری راج سنگھ نے آج کہا کہ ‘ماب لنچنگ’ (بھیڑ کے ہاتھوں پٹائی کی وجہ سے ہونے والی موت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ) جیسا لفظ سیاسی نوعیت والا اور نیا ہے اور یہ نام نہاد سیکولرسٹوں کی گڑھی ہوئی اصطلاح ہے ۔انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ اگلے ایک برس میں سڑکوں پر آوارہ جانوروں کے گھومنے پر پوری طرح روک لگانے کی سمت میں حکومت کام کررہی ہے ۔جب ان سے پوچھیا گیا کہ آوارہ پھرنے والے گاوں کی نسل والے جانوروں کی اسمگلنگ اور ذبحہ وغیرہ کے شبہ میں بھیڑ کے ہاتھوں پٹ کر مارے جانے کے واقعات یعنی ماب لنچنگ بھی ہوجاتی ہے تو بہار کے بیگوسرائے لوک سبھا سیٹ پر جے این یو کے طلبا لیڈر کنہیا کمار کو شکست دیگر کامیاب ہوئے سنگھ نے ، جنہیں ان کے متنازعہ بیانات کے لئے جاناجاتا ہے ، آج یہاں نامہ نگاروں سے تلخ لہجہ میں کہا کہ یہ ‘لنچنگ۔ونچنگ نیا سیاسی لفظ ہے چسے چلانے والے نام نہاد سیکولرسٹ لوگ ہیں۔انہوں نے کہاکہ جانوروں کے انتظامات کے معاملے میں تین اہم چیلنج ہیں۔ ان میں سے پہلا کھونٹے سے بندھے گھریلو جانوروں کی نسل سدھار کا ہے ، دوسرا گؤ شالہ میں رہنے والے جانوروں کا طویل استعمال یقینی بنانے کا اور تیسرا بے سہارہ جانوروں کے بارے میں ایسا ماڈل تیار کرنے کا ہے جو انہیں بھی ان کا خرچ اٹھانے کے قابل بنائے تاکہ کوئی بھی انہیں سڑکوں پر نہ چھوڑے ۔سنگھ نے کہاکہ ملک میں گائے کی نسل کے جانوروں میں صرف بھینسوں کے ہی گوشت کے لئے ذبحہ کی اجازت ہے اور ایسے جانوروں کو غیرقانونی طورپر مارنے والوں کو جیل بھیجنے کے لئے قانونی التزامات اور پولیس موجود ہے ۔اس سے پہلے ایک پریس کانفرنس میں سنگھ نے کہاکہ مودی حکومت نے پہلی بار ان کی وزارت مویشی پروری، ڈیری اور ماہی گیری صنعت وزارت کو زراعت سے الگ کیا ہے ۔ جی ڈی پی میں 6فیصد حصہ اور 75000کروڑ کی برآمد والی یہ وزارت کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے میں مددگا ر ہوگی۔مسٹر سنگھ نے جانوروں میں بیماریوں کے خاتمہ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمہ کی طرز پر جانوروں کی کھر پک جانے کی بیماری کو ختم کرنے کے لئے ساڑھے 13ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔یو این آئی