پلوامہ//مندورہ ترال میں 3مقامی جنگجوئوں کی ہلاکت کے بعد لیلہار کاکہ پورہ پلوامہ میں مسلح تصادم آرائی کے دوران 2جنگجوئوں نے خود سپردگی کی۔ ان میں سے ایک جنگجو زخمی حالت میں تھا، جس کا بڑا بھائی اسی سال ترال میں جاں بحق ہوا تھا۔جھڑپ کے ساتھ ہی پلوامہ میں انٹر نیٹ خدمات معطل کردی گئیں جو سنیچر کو بھی جاری رہیں۔
جھڑپ کیسے ہوئی؟
مقامی لوگوں کے مطابق جمعہ کی شام قریب 6بجے بٹہ پورہ لیلہار نامی گائوں میں دو جنگجو موجود تھے، جو شام کے وقت بستی میں ادھر ادھر جارہے تھے۔ اسی دوران 50آر آر، سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے بستی کو گھیرے میں لیا اور جنگجو فائرنگ کرتے ہوئے محمد اشرف نامی ایک شہری کے مکان میں گھس گئے۔ اس موقعہ پر طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جو رات بھر جاری رہا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ گولیوں کے تبادلے کے بعد روشنی کا انتظام کر کے آپریشن کو سنیچر کی صبح تک ملتوی کیا گیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس کو اس دوران مکان میں موجود 2جنگجوئوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں، جسکے فوراً بعد جنگجوئوں کے اہل خانہ کو جائے وقوع پر بلایا گیا جہاں والدین نے اپنے بچوں کو خود سپردگی کر نے کی اپیل کی۔رات بھر والدین اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے پر مائل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ رات کے دوران مقامی جنگجو نے فورسز پر گرینیڈ پھینکا جو نہیں پھٹ سکا جس کے بعد فورسز نے اسے ناکارہ بنانے کی کوشش کی جس کے دوران مقامی جنگجو نے مکان کی سلیب پر چڑھ کر فائرنگ کی جس کے دوران وہ شدید طور پر زخمی ہوا۔ اس کے بعد اسکے بھائی کو یہاں لایا گیا جس نے زخمی بھائی اور اسکے ساتھی کو سرینڈر کرنے پر مائل کردیا اور یوں دونوں جنگجوئوں نے خود کو فورسز کے حوالے کردیا۔صبح کے ساڑھے پانچ بجے دونوں محصور جنگجوئوں کی خود سپردگی کے بعد آپریشن ختم کیا گیا۔ زخمی جنگجو کو فوری طور پر بادامی باغ فوجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ لوگوں کے مطابق مقامی زخمی جنگجو کی شناخت عقیل احمد لون ولد محمد عبداللہ لون کے بطور ہوئی جبکہ اسکا دوسرا ساتھی روف احمد شیخ ولد غلام قادر ساکن واصورہ چکورہ پلوامہ کا ہے۔ عقیل احمد نے بارپویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی اور وہ پیشے سے ٹپر ڈرائیور تھا۔ اس نے 11دسمبر 2020میں ہتھیار اٹھائے تھے۔ لیکن اس سے قبل اسے پولیس نے دو بار گرفتار بھی کیا تھا۔عقیل احمد کا بڑا بھائی آزاد احمد بھی جنگجو تھا جو اسی سال ترال میں جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوا تھا۔روف احمد نے گریجویشن کی ہے اور اس نے 27ئی 2020کو ہتھیار اٹھائے تھے۔اس آپریشن کے دوران دو رہائشی مکانوں کو معمولی نقصان ہوا ہے جن کے شیشت چکنا چور ہوگئے ہیں۔ آپریشن کے اختتام پر مالک مکان کے بیٹے تنویر احمد کو گرفتار کیا گیا۔پولیس نے کہا ہے کہ خود سپردگی کرنے والے جنگجوئوں سے 2رائفلیں اور دیگر اسلحہ بر آمد کیا گیا۔
مقامی جنگجو گھر واپس آئیں
آئی جی پی کی پھر اپیل
نیوز ڈیسک
سرینگر//انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار نے کہا کہ جو نوجوان بندوق کا راستہ چھوڑ کر گھر واپس آتا ہے اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ جموں کشمیر پولیس ٹویٹر ہنڈل ’’ کشمیر پولیس زون ‘‘ پر پولیس نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ آئی جی پی نے ایک مرتبہ پھر ان تمام نوجوانوں، جنہوں نے بہکائو میں آکر بندوق اٹھائی ہے، سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑ کر گھروں کو لوٹ آئیں ۔ آئی جی پی نے کہا کہ جو نوجوان گھر واپسی اختیار کرتے ہیں ان کا تہہ دل سے استقبال کیا جائے گا ۔ آئی جی پی نے اپنی اپیل میں مزید کہا ہے کہ سماج خاص طور پر والدین کو بچوں کی بے حد ضرورت ہے ، اس لئے بندوق اٹھانے والے نوجوان گھر واپسی کر کے آرام کی زندگی گزر بسر کر یں ۔
اننت ناگ اور پانپور میں فورسز کارروائیاں
۔2جنگجو ،5اعانت کار گرفتار
عارف بلوچ
اننت ناگ // اننت ناگ اور پانپور میں پولیس نے لشکر اور جیش کے2 جنگجوؤں اور5 اعانت کاروں کو ہتھیار و گولہ بارود سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس کے مطابق انہیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ لشکر مصطفیٰ جو کہ اصل میں جیش محمد تنظیم ہے، بجبہاڑہ اور اننت ناگ قصبہ میں فورسز اہلکاروں پر حملہ کرنے والے ہیں ۔3 آر آر اور پولیس نے خصوصی ناکہ لگائے اور ڈونی پاوا بجبہاڑہ کے نزدیک آلٹوکے 10 زیر نمبرHP12C/0981 کو رکنے کا اشارہ کیا ۔پولیس کے مطابق کار میں سوار 2 افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انکی کوشش ناکام بنادی۔گرفتار نوجوانوں کی شناخت عمران احمد حجام ولد غلام نبی حجام ساکن ناتھ پورہ کھنہ بل اور عرفان احمد آہنگر ولد محمد الطاف ساکن نند پورہ کھنہ بل کے طور پر ہوئی۔گرفتار نوجوانوں کی تحویل سے 2 پستول، 3 میگزین اور 116 گولیوں کے راونڈ بر آمد کئے گئے۔پوچھ گچھ کے دوران گرفتار شدگان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے حال ہی میں ایل ای ایم تنظیم میں شمولیت اختیار کی ہے۔انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ جنگجو ہدایت ملک عرف حسنین ساکن شرف پورہ شوپیان چیف ایل ای ایم تنظیم عمر عرف وحید خان ساکن شوپیان ،آفتاب عرف علی بھائی ساکن داچھی پورہ کے کافی قریب ہیں اور یہ جنگجو فورسز اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لئے آئی ای ڈی کا استعمال کرنے جارہے ہیں۔پولیس نے کئی مقامات پر چھاپے مارے اور جنگجوؤں کے 4 اعانت کاروں کو گرفتار کیا ہے۔گرفتار شدگان میں بلال احمد کمار ولد محمد عبداللہ کمار ساکن ہف شوپیان، توفیق احمد لاوے ولد منظور احمد لاوے ساکن پوشوارہ اننت ناگ، مزمل احمد وانی ولد محمد امین وانی ساکن منوارڈ اننت ناگ اور عادل احمد راتھر ولد عبدالخالق راتھر ساکن کھانڈی پری ہرناگ شامل ہیں۔گرفتار نوجوانوں کا تعلق جیش محمد تنظیم سے ہیں اور انکے قبضے سے 2 گرنیڈ، 1 کلو بارودی مواد اور AK47 بندوق کے 30 گولیاں ضبط کی گئی ہے۔ادھرپانپور میں فورسز نے جنگجو ئوں کے ایک اعانت کارکو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق50آر آر ، 110بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کے دوران لشکر طیبہ کے ایک اعانت کارجنید الطاف ساکن کونی بل پانپور کو حراست میں لیا اور اسکی تحویل سے غیر قانونی مواد ضبط کیا گیا۔ اسکے خلاف پہلے ہی پونپور پولیس سٹیشن میں کیس زیر نمبر 75/2020 رجسٹرہے۔