جموں//لیفٹینٹ گورنر کے مشیر کے کے شرما نے کہا ہے کہ طلاب کو مختلف قسم کی سہولیات بہم رکھی جا رہی ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ اُن کا تدریسی سیشن اور تعلیم متاثر نہ ہو کیلئے ایک فعال لائحہ عمل اختیار کیا جا رہا ہے ۔ مشیر موصوف ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن جموں کی طرف سے طلاب کو آن لائین ، ڈجٹل اور دیگر ذرایع سے تدریسی مواد دستیاب کرانے کے سلسلے میں کئے جا رہے اقدامات کا جائیزہ لے رہے تھے ۔ ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں انورادھا گپتا اور دیگر افسروں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کی ۔ مشیر موصوف نے ڈائریکٹوریٹ کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان مشکل حالات میں محکمہ لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر یو ٹی کو ملک میں پہلا مقام حاصل ہے کہ اس نے کورانا وائیرس کی وباء کے تناظر میں تعلیمی سیکٹر کو رواں دواں رکھنے کیلئے اختراعی اقدامات کئے۔ ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن نے میٹنگ میں بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ نے سکولوں کے بند ہوتے ہی طلاب کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے آن لائین اور آف لائین پلیٹ فارموں کو متحرک کیا اور اس عمل سے سرکاری سکولوں اور سماج کے پچھڑے طبقے کے بچوں کو فائدہ مل رہا ہے ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ طلاب کی سہولت کیلئے مختلف ویب سائیٹوں کے ذریعے سے تعلیمی مواد فراہم کیا جا رہا ہے ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ سرکاری ویب سائیٹ ، ٹیلی ویژن چینلوں ، واٹس ایپ گروپوں اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بھی جیسے ریڈیو مرچی اور ٹیک ون چینل کے اشتراک سے تدریسی مواد طلبہ تک پہنچایا جا رہا ہے ۔ علاوہ ازیں 66 تعلیمی زونوں میں کتابیں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام کلاسوں کیلئے ہوم اسائین منٹس ویب سائیٹ اور واٹس ایپ گروپوں پر دستیاب کرائی جا رہی ہیں ۔ اس دوران بچوں کی صحت اور جسمانی و ذہنی نشو و نما کی طرف بھی توجہ دی جا رہی ہے ۔ اس موقعہ پر مزید بتایا گیا کہ والدین اور طلاب کی سہولت کیلئے تربیت یافتہ کونسلروں اور کلینیکل سائیکالوجسٹوں کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ ان اقدامات کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ نے پہلی جماعت سے نویں جماعت تک کے تمام طلبا کو ماس پرموشن دینے کا فیصلہ لیا ۔ اس کے علاوہ محکمہ اہل طلاب کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے تناظر میں اُن کی دہلیز پر مفت دو ماہ کی راشن پہنچانے کیلئے بھی اقدامات کر رہا ہے ۔ مختلف مشکلات کے باوجود بھی اب تک 92 فیصد بچوں کو اس کے دائرے میں لایا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ این سی ای آر ٹی نے سکولوں کے بند ہونے کے تناظر میں ایک متبادل تدریسی کلینڈر بھی تیار کیا ہے ۔