جموں //وزیر اعظم کے 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے مقصد کے حصول کیلئے حکومت کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے اکھنور میں پودا لگا کر باغبانی ہفتے کا آغاز کیا ۔ یو ٹی میں ہارٹیکلچر ویک 14 سے 20 جولائی 2021 تک منانے کا مقصد بڑے پیمانے پر شجر کاری ڈرائیو شروع کرنے ، نرسری کی ترقی میں معروضی اقدامات ، کاشتکاری برادری میں میکا نیکیشن کو فروغ دینے ، آبی ذرائع کی تخلیق ، انسانی وسائل کی ترقی اور تربیت کے ذریعے توجہ مرکوز کرے گا اور وسطی علاقوں میں کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے مجموعی مشن کے ساتھ پوسٹ ہارویسٹ منیجمنٹ کو مستحکم کرنا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ حکومت نے سال 2019 میں 49000 کے مقابلے میں اس سال 25 لاکھ اعلیٰ کثابت والے پودے لگانے کا ایک بے مثال ہدف مقرر کیا ہے جو جموں ڈویژن کی باغبانی کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے ۔ اس کے علاوہ ایلو ویرا کے 1.20 کروڑ پودوں اور اسٹرابیری کے 42 لاکھ پودے بھی لگائے جائیں گے ۔ اس سال رام بن اور ڈوڈہ اضلاع میں زیتون کے 67500 پودے لگائے جائیں گے ۔ انہوں نے چکروئی آر ایس پورہ میں 100 ایکڑ رقبے پر محیط میگا ہائی ڈینسٹی پلانٹ نرسری کا ای سنگِ بنیاد رکھنے کے علاوہ کسانوں کے مفاد کیلئے مارکیٹ رابطہ اسکیم جموں ہارٹیکلچر موبائل ایپ اور پرواز بھی شروع کی ۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے آمدنی میں اضافے کے بنیادی مقصد کے ساتھ حکومت کی جانب سے کاشتکاری برادری کی سہولت کیلئے مختلف اقدامات اور مختلف سرکاری اسکیموں کے ذریعہ کاشتکاروں کے حوالے کرنے کی پیش کش کی تا کہ وہ خوشحال زندگی گذار سکیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے مزید کہا کہ کاشتکاری کے شعبے میں اضافے کے مقصد سے مستقبل کی فراہمی کیلئے باغبانی اب جموں و کشمیر کی معیثت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے ۔ جدید ترین مشینری سے لیکر نئے پودوں تک ، زراعت کیلئے پانی کی فراہمی کے وسائل ، تربیت ، اعلیٰ کثافت والے پودے لگانے کے رقبے میں توسیع ، پچھلے ایک سال میں بہت سارے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور مزید کئی پائپ لائین میں ہیں ۔ باغبانی کے شعبے میں بہترین طریقوں کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ گذشتہ 11 مہینوں میں اس شعبے میں علم اور نظریات کے تبادلے کی وجہ سے زرعی پیداوار کے معیار میں نمایاں بہتری درج کی گئی ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے 2022 تک وزیر اعظم کے کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے ہدف کو پورا کرنے کیلئے زراعت اور باغبانی میں کی جانے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ جموں و کشمیر کو ’ ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ ‘ مہم میں ملک کی ٹاپ 5 پرفارمرس میں شامل کرنے پر بات کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے اس کامیابی کیلئے یو ٹی کے کسانوں اور متعلقہ محکموں کے عہدیداروں کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ وبائی بیماری کے چیلنجوں کے باوجود ہمارے کسانوں نے ایک حیرت انگیز کام کیا ہے اور بہت سارے نوجوان جو اس شعبے میں شامل ہونے سے گریزاں تھے اب وہ مختلف قسم کی نامیاتی کھیتی باڑی کر رہے ہیں اور اپنی محنت سے دوسروں کیلئے مثال قائم کر چکے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مشکل اوقات میں بھی سبزیوں ، پھلوں اور دودھ کی کمی نہیں تھی اور شہروں اور دیہات کے مابین فرق بھی کم ہوا ہے ۔ کسانوں کو تمام متعلقہ معلومات اور کاشتکاری کی جدید تکنیکوں سے واقف کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ مرکزی حکومت باغبانی کے شعبے میں 64 اسکیموں کے ذریعے کسانوں کو مختلف اجزاء میں 50 سے 100 فیصد تک سبسڈی فراہم کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کے اہلکار مستقل طور پر کاشتکاروں تک پہنچ رہے ہیں اور انہیں ان اسکیموں کے فوائد سے آگاہ کر رہے ہیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کسانوں اور کاشتکاری کے شعبے سے وابستہ تمام افراد کو مشورہ دیا کہ وہ زراعت میں نئے تجربات کریں اور تنوع پر توجہ دیں ۔ انہوں نے ان کی کوششوں میں انتظامیہ کے تعاون کا بھی یقین دلایا ۔ انہوں نے کہا ’’ کاشتکار طبقے کیلئے وسائل یا رہنمائی کی کمی نہیں ہو گی ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام افسران ، کسانوں ، زرعی سائینسدانوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ باغبانی کے شعبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ ایک منصوبہ بند طریقے سے جس میں ہم نے اصلاحی تبدیلیاں کرنے اور نئی ایجادات متعارف کروانے کیلئے کام کیا ہے ، جموں و کشمیر آنے والے وقت میں ملک میں زرعی اور باغبانی کی پیداوار میں ایک اہم خطہ بن سکتا ہے ۔ کسانوں کو ’’ عوام کی آواز ‘‘ ریڈیو پروگرام کے دوران حاصل کردہ تجاویز پر بات کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ حکومت کاشتکاری کے شعبے کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پالیسی فیصلے لے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دُنیا میں باغبانی کی فصلوں کا دوسرا سب سے بڑا پیداواری ملک ہے اور ہم دُنیا کے کل پھلوں اور سبزیوں کا تقریباً 12 فیصد پیدا کرتے ہیں ۔ ہم پیداوار میں قائد ہیں لیکن ہمیں تجارت میں اپنا حصہ بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے وزیر اعظم سے درخواست کی تھی کہ مرکزی حکومت مصنوع پر مبنی فنڈ کے مخصوص پروگراموں پر غور کر سکتی ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ان کی قابل رہنمائی کے تحت ہم جموں و کشمیر کے زرعی باغبانی کے منظر نامے کو یقینی طور پر تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ لفٹینٹ گورنر نے اودھمپور کے کسان وجے کمار ورما کی مثال دی ، اس کے علاوہ اودھمپور ضلع کے مجالٹہ بلاک کی چتریری پنچائت کے ترقی پسند کسانوں اور کٹھوعہ سے ناری شکتی وومن سیلف ہیلپ گروپ نے جدید طریقوں سے اپنی آمدنی میں کئی گُنا اضافہ کیا ہے ۔ انہوں نے بڈگام کی رہائشی انشا رسول کا بھی خصوصی ذکر کیا جو نامیاتی کھتی باڑی کے ذریعے غیر ملکی سبزیاں اگاتی ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے جوڑتی ہے ۔ ہارٹیکلچر ویک کے دوران ہونے والی اہم سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ نرسری ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ جموں ڈویژن میں پبلک سیکٹر میں بڑے پیمانے پر پیداوار اور فصلوں کی مخصوص نرسریوں کی تیاری کیلئے نجی شعبے میں ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن نرسری تیار کی جا رہی ہیں ۔
کورونا وائرس کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں
تیسری لہر کی ذمہ دار حکومت نہیں عوام ہوگی: منوج سنہا
یو این آئی
جموں//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ کورونا وائرس کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اور اگر تیسری لہر آ گئی تو اس کی ذمہ دار حکومت نہیں عوام ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ٹیکہ کاری مہم کو تیزی سے آگے بڑھا جا رہا ہے اور اس یونین ٹریٹری میں جتنے لوگوں کو ویکسین لگائی گئی ہے وہ ملکی اوسط سے دوگنی ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے بدھ کو جموں کے اکھنور میں ایک تقریب میں بولتے ہوئے کہا’’ایک بات کا میں خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ انتظامیہ کی کوششوں اور آپ کے تعاون سے ہم کورونا کو شکست دینے میں لگ بھگ کامیاب ہو چکے ہیں لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’کافی لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ تیسری لہر کب آئے گی۔ اگر تیسری لہر آ گئی تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے ہم نہیں۔ ہم سب کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہے ۔ احتیاط برتنا نہیں چھوڑنا ہے‘‘۔منوج سنہا نے کہا کہ میں تیسری لہر کے خطرے کے پیش نظر تمام لوگوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔ان کا کہنا تھا’’تیسری لہر نہ آئے یہ یقینی بنانے کے لئے ہم سب کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہم سب کا فرض بنتا ہے ‘‘۔لیفٹیننٹ گورنر نے کووڈ ٹیکہ کاری مہم پر بات کرتے ہوئے کہا’’ٹیکہ کاری مہم کو ہم تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں جتنے لوگوں کی ٹیکہ کاری کی گئی ہے وہ ملکی اوسط سے دوگنی ہے ۔ ہم اس ویکسین کی فراہمی کے لئے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے شکر گزار ہیں‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’امید ہے کہ ہم ٹیکہ کاری کو جلد اختتام پر پہنچا کر تعلیمی اداروں میں معمول کی تدریسی سرگرمیاں بحال کر پائیں گے۔ میری لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ مہربانی کر کے ویکسین ضرور لگوائیں۔ اسی کی بدولت ہم یہاں معمول کی زندگی گزر بسر کر سکیں گے‘‘۔