یو این آئی
طرابلس//لیبیا کے ساحلی شہر درنہ میں آنے والے خوفناک سیلاب نے ہزاروں افراد کو موت کی نیند سلادیا، ریسکیو ادارے ایک ہفتے بعد بھی ملبے تلے اور سمندر سے لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس سیلاب میں ہزاروں افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوچکے ہیں، غمزدہ متاثرین کی مدد کے لیے اتوار کو بین الاقوامی امدادی کوششوں میں تیزی دیکھی گئی۔سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کے کارکنان چہرے کے ماسک اور حفاظتی لباس پہنے ہوئے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف عمل ہیں، ریسکیو ٹیمیں کوششوں میں مصروف ہیں کہ شاید ملبے میں پھنسے کچھ لوگ ان کے انتظار ہوں اور وہ ان کی مدد کے لئے پہنچ جائیں۔اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ صدمے کے شکار رہائشیوں میں مختلف بیماریاں پھیلنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں، متاثرین کو صاف پانی، خوراک، رہائش اور بنیادی سامان کی اشد ضرورت ہے ۔ تنہا درنہ شہر میں 30 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے محروم ہوچکے ہیں۔روس، تیونس، فرانس، ایران، مالٹا، ترکی اور متحدہ عرب امارات سے ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں اور امدادی سامان کو لیبیا پہنچایا جاچکا ہے ، جبکہ متعدد دیگر یورپی اور عرب ممالک سے بھی امدادی سامان اور ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔