عورت اس جہاں کا سب سے خوبصورت، انوکھا، نرالہ اور دلکش وجود ہے۔ جس کے دم سے حیات قائم ہے۔اسی کے ذریعے انسانی نسل کی نشوونما ہو رہی ہے۔اسی کی وجہ سے ایک اچھے اور عمدہ معاشرے کے قیام کا عمل وجود میں آتا ہے۔ عورت کو ہم اگر ماں کے روپ میں دیکھتے ہیں تو وہ اپنے بچے سے بے لوث محبت، الفت، چاہت، شفقت، ہمدردی اور ایثار و قربانی کرنے والی انمول خزانہ ہے۔
عورت کو اگر بیوی کی صورت میں دیکھتے ہیں تو وہ دِلی تعلق، اخلاص، صداقت، پاکیزگی بغیر کسی دکھاوے کے، بے لوث، بے غرض، خلوص اور چاہت کے ساتھ حقیقی محبت کرنے والی، ہر خوشی و غم کی ساتھی اور وفاداری کا ایک حسین افسانہ ہے۔ عورت کو اگر بہن کی شکل میں دیکھتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے عمدہ اور بہترین نعمت ہے اور اگر بیٹی کی شکل میں دیکھتے ہیں تو وہ خدا کی رحمت ہے۔ منجملہ اگر دیکھتے ہیں تو عورت انسانیت کی آن، بان، شان اور عزت ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام عطا فرمایا جو کسی مذہب میں نہیں دیا گیا، جس سے یہ بات نمایاں ہوجاتی ہے کہ تعلیم سے صرف لڑکوں کو آراستہ کرانا ہی جائز نہیں بلکہ لڑکیوں کو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ضروری ہے۔
کیوں کہ علم ایک لامحدود اور لازوال دولت ہے جو تقسیم کرنے سے کم ہوتی نہیں بلکہ بڑھتی رہتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے انسان اپنی تہذیب اور تمدن کو اپنے آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا ہے،جبکہ علم ہی وہ قوت ہے جو انسان کو خود شناسی اور خدا شناسی سکھاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میںلڑکوں اور لڑکیوں کوتعلیم کے زیور سےآراستہ کرانے کے لئے اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں کے قیام کو دن بہ دن فروغ دیا جارہا ہے تاکہ اس کے ذریعے اُن کا تہذیب و تمدن بر قرار رہے اور اس میں سب سے بڑا کردار عورت کا ہوتا ہے۔ کیوں کہ عورت کا ہی زیادہ تر اولاد کی تربیت اور گھر کے ماحول کو سنوارنے میں اہم رول ہوتا ہے۔ عورت اگر تعلیم یافتہ ہے تو وہ اپنی اولاد اور خاندان کو ایک اچھا اور عمدہ ماحول دے گی ورنہ سب تباہ و برباد کر دے گی۔ لیکن افسوس! آج بھی ہمارے یہاں بعض لوگ تعلیم نسواں کے خلاف اور اس کے متعلق بڑی غلط فہمی رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عورتیں صرف بچے پیدا کرنےکے ساتھ ساتھ گھر کی دیکھ بھال ، گھریلو کاموں،باورچی خانے میں کھانا بنانے اور دسترخوان سجانے کے لیے پیدا ہوئی ہیںجوکہ قطعاًاسلامی اصول کے خلاف ہے۔جبکہ مفکرین کا کہنا ہے کہ’’ مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم، جبکہ عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے۔‘‘ اس لئےمرد کے ساتھ ساتھ عورت کا بھی تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو دینی و دنیاوی مسائل بہت آسانی کے ساتھ حل کر لے گی۔
اپنی اولاد کی بہتر انداز میں تربیت کرے گی، گھر کا ماحول خوبصورت اور اچھے معاشرے کی تشکیل ہوگی۔ خاص کر موجودہ دور تو سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، گویا یہ جہاں ایک گھر کی مانند ہو گیا ہے۔ اس گھر میں وہی فرد حکمرانی کرسکتا ہے جو علم اور ٹیکنالوجی کا جانکار ہو۔ تو جو چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد کی اچھی تربیت، گھر کا ماحول خوشگوار، ایک اچھا معاشرہ اور اس کا ملک سب سے ترقی یافتہ ملک ہو تو تعلیم نسواں کو عام کرنا ہوگا! ورنہ سارے خواب تہ و بالا ہو جائیں گے۔
آج دنیا بہت تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ اس لئے اس نئے ماحول سے ایک تعلیم یافتہ عورت ہی مطابقت اور اپنی بات دوسرے تک آسانی کے ساتھ پہنچا سکتی ہے۔ خاص کر اپنی اولاد کو جو اس دور جدید میں جدید اشیاء کو جاننے کے خواہاں ہوتے ہیں، اُن کو اِن جدید اشیاء سے آشنا کرا سکے گی۔ ضروری نہیں کہ عورت پڑھ لکھ کر ڈاکٹر، پروفیسر، پائلٹ یا انجینئر بنے؟ عورت کی پہلی ذمہ داری اس کا گھر ہے تو وہ تعلیم یافتہ عورت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے روپ میں اپنے فرائض و واجبات کو احسن طریقے سے نبھا سکتی ہے۔ اس لیے خواتین کو تعلیم دلانے کی اشد ضرورت ہے۔چنانچہ آج کی دنیا جس تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی راہیں طے کررہی ہے،اُسے ایک تعلیم یافتہ عورت ہی بخوبی سمجھ سکتی ہے۔
���