محتشم احتشام
پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے علاقہ لورن اور راجپورہ کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے صاف اور خالص پینے کے پانی کی فراہمی کے منتظر ہیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے شروع کی گئی واٹر سپلائی اسکیم آج تک مکمل نہ ہو سکی، جس کے باعث ہزاروں لوگ بنیادی سہولت سے محرومی اور شدید مشکلات کا شکار ہیں۔سماجی وسیاسی شخصیت غلام محی الدین ڈار کے مطابق اس منصوبے کا مقصد لورن اور آس پاس کے دیہی علاقوں تک صاف پانی پہنچانا تھا، تاہم تین سے چار سال گزرنے کے باوجود اسکیم ادھوری پڑی ہے۔
کئی مقامات پر پائپ لائن بچھانے کا کام نامکمل چھوڑ دیا گیا جبکہ بعض جگہوں پر نصب پائپ وقت گزرنے کے ساتھ تباہ و برباد ہو چکے ہیں، جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا ذرائع کے مطابق بعض غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ذاتی خرچ پر پائپ خرید کر اور انہیں دور دراز علاقوں تک پہنچا کر منصوبے کی تکمیل میں تعاون کرنے کی کوشش کی، مگر متعلقہ محکمہ اور ذمہ دار حکام کی مبینہ غفلت اور عدم دلچسپی کے باعث یہ کوششیں بھی بارآور ثابت نہ ہو سکیں۔عوامی حلقوں نے ضلع انتظامیہ پونچھ، محکمہ جل شکتی (جے جے ایم) اور مقامی عوامی نمائندوں، خصوصاً ایم ایل اے پونچھ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسکیم کو جلد مکمل کرائیں تاکہ راجپورہ، لورن اور ملحقہ علاقوں کے عوام کو صاف پینے کا پانی میسر آ سکے۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران عوام سے ترقیاتی وعدے کیے گئے تھے، جن میں پینے کے پانی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا یقین بھی شامل تھا، مگر عملی سطح پر صورتحال اب تک تبدیل نہیں ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ اگر باقی ماندہ کام سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ مکمل کیا جائے تو یہ منصوبہ قلیل مدت میں فعال ہو سکتا ہے۔عوام نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی ہمدردی اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت حل کیا جائے تاکہ لوگ صاف پانی جیسی بنیادی نعمت سے مزید محروم نہ رہیں۔