لوگ اپنے مریض چارپائی پر اٹھانے پر مجبور
محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی قلت ایک بار پھر عوامی مشکلات کا سبب بن گئی ہے۔ ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے بلاک لورن لور پنچایت کے علاقہ اے نلہ، وارڈ نمبر 04میں تقریباً دو کلو میٹر تک سڑک نہ ہونے کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔علاقہ کے مکینوں کے مطابق اس بستی کو آج بھی پختہ سڑک کی سہولت میسر نہیں، جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ خاص طور پر ایمرجنسی حالات میں صورتحال نہایت سنگین رخ اختیار کر لیتی ہے۔شہریوں کے مطابق مریضوں کو چارپائی پر اٹھا کر کچی اور دشوار گزار پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے مرکزی سڑک تک پہنچانا پڑتا ہے، جو نہ صرف اذیت ناک بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بارش اور خراب موسم کے دوران راستے پھسلن کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے آمد و رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔
بزرگ شہری، حاملہ خواتین اور اسکول جانے والے بچے روزانہ ان مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، مگر ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ مریضوں کو بروقت طبی امداد نہ ملنے کا خدشہ ہمیشہ لاحق رہتا ہے۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو متعدد بار ضلع انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے سامنے اٹھایا گیا، تحریری و زبانی طور پر توجہ دلائی گئی، مگر تاحال سڑک کی تعمیر کے حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ عوام میں انتظامیہ کی بے توجہی پر سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے۔مقامی باشندوں نے ضلع انتظامیہ، محکمہ تعمیرات عامہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اے نالہ وارڈ نمبر 04 تک سڑک کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے، تاکہ عوام کو بنیادی سہولت فراہم ہو سکے اور کسی بڑے انسانی المیے سے بچا جا سکے۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے ایم ایل اے اعجاز احمد جان اور ڈی ٹی سی ممبر بشیر ریاض ناز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران انہوں نے بڑے بڑے وعدے کیے تھے جو پورے نہیں کئے گئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ علاقہ میں سڑک کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے گا لیکن تاحال کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔