سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے کرہ ارض پر پھیلی انسانی آبادی کو باہم قریب لاکر ایک عالمگیر سماج بنایا ہے۔یہ ماضی کے انسانی سماجوںکی نسبت ایک انقلابی تبدیلی ہے اور ساتھ ہی یہ ایک ناقابل تغیر تبدیلی ہے۔ دنیا بھر کے مختلف سماجوں اور تہذیبوں کے آپسی میل ملاپ نے عالمگیریت کے جس زمانے کو جنم دیا ہے اسے عالم گیرنظام کی ضرورت آن پڑی ہے۔ عالمگیریت کے نام پر آج مختلف طاقتیں اپنے مقاصد اور مفاد کے تحت اپنے اہداف پوار کر رہے ہیں۔لیکن اس کے باوجود عالمگیریت آج کے زمانے کی کھلی اور بڑی حقیقت ہے۔اس کے تقاضوںکو بہر حال ہمیں سمجھنا ہو گا تاکہ عدم توازن سے انسانی سماج میں پہلے سے ہی موجود افراط و تفریط کا خلامزید بڑھ نہ پائے۔
عالمگیر سماج کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ دنیا میں انسانی مساوات کے اصول کی تکمیل کی جائے۔ اگر دنیا برتر اور کم تر انسانوں میں مسلسل منقسم ہوتا رہا تو انسانوں کے مابین کشمکش اور چپقلش کا ما حول جاری رہا تو اس صورت حال کے ہوتے ہوئے عالمگیر معاشرہ کا قیام ممکن نہیں ہے۔ اسی عالمگیر معاشرہ کے قیام کی بنیاد سید المرسلین ؐ نے حجتہ الوداع کے اْس تاریخ ساز خطبہ میں ڈالی جب آپ نے فرمایا کہ ’’خبردار؛ کسی عربی کو عجمی پر ،گورے کو کالے پر، غریب کو امیر پر کوئی فضیلت نہیں ۔ فضیلت اور برتری اگر کسی کو حا صل ہے وہ صرف اس کو ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والاہو۔
عالمگیرمعاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ علم کے تمام شعبوں تک تمام انسانوں کی یکسان رسائی ہو۔ حصول علم ا ور اس کے ذرائع پر اجارہ داریاںقائم نہ ہوں۔جب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا انسانی مساوات قائم نہیں ہو سکتی ۔تمام انسانوں سے معاملہ تہذیب و تمدن اور اخلاق کی بنیاد پر کیا جائے۔تہذیب کو انسانوں کی مشترکہ کاوش اور مشترکہ بازیافت سمجھا جائے۔ تہذیب کی بنیاد پر انسانوں کو کم تر اور اقوام کو غلام نہ بنا یا جائے۔تہذیبوں کی کشمکش اور تصادم کے نام پرزیر دست نسلوں اور اقوام کا قافیہ حیات دوبھر نہ کیا جائے۔ عدل و انصاف پر مبنی عالمگیرنظام کو فروغ دینے اور صحیح خطوط پر استوار کرنے کے لئے اگر کسی شخصیت کی زندگی کامل رہنمائی فراہم کرسکتی ہے تو وہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے۔
سید المرسلینؐ نے دنیا انسانیت کے سامنے جو ایک آفاقی نظریہ پیش کیا وہ باور کرتا ہے کہ:کائنات کا خالق ، مالک، رب اور الٰہ صرف ایک اللہ ہے۔ خالق کائنات نے کائنات کو توازن اور ہمآہنگی کے ساتھ پیدا کیاہے۔ وحدت آدم یعنی تمام انسان آدم ؑ کی اولادہے۔
سیدالمرسلینؐ نے جو آفاقی رہنمایانہ اصول دنیا کے سامنے پیش کئے وہ ہیں:عدل واحسان،صدق و امانت،معاملات اور مسائل کے حل کے لئے باہمی مشورہ یعنی’’شوریٰ‘‘ کا اصول،انفرادی و اجتماعی ارتقاکے لئے تزکیہ،معروف کو عام کرنا اور منکرات کی بیخ کنی کرنا۔
آفاقی نظریہ اور آفاقی اصولوں نے ایک لائف اسٹائل اور لائحہ عمل کو جنم دیا۔ یہ لائحہ عمل بھی اپنی سرشت اور عمل کے اعتبار سے آفا قی ہے۔ قرآن اور صاحب قرآنؐ کی تعلیمات جو زندگی کا لائحہ عمل پیش کیا اس کے مبادیات یوں ہیں؛اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے،والدین کی بہترین پیرایہ میں خدمت کی جائے،ہمسایہ کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھا جائے،شرم و حیاانسانی کردار کا لازمی حصہ ہو،جسمانی طہارت،لباس اور اردگرد کا ماحول پاک و صاف ہو، غیر منافع بخش اقتصادی سرگرمیاں جیسے جوا، سٹے بازی وغیرہ ممنوع قرار دئے گئے،انفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر سود کو حرا م قراردیا گیا،معاہدوں ،حلف ناموں،وعدوں کی پاسداری کی جائے،سماج کے کمزور اور لاچار طبقہ کو امداد، تحفظ اور عزت دی جائے۔
متذکرہ با لا آفاقی اصول و نظریہ او ر لائحہ عمل کے مبادیات کی بنیا دپر اس عالم گیر معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جو مو جودہ دور کے لئے ناگزیر بن چکا ہے۔ ا سکے لئے اُمت مسلمہ کے حکمرانوں اور دانشوروں کی طرف سے رضاکارانہ طور پہل ہونی چاہئے۔
عالمگیر امن
عالمگیر معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ عدل و انصاف کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے اور ہر انسان کو برابری کی سطح پر امن و سکون حا صل ہو۔اگر معاشرہ میں امن و سکون سب کے لئے یکسان نہیں ہے،کچھ انسان امن میں ہوں اور کچھ مسلسل بد امنی کے شکار ہوںتو عالمگیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔انسان ہمیشہ سے جبلی طورجنگ و جدل کو نا پسند اور اسے بچنے کی کوشش میں رہا ہے۔ اگر یہ اصول عالمگیر امن ،بھائی چارے ،مساوات اور ہم آہنگی کے لئے نا گزیر ہیں تو اس کا واحد عملی نمونہ اسلام اور پیغمبر اسلام سیدالمرسلین ؐ نے پیش کیا ہے۔ آج کے تباہ کن نیوکلیئر اور بائیولاجیکل ہتھیاروں کے زمانے میںجنگ و جدل سے محفوظ رہنے کی اہمیت بے حد بڑھ گئی ہے۔اسے مستقل طور بچنے کے لئے تین اہم شرائط نما یاں ہیں؛بین الاقوامی قواعد و ضوابط طے کرکے ان کی پاسداری کی جائے،ایسا نظام وجود میں لایاجائے جسے ان بین الاقوامی قواعد و ضوابط پرعمل کو یقینی بنا یا جائے،سیاسی و معاشی عدل کو یقینی بنا یا جائے۔کیونکہ نا انصافی ہی تنازعہ و تصادم کی بنیاد بن جاتا ہے۔
اللہ کے رسولؐ کی تعلیمات متذکرہ بالا تین ضابطوں کو آگے لے جانے کی سمت میں ضروری بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ان ہی تعلیمات کی بنیاد پر ماضی میں اسلامی فقہااور اسکالروں نے بین الاقوامی قوانین وجود میں لانے کی کوششیں کیں۔اس کے بہت عرصے بعد مغربی اسکالر وں نے اس طرف توجہ مبذول کی۔ آج دنیا میں رائج اور تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین صرف ’’معاہدوں‘‘ اور ’’اقرارناموں ‘‘ کی صورت میں موجود ہے۔ جو ناکافی و نامکمل ہونے کے ساتھ ساتھ غیر متوازن بھی ہیں۔ اس ضمن میں آج دنیا کو اسلام کے عظیم ورثہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے جہاں وہ اقوام اور ریاستوں کے مابین مختلف نوعیت کے قوانین بنانے کے لئے رہنما اصول مو جود پائے گیں۔ مختلف ممالک اور ریاستوں کے مابین تعلقات استوار کرنے کے لئے منضبط بین الاقوامی قوانین وقت کا اہم تقاضا ہے۔پھر ان قوانین کا موثر میکانزم سے کا میاب اطلاق ہو نا چاہئے۔ آج کی دنیا میں مو جود قانون اور عدل و انصاف کے بین الاقوامی اداروں کی اس حوالہ سے کاکردگی نہایت ہی ما یوس کْن ہے۔بلکہ یہ ادارے طاقتور ممالک کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔نتیجتاً آج دنیا میں غالب قوتیں کمزوروں اقوام اور لوگوں کے حقوق پر اعلانیہ ڈاکہ زنی اور باوقار زندگی بسر کرنے نہیں دے رہے ہیںجسے عالمی امن درہم برہم ہو چکا ہے۔ اللہ کے رسولؐنے صاحب اقتدار و اختیار لو گوں کو خبردار کیا ہے کہ انہیں ان کی ذمہ داریوں اور ان کے اختیار کے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ استعمال سے متعلق ضرور جو ابدہی ہوگی۔
فطرت کے ساتھ تصادم
مغربی سیکولر نقطہ نظر نے دنیا میں ایک بڑی غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی۔وہ یہ کہ انسان اور فطرت آپس میں متصادم ہیں۔دانش مغرب نے اپنی تما م تر قوت کو بروئے کار لاکرکو شش کی کہ فطرت کے ساتھ تصادم چھیڑ کر اس پر فتح حاصل کریں۔ لیکن اس مشن میں انہیں بہر حال ہزیمت کا سامنا رہا۔ یہ ایک نا قابل فہم اور ناممکن پروجیکٹ ہے۔ انسان کتنا بھی ترقی یافتہ ہو قدرت کے ساتھ متصادم ہو کر اسے ہرا نہیں سکتا۔ یہ نقطہ نظر تھک ہار کر اب قصۂ پارینہ بن کرر ہ گیا ہے اس کے برعکس ربانی رہنمائی انسان اور فطرت کے درمیان صحیح تعلق اور رشتہ کی نشاندہی کرتا ہے۔فطرت اور انسان دونوں اللہ کی مخلوق ہے۔اللہ نے انسان کو عقل وفہم کی وہ صلاحیت بخشی ہے جس کا استعمال کر کے وہ بہت سے فطری اشیاکواپنے فائدے کے لئے استعمال میںلاسکتا ہے ۔ اس نام نہاد اور فرضی تصادم کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچتی ہے۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم
انسان وسائل پر قابو پانے اور انہیں اپنے اختیار میں لینے کے لئے آپس میں ہمیشہ دست و گریباں رہے ہیں۔اللہ کے رسولؐ نے خدائی رہنمائی کی روشنی میں انسانوں کویہ تعلیم دی کہ دنیا کے وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو۔ محروم ،لاچارو کمزور انسان اور اقوام امیر اور صاحب ثروت لوگوں اور ممالک کی حمایت کے حق دار ہیں۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ تمام انسان دنیا کے وسائل میں شریک ہوں تاکہ پوری دنیا میں انسانی استعداد کی متوازن اور صحیح انداز میں نشو نما ہو۔ جس کا عملی نمونہ اللہ کے رسولؐنے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچ کر مہاجرین وانصار کے درمیاں مواخات قائم کرکے پیش کیا۔وسائل کی تقسیم کو لے کر آج دنیا میں کشت و خون کا بازار گرم ہے۔وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے قوانین ،معاہدوںاور جائز و ناجائز کی مٹی پلید کی جارہی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنے اندر ایک جامع پہلوسما یا ہوا ہے۔ آپ کی شخصیت کا ایک شاندار پہلوجس نے بہت سے غیر مسلموں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔وہ یہ ہے کہ ماضی اور حال میں ایسے لوگ تو بے شمار ہوتے رہے ہیںجو کسی ایک شعبہ زندگی میں قیادت کررہے ہوںاور کسی ایک شعبہ میں قیادت کے نتیجہ میں انہوں نے کامیابی حاصل کی ہو۔لیکن تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک شخص نے بالکل شروع اور آغاز سے کسی نئی چیز کا تصور دیا ہو،نئے انقلاب کی نو ید دی ہو،نیاوژن دیا ہو،زندگی کے ہر گوشے میں تبدیلی اور اصلاح کا پیغام دیا ہو،پھر اس بھر پور اصلاح اور تبدیلی کو اپنی زندگی ہی میں چند سالوں کے قلیل عرصہ میں مکمل کرکے دکھا یا ہو۔ایسا رول ماڈل پیش کیا جو باقی ماڈلوں کی طرح فلسفہ ، نظریات، تصورات اورذہنی مفروضوں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ایسا رول ماڈل جس کی ضیا پاشیوں سے دنیا میں پھیلی ظلمتیں چھٹ گئیںاور ہر سو روشنی ہی روشنی پھیل گئی۔ایک ایسا قابل عمل لائحہ عمل جس پر عمل پیرا ہو کر افراط و تفریط کی شکارآ ج کی دنیا میں پھر سے عد ل و انصاف ،ہمدردی و یگانگت کی خو شگوار فضاء قائم ہو سکتی ہے۔سیرت مبارکؐ کی یہ جامعیت ہی اسے ایک انفرادیت عطا کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کا جامع رول ماڈل ہو نا ایک ایسی منفرد چیز ہے جو دنیا میں کسی اور شخصیت کو حاصل نہیں ہے۔