سرینگر/عظمیٰ نیوز سروس/ مرکزی وزارت داخلہ کی ہائی پاورڈ کمیٹی (ایچ پی سی) نے یونین ٹیریٹری لداخ کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات اس ماہ کے آخری ہفتے میں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لداخ میں گزشتہ برس ستمبر ماہ میں مظاہروں کے دوران ہوئی ہلاکت خیز جھڑپوں کے بعد لداخی قیادت اور مرکزی سرکار کے مابین یہ پہلی بات چیت ہوگی۔ ستمبر میں لداخ میں چار عام شہری ہلاک جبکہ ایک سو کے قریب زخمی ہوئے تھے .۔جس کے بعد حالات کشیدہ رہے۔وزارت داخلہ نے لداخ کے چیف سیکریٹری کو ایک سرکاری خط میں مطلع کیا ہے کہ ’’ایچ پی سی کا اجلاس جنوری 2026 کے آخری ایام میں ہوگا۔‘‘ خط میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ارکان سے مشورہ کر کے ان کی سہولت کے مطابق تاریخیں طے کرکے وزارت کو آگاہ کیا جائے۔ایچ پی سی 2023 میں قائم کی گئی تھی، جس کی سربراہی مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیا نند رائے کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے قایم کا مقصد لیہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کرنا ہے۔ کمیٹی کا ا?خری اجلاس مئی 2025 میں ہوا تھا، جبکہ اکتوبر میں طے شدہ اجلاس اس لیے نہ ہو سکا کیونکہ لداخ تنظیموں نے مطالبات پورے ہونے تک بات چیت سے انکار کر دیا تھا، مطالبات میں ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات بھی شامل تھی۔ایچ پی سی رکن اور لیہہ ایپکس باڈی کے چیئرمین چیرنگ دورجے نے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کا ماننا ہے کہ اجلاس ’’کافی دیر سے‘‘ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق: ’’مرکزی سرکار اپنے وعدوں پر عمل نہیں کر رہی۔‘‘چیرنگ دورجے نے بتایا کہ اکتوبر 2025 میں وزارت داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ بات چیت کے دوران انہیں مطالبات کا نوٹ دینے کو کہا گیا تھا، تاکہ 2 سے 3 دن میں ایچ پی سی اجلاس طلب کیا جائے، لیکن دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد ابھی تک تاریخ طے نہیں کی گئی۔ان کے مطابق لیہہ اور کرگل کی تنظیموں سے وابستہ لداخی لیڈران کے مطالبات میں ریاست کا درجہ، لداخ میں چھٹے (Sixth) شیڈول کا نفاذ، اور تشدد کے دوران درج مقدمات میں عام معافی شامل ہیں۔ مطالبات میں ماحولیاتی کارکن سونم وانگچْک کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل ہے، جن پر نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) عائد کرکے جودھ پور جیل میں بند کر دیا گیا۔ ان کی قید کو چیلنج کرنے والی درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ایچ پی سی رکن سجاد کرگلی، جو کے ڈی اے کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے کہا کہ وہ مرکز کے ساتھ مذاکرات کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں اور اجلاس میں سونم وانگچْک کی گرفتاری اور مقامی متاثرین کے معاوضے پر بات کریں گے۔