سید اعجاز
ترال//جنوبی کشمیر کے لتہ پورہ سے پانپور تک سرینگر جموں شاہراہ کے دونوں جانب موجود سرسوںکے کھیت ان دنوں مقامی اور غیر مقامی سیاحوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے سیلانیوں اور عام لوگوں کی دلچسی کا مرکز بناہوا ہے جہاں حالیہ بارشوں کے بعدشاہراہ کے دونوں اطراف موجود کھیتوں میں سرسوں کے پھول بڑے پیمانے پر نکل آئے جو شاہراہ پر سفر کرنے والے ہر انسان کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہیں ۔عید کے پہلے دن سے چوتھی عید تک یہاں بڑے پیمانے پر لوگوں نے سڑک کے کنارے گاڑیوں کو کھڑا کر کے تصویر کھینچے اور ویڈیو بنائے ۔اس صورتحال کی وجہ سے علاقے میں زبردست رونق بڑ گئی ہے۔ کھیتوں میں کھلے سرسوں کے پھلوں کے دلکش و دلفریب نظارے سیاحوں کو گاڑیوں سے اتر کر ان کھیتوں میں تصویریں کھینچنے اور ان نظاروں میں کچھ وقت صرف کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
وادی کشمیر میں اس وقت بارشوں کے بعدکھیتوں میں سرسوں کے پھول کھلے ہیں جس سے وادی کی قدرتی خوبصورتی و رعنائی دو بالا ہوئی ہے۔ یہاں موجود کچھ لوگوںنے بتایا کہ سیاح گلمرگ۔پہلگام یا سونہ مرگ وغیرہ اسے راستے سے آتے جاتے جاتے ہیںان کا گزر یہی سے ہوتا ہے تووہ سرسوں کے کھیتوں کا نظارہ دیکھتے ہیں تو وہ گاڑیوں سے اتر کر ان نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور کھیتوں میں جا کر فوٹو گرافی بھی کرتے ہیں۔ایک سیاح نے بتایا انہوں نے یہاں صاف موسم میں دونوں طرف سرسوں کے پھول دیکھے اوراسے زیادہ بات یہ ہے کہ سروں کے کھیتوں کے پیچھے برف کے پہاڑ اس خوبصورتی میں اور اضافہ کرتے ہیں۔کشمیر کے اکثر علاقوں میں گزشتہ سال سے سرسوںکی پیداوارمیں اضافہ کے بعد لوگوں نے کھیتوں میں سرسوں بویا ہے ۔ادھر محکمہ زراعت کے مطابق سال2021کے بعد وادی میں سرسوں کی کاشت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ متعلقہ محکمے کی کاوشوں کے نتیجے میں وادی میں اس اراضی پر بھی سرسوں کی فصل اگائی جا رہی ہے جو پہلے خالی پڑی رہتی تھی۔کسانوں کے مطابق امسال مسلسل خشک سالی سے انہیں زیادہ پیداوار کی امید نہیں کی تھی تاہم بارشوں کے بعد ان کی امیدیں بڑ ھ گئی ۔