عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی//عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی بے یقینی کے درمیان سونے اور چاندی کی قیمتوں نے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ پیر، 26 جنوری کو بین الاقوامی بازار میں سونے کی قیمت 5 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح عبور کر گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ اس غیر معمولی اضافے کے ساتھ ہی ہندوستانی بازار میں بھی سونا مہنگا ہو کر ایک لاکھ 60 ہزار روپے فی دس گرام سے تجاوز کر گیا ہے۔ممبئی میں 24قیراط سونا ایک لاکھ 60 ہزار 250 روپے فی دس گرام پر فروخت ہوا، جبکہ 22 قیراط سونے کی قیمت ایک لاکھ 46 ہزار 890 روپے فی 10 گرام رہی۔ یہ قیمتیں جی ایس ٹی اور میکنگ چارجز کے بغیر بتائی گئی ہیں۔
چاندی نے بھی اس دوران نیا ریکارڈ قائم کیا اور اسپاٹ مارکیٹ میں اس کی قیمت 3 لاکھ 35 ہزار روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی۔عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ سونا 1.79 فیصد اضافے کے ساتھ 5ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، جبکہ امریکی فیوچر مارکیٹ میں فروری ڈیلیوری کے لیے سونا پانچ ہزار اڑسٹھ ڈالر فی اونس کے قریب رہا۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کا رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث طلب میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔رواں برس کے دوران سونے کی قیمتوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے اور اب تک 17 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی طور پر قیمتوں میں 64 فیصد اضافہ ہوا۔ مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل خریداری، بالخصوص چین کی طرف سے کئی ماہ سے جاری خرید، اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں بھاری سرمایہ کاری نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انتظامیہ کے حالیہ فیصلوں، تجارتی محصولات سے متعلق دھمکیوں اور عالمی سفارتی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ اسی پس منظر میں سونا ایک بار پھر سب سے محفوظ متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ امریکی ڈالر کی کمزوری اور جاپانی ین میں مضبوطی نے بھی عالمی منڈی میں سونے کو مزید تقویت دی ہے۔ہندوستان میں سونے کی قیمتوں پر عالمی نرخوں کے علاوہ درآمدی ڈیوٹی، ٹیکس اور زرِ مبادلہ کی قدر میں اتار چڑھا کا بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔ چونکہ سونا ہندوستانی معاشرت اور معیشت میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے قیمتوں میں یہ تیزی عام خریدار اور سرمایہ کار دونوں کے لیے غیر معمولی توجہ کا باعث بنی ہوئی ہے۔